“!2

خُدا کی طرف سے نشانات اوراتفاقات

ایک حقیقی کہانی جو مائیکل فلپ کی طرف سے بتائی گئی۔

آپکی سلامتی ہو:

امریکہ کی 9 کلیسیائیں جو صلیب کی طرح کے 9 نقاط ہیں۔ خُدا نے مجھے دیئے۔ یہ نقاط 39 عرض بلد اور 93 طول بلد پر ہیں۔ جو کہ امریکہ پر صلیب کی شکل کی طرح ہیں۔

یہ ایک روزنامچہ ہے۔ جو 2003 میں شروع ہوا۔ اس کی پہلی اشاعت 2008 میں ہوئی۔ اور جو سات کلیسیائیں دی گئی تھیں۔ وہ اب 9 ہیں۔ خُدا نے مجھے 2010 میں مزید 2 دو دیں۔ 7 سالوں کے قیمتی نشانات اور اتفاقات محفوظ ہیں۔ اور اب پہلی مرتبہ ایک کتاب کی شکل میں شائع ہوئے ہیں۔ اور یہ روزنامچہ مسلسل بڑھتا گیا۔ خُدا کی مرضی ہوئی تو مزید معلومات اس میں مسلسل شامل ہوں گی۔ویب سائٹ جس کا مقام ورلڈ وائیڈ ویب ہے http://www.two.cc جیسا کہ خُدا مجھے مزید نشانات دیتا ہے۔

اِس کتاب کی پیشہ ورانہ ترمیم نہیں کی گئی۔اور إس میں ہجوں اور گرائمر کی غلطیاں بھی درست نہیں کی گئیں۔ اس کو صرف میں نے ہی اپنی استطاعت کے مطابق کیا ہے۔ غالباًآپ اِس میں سے بہت سی غلطیاں پائیں گے۔ برائے مہربانی مجھے ای میل کریں،میرا ای میل ایڈریس flippstermn@yahoo.com  یا مجھے فون کریں اور مجھے بتائیں کہ وہ غلطیاں کون سی ہیں۔ اورمیں درست کروں گا۔

دیباچہ

میں چاہتا ہوں کہ میں اِس کتاب کو خداوند یسوع مسیح کے نام سے منسوب کروں۔ کہ اُس کے علاوہ نہ یہ کتاب اورنہ میں ظاہر ہوں۔روح القدس کا بہت بہت شکریہ کہ اس نے میری راہنمائی کی ۔14مئی 2003 کو میں نے اپنی پہلی 22 نظمیں اور حمدیں ویب سائیٹ پر جاری کیں۔ اور 15نومبر 2003 کو میں نے یہ کتاب"2!" ہر کسی کے دیکھنے اور پڑھنے کے لیے ورلڈ وائیڈ ویب  پر جاری کی۔ اور میں نےاُسے خُدا کے ہاتھ میں دے دیا۔ وہ اِس سلسلے میں جو چاہے کرے گا۔ اور اُنہیں اسے دیکھنے دے گا ۔ جن کو اِسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اے باپ تیرا شکریہ!

وہ نشانیاں جو میں نے خُدا سے حاصل کیں۔ وہ بڑے سادہ اور پُر لطف طریقے سے شروع ہوئیں۔اوریہ ابھی تک پُر لطف ہیں۔  لیکن جیسا کہ وہ مسلسل مجھ تک آتی رہیں۔وہ مزید حیران کن ہوتی رہیں۔ مزید نشان گرے۔ وہ آپ کو حیران کرنے کی طرف راہنمائی کرے گی۔ میں نے سوچا کہ کیا ہو گیا اور یہ صرف میرا ایک نقطہ نظر تھا کہ میں ایماندار ہو گیا۔ اور میں نے خُدا سے اِن نشانات کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ بائبل میں ہیں؟ اور میں نے خُدا سے پوچھا۔ کہ ہم اُن حیران کرنے والے نشانات کو کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ جو بائبل میں لکھے ہوئے ہیں۔ پہلے میں خُدا پر اور یسوع مسیح پر ایمان لانے والا بنا۔ اور یہ اُس وقت ہوا جب میں نے خُدا سے کہا۔ اَے خُدا میں نشان چاہتا ہوں۔ جس کو میں ایمان یافتہ لوگوں کو بتا سکوں تاکہ ایمان لانے میں اُن کی مدد کر سکوں ۔ اگر آپ مجھے نشان دیتے ہو۔ میں ہر کسی کو بتانے کی اپنی سی کوشش کروں گا۔ اور یہ کر سکتا ہوں۔  میں نے کہا میں انتظار کروں گا۔ اپنی آنکھیں اُس کی طرف لگاؤں گا اور میں نے انتظار کیا۔ اور جب نشان پُر لطف اور سادہ طریقے سے شروع ہوا۔ میرا خیال ہے۔ کہ خُدا مجھے موقع دے رہا تھا۔ کہ میں معاملے کے اختتام کو سنبھالے رکھوں۔اگر تم اُسے پکارتے ہو۔اور میں نے ایسا ہی کیا۔ میں نے اپنے خاندان والوں اور دوستوں کو بتایا۔ بہت سے ہنسے، بہت سوں نے سوچا۔  کنڈا گِٹن ،قابل نفرت تمہارا فلپ یہاں ہے۔لیکن اُس نے مجھے پریشان نہ کیا۔ کیونکہ میرا ایمان تھا۔ اور میں جانتا تھا۔ کہ کیا ہونے والا ہے۔ پس اِس کے بعد میں نے لوگوں کو بتانا شروع کیا۔ جو میں نے حاصل کیے تھے۔ جو ابھی تک بہت سادہ اور پُر لطف نشان تھے۔

میں نے اور زیادہ حاصل کرنے شروع کیے ۔اس سے کہیں زیادہ اور۔ اور پھر نشانات بہت دلچسپ اور پیچیدہ ہوتے گئے۔اور اچھائی اور نرالے پن میں عظیم تھے۔ لیکن میں لوگوں کو بتاتا رہا۔اور پھر میں نےاپنی ویب سائیٹ شروع کی۔ اور اپنی پوری گواہی اس پر جاری  کر دی۔ تاکہ تمام لوگ اُسے پڑھیں مجھے اس کی پرواہ نہیں تھی کہ لوگ اس کے متعلق کیا سوچتے ہیں۔ میرے پاس بہت سے گواہ موجود تھے کہ یہ باتیں واقع ہوئیں ہیں۔  صرف خُدا ہی ایسی باتیں ممکن کر سکتا ہے۔ میرے ذہن میں اس کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔ جیسا کہ آپ یہ کہانی پڑھ رہے ہو تم ایک نئے ایماندار کے ساتھ چلو گے۔ اور دیکھو گے۔ کہ اپنی چال میں میں کیسے آگے بڑھا اور تم دیکھو گے کہ جیسے کہانی آگے بڑھے گی نشانات کیسےاور زیادہ حیران کن ہوتے گئے۔ خُدا نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کا پُرشکوہ نشان دیا۔ کیونکہ وہ دیکھنا چاہتا تھا۔ کہ میرے دل میں کیا ہے۔ اور میں اُس کے بارے میں لوگوں کو بتانے میں کتنا دلیر ہوں وہ میرے خیالات تھے کہ اور کیوں نشانات ایسے ہوئے۔ لیکن میں نے پُر لطف اشارے کا پوچھا یہ اتنے دہشت ناک نہیں جیسا کہ تم پڑھو گے۔ خُدا نے یہ بالکل مجے ایسے ہی دیا تھا۔ وہ پُر لطف اور سادہ تھے۔ ابھی تک بڑے عجیب سے لگتے تھے۔ یہ ہمیں زمانی اور حیران کُن لگتے تھے۔ پہلے مجھے پینے کے لیے روحانی دودھ دیاگیا۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھی تو نشانات مزید حیران کُن ہوتے گئے۔ اب ہم نے گوشت حاصل کرنا شروع کر دیا۔

خُدا نے مجھے جو دکھایا اُس کے لیے میں حلیم تھا۔ یہ ایک جذبہ تھا۔ جسے میں کھو نہیں سکتا تھا۔ اور وقتوں میں عقل و فہم پر یہ ایک بوجھ تھا۔ کہ خُدا ان نشانات کے ذریعے مجھے کیا دکھانا چاہتا تھا۔ اور پھر جیسا کہ میں تبدیل ہو گیا۔ اور خُدا میں آگے بڑھا۔ میں نے نئی آنکھوں کے ساتھ روشنیوں میں بہت سی چیزیں دیکھیں۔ کچھ تضحیک آمیز تھیں۔اور بائبل کہتی ہے۔ کہ وہ ہوں گی۔ لیکن جن لوگوں نے یہ کہانی بڑے کُھلے ذہن کے ساتھ پڑھی ہے۔ تم روشن ضمیر،حیران ،مغروری سے بیزار اور متحیر ہوسکتے ہو ۔ مجھے اُمید ہے۔ کہ یہ خُداوند یسوع مسیح کے جسم کی مدد کر تی ہے۔ یہی وہ سب کچھ ہے جو میں چاہتا ہوں۔ کہ خُدا کو اس کہانی کے وسیلے سے جلال ملے۔ برائے مہربانی اس کہانی کو موقع دیں۔ اور اس کہانی کے پہلے حصہ کو پڑھنے سے پہلے ہی کوئی نتیجہ اخذ نہ کر لیں۔ برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ حیران کرنے والی چیزیں دیکھیں۔ جو وقوع پذیر ہوتی گئیں۔ جیسے جیسے میں چلتا ،بڑھتا اور مزید سیکھتا گیا۔ آپ بھی  حقیقت میں مجھ میں تبدیلی دیکھیں گے۔  میں جاتا ہوں اور اتفاقات کا راستہ حاصل کرتا ہوں۔ مزید حیران کُن اور شاندارراستہ، لفظی طور پر ۔ ۔ ۔ جبڑے گِرتے ہیں! صرف برائے مہربانی اس پوری کہانی کو پڑھے بغیر کوئی تبصرہ نہ کریں۔

نمبر2کے نشانات،چیزیں دوہرائی بلکہ لگاتار ہوتی ہیں۔

تقریباً 4 مہینے پہلے ، یہاں تک کہ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا۔ کہ درست طریقے سے دُعا کیسے کی جاتی ہے۔ لیکن اتنا ضرور تھا۔ کہ میں نے اِس کے بارے میں سُنا اور پڑھا تھا۔ میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ دِل میں محسوس ہوتا ہے۔ اور صرف یہ پوچھتا ہے کہ خدا سے دُعا یسوع کے نام سے مانگنا ۔ میں نے حال ہی میں بہت سی باتوں کے لیے دُعا کی ۔ اور اُن میں ایک خدا سے نشان کے بارے میں تھی۔ میں نے اُسے پُر لطف نشان کے بارے میں پوچھا میں نہیں چاہتا تھا۔ کہ آسمانی بجلی کی لہریں میری آنکھوں کے سامنے ایک درخت کو چیر پھاڑ دیں۔اگرچہ میں جانتا تھا کہ وہ ایسا بڑے اچھے طریقے سے کرے گا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں کوئی ایسا نشان حاصل کروں۔ جو سمجھ سے باہر ہو۔ میں نے ایسا کیوں کیا؟ تم یہ سوال کر سکتے ہو۔ کیونکہ اُس وقت میں نے اپنے دِل میں محسوس کیا کہ وہ مجھے وہ دے گا جو میں نے اُس سے پوچھا ہے۔ میں نے ایک تازہ اور نیا ایمان پا لیا ہے۔ جو کہ وہ تھا۔ میں نہیں جانتا تھا۔ کہ یہ کب ہو گا۔ میں نے اُسے بتایا کہ مین ایک ہفتہ انتظار کروں گا۔ یا ایک ماہ یا ایک سال یا 2 سال ۔ لیکن میں انتظار کروں گا۔ پس میں نے ایسا ہی کیا۔ اور پھر یہ انتظار اور دیکھنے کے صرف دو ہفتوں کے بعد ہوا۔ اور نشان میری سوچ سے زیادہ بڑا تھا۔ اور یہ یقینی طور پر ایک مزے والا نشان تھا۔ میں نے صرف نشان ہی نہیں لیا۔ میں نے 2 حاصل کیا۔ پہلا نشان 1 جیسا تھا۔ جیسے کہ ایک ارب میں سے ایک گولی جو چلائی گئی۔ دوسرا نشان آیا۔ نہ صرف آیا بلکہ یہ نشان 2 کی شکل کا بھی تھا۔ اور حیران کُن با ت یہ تھی کہ نشانات ابھی آ رہے تھے۔ خاص طور پر 2 ایسے ظاہر ہو رہے تھے۔جیسے ایک ہی وقت میں جنگلی آگ ۔ یہ نہ صرف جوڑوں میں چیزیں اتفاقیہ ہو رہی تھیں بلکہ حقیقت میں نمبر 2 ، چیزیں دہرائی جا رہی تھیں۔ اور لگا تار ہو رہی تھیں۔ میں اِس پر یقین کرتا ہوں کہ مجھے یہ ضرور کہنا ہے۔ کہ میں اِس سے ہر منٹ میں لطف اندوز ہوا۔ یہ واقع ہی بہت شاندار ہے اور حیرت انگیز طور پر بہت اچھے۔ جو کہ مجھے ہر ایک سے شیئر کرنے چاہیں۔ لیکن میں کسیے کر سکتا ہوں؟ تو پھر ہر کسی کو کیا کرنا ہو گا۔ اگر وہ گواہ ہیں۔ کہ میں کیا تھا۔

پہلی بات جو شاید تم سوچو وہ یہ ہے۔ کہ کوئی بھی اِسکا یقین نہی کر رہا۔‘‘ لیکن اگر تمہارامشاہدہ کافی ہے۔ اور دوسرے ثبوت بھی ہیں ۔ تو میرا اندازہ ہے۔ کہ تم مخالفت نہیں کر سکتے۔ پہلی بار جب میں نئے ایماندار کے طور پر چرچ گیا۔ میں نے معجزانہ طور پر یہ دیکھا۔ کہ وہ پینتی کوست تھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ اُس کا مطلب کیا تھا۔ لیکن اس دِن میں نےاِس بارے میں سیکھا ۔ اُس دِن بطور نئے ایماندار کے پہلی دفعہ چرچ جانے کی حقیقت بذاتِ خود اس کا نشان ہونا تھا۔

یسوع مسیح کواپنا نجات دہندہ قبول کرنےکےبعد

خداوند یسوع مسیح کے ساتھ چلنے کی ابتداء میں جب میں نے یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ قبول کیا اور اپنے گناہوں سے توبہ کی۔ مجھے یقین ہے کہ گناہوں کی فہرست بہت لمبی تھی۔ آپ میں سے جو مجھے جانتے ہیں۔ اچھا بہت خوب۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی بالکل کامل ہوتا ہے۔ لیکن آگے بڑھو اور ہنسو ۔ کیونکہ وہ فہرست بہت لمبی تھی۔ اور میں نے اُن تمام گناہوں سے توبہ کی ۔ سچی توبہ آپ کو اپنے گناہوں سے موڑ دیتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ تم نے توبہ کی اور اپنے گناہوں کو سبھی کو بتا دیا۔ بلکہ یہ کہ دوبارہ ایسے گناہ نہیں کرنے۔ میں ٹوٹ گیا اور ایک رات رویا۔ ایک ایسی رات جس میں مجھے نہیں لگتا کہ رونے جا رہا تھا۔ اور اُس رات میں یقینی طور پر یسوع مسیح کو جانا۔ میں دوبارہ پیدا ہوا اور دوبارہ دھل گیا۔

20 اپریل 2003

مجھے یاد ہے۔ کہ جب ایسٹر آیا تو میں نے اپنے خاندان کے ساتھ گزارا۔ میری امی بھی ہمارے پاس آئیں اور میرے سُسر بھی ہمارے پاس کھانے پر تھے۔ یہ بہت پُر سکون دِن تھا۔اور ہم نے ایک بہت اچھا کھانا کھایا۔ میرا خیال ہے۔ کہ یہ ایک بہت اچھا دِن تھا۔ مجھے لگا کہ جیسے میں نے ایک نشان حاصل کیا۔ یہ بہت اچھا دِن تھا جب مجھ پر یہ ظاہر ہوا کہ یسوع مسیح نے ہم سب کے لیے کیا کیا ہے۔ یسوع مسیح تیرا شکریہ! لیکن اس دن میں نے کوئی نشان نہ دیکھا ۔ اور کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا۔ ہم نے اُسے دیکھا یا اس میں کچھ دیکھا اور یہی کچھ ہے جو اس اتوار کے بارے میں مجھے یاد ہے۔ یہ چار مہینے پہلے تھا۔ اس کے ایک ہفتے بعد اتوار کو،

اتوار27 اپریل 2003

تقریباً6:30  شام کو میں اور میرا بیٹا ہم مشرق کی طرف اپنی زمین سے تفریح سے واپس آ رہے تھے۔ یہ ایک بہت اچھا دن تھا۔ سورج چمک رہا تھا۔ اور سڑک پر کوئی دوسری کار نہیں تھی۔ مجھے لگا کہ میرے بیٹے اور مجھے سیٹ بیلٹ باندھ لینے چاہیے اورہم ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے۔ لیکن کبھی کبھار ہم سستی کرتے تھے ۔ میں نے اُس کے بارے میں مزید سوچا اور میں نے اُس علاقے میں د یکھا۔ میں گاڑی چلا رہا تھا۔ اور میں نے اپنے آپ سے اُن کے بارے میں بات کی اور جب میں نے اُس کے بارے میں سوچا کہ کتنا شاندار ہے کوئی بھی پاس نہیں تھا بنیادی بور پر ہم اکیلے تھے۔ اور میں حد رفتار میں ہی گاڑی چلا رہا تھا۔ ہم پہلے اچھے ہی ہوں گے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا۔

عین اُس وقت جب میں نے یہ سوچا ۔ میں نے ایک سُرخ پک اپ ٹرک اپنی جانب آتے دیکھا۔ تقریباً ہمارے سامنے وہ چوتھائی میل کے فاصلے پر تھا۔ میں نے اپنے آپ میں سوچا۔ مجھے یقیناً اس ٹرک کو دیکھنے کے لیے جانا چاہیے۔اور اِس پر خاص نظر رکھنی ماہیے۔ پتہ نہیں میرے ذ ہن سےکیسے حفاظتی پٹی کا سبق ختم ہو گیا۔ میں جانتا تھا کہ میں اپنے ذہن میں اس ٹیسٹ میں ناکام ہو چکا ہوں۔ اِس ٹرک نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔ جب وہ ٹرک روڈ کے تارکول والے حصہ میں چلا گیا۔ اُس کے مسافروں کی طرف والے ٹائیر بجری کی ایک چھوٹی پٹی میں چلے گئے۔ جیسے کہ ایک سرحدی لائین جو مینوسوٹا کے دو ملکوں پائین اورکارلٹن کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اُس وقت ٹرک ہمارے سامنے تقریباً 100 یا 200 فٹ کی دوری پر تھا۔ اور ہماری طرف آ رہا تھا۔ جبکہ ہم اُس کی طرف 55 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہے تھے۔

اب جو ڈرائیور بہت ہی اچھا ڈرائیور ہو اور حقیقت میں ماہر ہو۔ وہ یقیناً تار کول کی بجائے پہلی لائین میں سفر کر رہا ہوتا۔ کیونکہ ڈرائیور نے کار کو دوبارہ تارکول پر آنے کے لیے جھٹکا نہیں دیا۔ پک اپ ٹرک بڑے آرام سے تارکول پر آہستہ سے آ گیا۔ اور پھر اُتنے ہی آسانی سے جتنی کہ ہو سکتی تھی وہ دوبارہ سڑک پر آ گیا۔ ٹرک میرے پاس سے اور میں اُس کے پاس سے 55 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرے۔ ٹرک مشرق کو جا رہا تھا۔ جبکہ میں مغرب کو۔ایک ہلکا سا خیال ! ہم سیدھے جا رہے تھے تب میں بہت مطمئن ہوا جب اُس ٹرک کے ڈرائیور نے سُرخ پک اَپ کو قابو کر لیا ۔ بعض اوقات آپ کو بالکل بھی پتہ نہیں ہوتا۔

اُس ٹرک کے پاس سے گزرنے کے بعد یقینی طور پر 2 یا 3 سیکنڈ گزرنے کے بعد میں نے اپنے ٹرک کی ونڈ سکرین پر کسی چیز کے زور سے ٹکرانے کی آواز سُنی۔ میں نے سوچااوہو یہ کیا ہے؟ میں نے اپنے سامنے ونڈ سکرین کودیکھا۔ لیکن وہاں پر کچھ بھی نہ تھا۔ لیکن یہ یقینی بات تھی کہ کوئی پتھر ہماری گاڑی کی ونڈ سکرین سے ٹکرایا تھا۔ لیکن میں نے کوئی نشان کوئی دراڑ یا کوئی نقش نہیں دیکھا۔ میں نے پیچھے دیکھنے والے آئینےکے ذریعے سے پیچھے ٹرک کو دیکھا۔ تو وہ ہم سے کوئی دو فٹ بال گراؤنڈ کے فاصلے پر تھا۔ میں نے اپنے اِرد گِرد نظر دوڑائی لیکن وہاں پر کچھ بھی نہیں تھا۔لیکن صرف کھیت اور لکڑیاں تھیں۔ میں نے اپنے بیٹے سے پوچھا۔ کہ کیا تم نے کسی چیز کو ونڈ سکرین سے ٹکراتے ہوئے دیکھا اوراُس نے کہا ہاں اور اُس نے ونڈ سکرین کے دائیں طرف نیچے کی طرف اشارہ کیا اور ونڈ سکرین میں لکڑی دکھائی ۔ جو سکے کے ناپ کا تھی۔

میں نے اندر ہی اندر سوچا، یہ تو بڑا ہی عجیب ہے ۔ ۔ ۔ بڑا ہی عجیب میں نے اپنے ذہن میں آنے والے واقعات کے متعلق دوبارہ سے سوچنا شروع کیا اور اُن کا درست نتیجہ  نکا لنے کی کوشش کی۔   میں نے منطقی لحاظ سے محسوس کیا۔ کہ چھوٹی سرخ پک اپ نے چٹان کو ٹھوکر ماری۔ جب یہ تارکول سے زور دار طریقے سے ٹکرایا۔ اِس نے چٹان کو اوپر بہت اوپر کی طرف ٹھوکرماری ۔ اور اُس سے بہت پیچھے جہاں میں گاڑی چلا رہا تھا۔ جہاں بالکل ہمارے اوپر چٹان آئی۔ میں نے بالکل اُس کے نیچے بلکہ اُس کے اندر گاڑی چلائی۔ میں تیز رفتار کے ساتھ ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ اور چٹان میری طرف آ رہی تھی۔ جیسے ہی چٹان پک اپ سے ٹکرائی پک اپ 50 سے 100 فٹ اُس سے بھی زیادہ بلند ہوئی۔ چٹان تھوڑی دیر تک ہوا میں ٹھہری رہی۔ اور یہ اگلے 2 سے3 سیکنڈ تک 55 میٹر فی گھنٹہ تک جاری رہا۔ میں نے بالکل سانئسی مشاہدے کے طریقے سے صاف طور پر ٹائروں کے نیچے سے چٹان کو عجیب و غریب طریقے سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ جو ہوا میں کِسی جھونکے کی طرح لہلہاتی ہوئی ہوا میں بہت اوپر تک گئی۔ اتنی تیز کہ اُس کے سامنے سکول میں سیکھی ہوئی میری تمام ورزشیں مانند پڑ گئیں۔ میں یہاں پر کِسی اور چیز کا اضافہ نہیں کروں گا۔ مجھے اُمید ہے۔ کہ جو آپ کو بتانا چاہتا  ہوں۔ آپ کو اُس سے واقفیت تو ہو گئی ہو گی۔ اِس جیسے نظارے جب کبھی زندگی میں آتے ہیں۔ تو وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ نشان چونکا دینے والا تھا۔ چٹان جیسے معجزات بہت کم ہوتے ہیں۔ دوسری عجیب بات یہ ہوئی کہ آسمان سے سیدھی میری گاڑی کی ونڈ سکرین پر گری۔ ایسے معجزات کبھی کبھار ہوتے ہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اُسے کِس نظر سے دیکھتے ہیں۔

اِس کے بعد یہ تمام باتیں میرے ذہن میں بیٹھ گئیں۔ اور میں بار بار اُن کو یاد کرنے لگا۔ میں نے یہ سب کچھ اپنے بیٹے کو بتایا۔ اور کہا مائیک ہمیں اپنے سیٹ بیلٹ باندھ لینے چاہیے۔ یہ بہت عجیب تھی کہ یہ کیسے ہوا یہ ایک قسم کا نشان ہے۔ مائیک بغیر کوئی لفظ کہے راضی ہو گیا۔ وہ اوپر پہنچا تو اُس نے اپنے آپ کو سیٹ بیلٹ میں باندھ لیا۔ اورمیں نے بھی اپنا سیٹ بیلٹ  پکڑا اورباندھ لیا۔ ہم دونوں نے سیٹ بیلٹ بغیر کوئی دیر کئے باندھ لیے۔ اِسی دوران 3 جنگلی ہرن اچھلتے ہوئے کھلی گھاس میں سے ہوتے ہوئے لکڑیوں کی طرف سے سڑک کے کنارے پر آ گئے۔ تو میں اُن کی وجہ سے تھوڑا سا پریشان ہو گیا۔ لیکن وہ ہماری طرف آتے رہے۔ ہم نےایک دوسرے کو دیکھا اور کہا اووہ وہ تو بہت قریب تھا تب ہم دونوں بہت خوش ہوئے۔ کہ ہم نے تو پہلے ہی سیٹ بیلٹ باندھ لیے تھے۔

میں نے سوچتے ہوئے یاد کیا اے باپ مجھے پیغام مل گیا ہے۔ جب چیزیں ہمارے قابو سے باہر ہو رہی ہوں جو ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں تو ہمیں اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لینی چاہیے، یہ قانون ہے، ہمیں اُنہیں باندھ لینا چاہیے۔ اُن کی نشاندہی کا شکریہ لیکن میں نے سوچا نہیں تھا۔ کہ چٹان میرے ٹرک کی ونڈ سکرین سے ٹکرائے گی۔ حقیقت میں یہ ایک نشان تھا۔ جو میں نے خُدا سے مانگا تھا۔ اس کے عجیب طریقے سے ہونے کی وجہ سے یہ یقینی طور پر ایک نشان تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ اِس میں بھی میرے لیے ایک سبق سے بہت زیادہ ہے۔ اِس کے ساتھ مجھے اپنے بیٹے کے لیے ایک اچھی مثال قائم کرنی تھی جو کہ اپنے اندر ایک اور سبق رکھتا تھا۔ ہم گھر پہنچے تو میں نے اپنی بیوی کو بتایا کہ کیا ہوا ہے۔

4 مئی 2003

ایسڑ کے بعد دوسرے اتوار کو (اس سال کے باقی دِن بھی ایسٹر کی سچائی کے دِن کہلاتے ہیں۔) مجھے 2 کے نشانات کا ایک اور سلسلہ ملا۔ شام تقریباً8:30 تک مجھے نہ کوئی چیز اور نہ ہی کوئی نشانی ملی تھی۔ جو میں نے پہلے کبھی محسوس کی ہو جو اب میرے ساتھ ہو رہی تھی۔

اُسی وقت میں ایک نزدیکی جنرل سٹور پر گیا۔ اور میں نے تھوڑا دودھ ایک اور اخبار خریدا۔ اور چییز اور اِسی قسم کی دوسری اشیاء خریدیں۔ میں دودھ والے حصے میں گیا مجھے یاد ہے کہ میں دودھ کو ڈھونڈ رہا تھا۔ میری بائیں طرف گائیوں کا ہارمون کے بغیر دودھ تھا۔ اور دائیں طرف گائیوں کا وہ دودھ تھا جو ہارمون کے ساتھ تھا۔ ( جو استعمال کے قابل تھا۔) میں نے سوچا کہ زیادہ پیسے دے کر ہارمون کے بغیر دودھ خرید لوں۔ میں اندر ہی اندر مُسکرایا۔ کیونکہ میں جانتا تھا۔ کہ ایسے ہارمون جوانوں اور عورتوں کے لیے ہوتے ہیں۔ میں کولر کے پاس پہنچا جو میں نے 1%ایک فی صد دودھ کا گیلن اُٹھا لیا۔ جو کم چربی والا تھا۔ میں ہمیشہ 1%ایک فی صد والا دودھ ہی پیتا تھا۔ ہم دس سالوں سے بلکہ اُس سے بھی زیادہ عرصے سے اپے خاندان کے لیے 1%ایک فی صد دودھ لیتے تھے۔ جب میں چھوٹا تھا بچہ تھا۔ تو میں اکیلا ہی 1% والا دودھ لیتا تھا۔ تب میری والدہ نے% والا دودھ لینا شروع کیا۔ اُس کے بعد میں نے چکنائی کے بغیر دودھ لینا شروع کر دیا۔ اور سوچا کہ دودھ بُری  چیز نہیں ہے۔ اور میں بالائی اُترا دودھ لینے کی کوشش کی جو میرے لیے پانی کے ذائقے جیسا تھا۔  اسِ لیے 1% والا دودھ ہی میرے لیے کافی تھا۔ یہ بھی دودھ کی ایک قسم ہے جس میں چکنائی  0 % ہوتی ہے۔ ( سالوں بعد میں نے یہ لکھا۔ اب میں مکمل دودھ لیتا ہوں۔ کچھ وجوہات کی بناء پر میرا معدہ اسے برداشت کر لیتا ہے۔)

میں نے کولر سے دودھ کا ایک گیلن نکالا اور ساتھ میں چییز بھی ( اور میرے خیا ل میں یہ چییز ہی تھا) اور میں بل ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر کی طرف گیا۔ میں نے خزانچی کو بتایا کہ میں نے اپنے راستےسے اُن کے دروازہ کے باہر سٹاک سے اخبار خریدنا تھا جو کہ وہاں تھے۔ اِس لیے اُس نے اشیاء کو بیگ میں ڈال دیا۔ میں نے بل ادا کیا۔ ار اپنی چیزیں دائیں اور بائیں ہاتھ میں اُٹھائیں اور اخبار کے سٹور پر گیا۔ اور ایک اخبار اُٹھا لی۔ میں نے اُس کو ایسے دبایا جیسے میں اُس کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ اُس کو بیگ کے اندر رکھ لیا۔ میں چیزیں بیچنے والی کِسی بھی مشہوری کو کھو نہیں سکتا تھا۔ یہ ایک خاص وہ وجہ تھی۔ میں نے اخبار خریدا اور گھر پہنچا۔ گھر پہنچ کر میں نے ٹرک کا پیچھے والا دروازہ کھولا تو سب سے پہلے اخبار کو پکڑا تب میں نے نوٹ کیا کہ وہ ایک نہیں 2 دو تھیں۔ کہ اوہ ہو میں نے ایک اخبار چرا لیا ہے. ( یہ حادثاتی طور پرہوا) مگر حقیقت یہ ہے۔ کہ کِسی طرح میں نے دو 2 اخبار پکڑ لیے ہوں گے۔ اور میں نے پیسے ایک کے ہی دیے ہوں گے۔ جو اب میرے پاس ہے۔ میں نے سوچا میں مفت خور ہوں اگر خزانچی نے مجھے دو 2 اخبارات اُٹھاتے ہوئے دیکھ لیا ہوتا تو سٹور سے نکلتے ہوئے وہ مجھے کندھے سے پکڑ لیتا۔ یقیناً وہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ایک اخبار چرانے کے لیے جلدی سے اخبار اُٹھایا۔ میں گھر گیا۔ اور باورچی خانے کے کاؤنٹر پر تمام کھانے کی اشیاء کا بیگ رکھ دیا۔ تب میں سونے والے کمرے میں چلا گیا۔ جہاں پر میری بیوی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ میں نے اُسے اخبار کے واقعہ کے بارے میں بتایا۔ جو میں نے حادثاتی طور پر فالتو اُٹھا لیا تھا۔ اور میں خود بہت بُرا محسوس کرنے لگا۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی میری اخبار والی چوری کے متعلق جانے۔ میری بیوی نے مجھ سے اخبار کی قیمت کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا تقریباً 40 یا اس سے زیادہ کہ وہ راتوں رات تمام اخبار نہیں بیچ سکتے بلکہ وہ سوموار کے اخبارات میں ڈال دیں گے۔ میں اُس بات پر راضی ہو گیا۔ مگر خود میں بُرا محسوس کرتا رہا۔ میں واپس سٹور پر جا کر اخبار واپس کرنا چاہتا تھا۔ یہ بات میرے لیے شرم ناک تھی۔ لیکن ایسا کرنے سے میرا ضمیرتو صاف ہوگا۔

تب اُسی وقت میرا بیٹا باورچی خانے سے چلایا۔ ڈیڈی! آپ 2%  والا دودھ کیوں لائے ہو۔ می نے اُس سے کہا کہ میں 2% والا دودھ نہیں لایا میں تو ہمیشہ 1% والا ہی دودھ لاتا ہوں اچھا اس بیگ میں تو 2%  والا دودھ ہے۔ اپنی یاداشت پر زور دو میں نے کہا۔ کہ میں آپ کو اِس کی وضاحت کیسے دوں میں خود یقین دہانی کے لیے باورچی خانے میں گیا۔ وہاں پر 2%  والا ہی دودھ تھا۔ میں وہیں بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔ کتنی عجیب بات ہے۔ میں اپنی سوچ پر قابو پاتے ہوئے بالکل اُسی جگہ پر گیا۔ سوچنے لگا کہ میں سٹور پر جاؤں ۔ میرے لیے یہ دونوں باتیں بڑی عجیب تھیں۔ میں سوچ رہا تھا۔ کہ یہ دونوں چیزیں واقع ہی عجیب تھیں کہ میں سٹور پر جاؤں۔ یہ دونوں باتیں جو ہوئیں یہ غلطی سے ہوئیں۔ میں نے سوچا کہ ایک بات تو غلطی سے ہوسکتی ہے۔ لیکن دو 2 اکٹھی چیزوں کا ہو جانا یہ غلطی بڑی عجیب بات تھی۔ تب میری بیوی نے کہا یہ مسلسل دوسرا اتوار ہے کہ آپ کے ساتھ عجیب و غریب باتیں ہو رہی ہیں۔ میں نے کہا ہاں تم ٹھیک کہتی ہو. پھر میں نے اپنے بیٹے سے کہا۔ ’’ آج ہم نے پورے دِن کیا کیا کیا؟ صبح ہوتے ہی ہم ٹیپ بال ٹورنامنٹ کے لیے کلوکیوٹ ایم این گئے۔ میں تو اپنے دوست مائیک ڈبلیو، جیف ، ڈِک اور روچی کے ساتھ سینٹ پاک کی ویسٹ سائیڈ والی اُس کی ٹیم میں تھا۔ جیف ونڈی کا شوہر تھا اور ڈِک ونڈی کا سسر تھا۔ میں نے ونڈی کے ساتھ جیل میں کام کیا تھا۔ روچی میری مقامی باؤلنگ ٹیم میں تھا۔ یہ دوسرا سال تھا جب میں نے ٹورنامنٹ میں باؤلنگ کی تھی۔  اور یہ میرے دوست مائیک ڈبلیو کا بھی دوسرا سال تھا۔ کہ اُس نے ٹورنامنٹ میں باؤلنگ کی تھی۔ میں نے ٹورنامنٹ کی 4 گیموں میں باؤلنگ کی تھی۔ یہ کوئی خاص بات نہیں تھی۔ میں نے انعام جیتنے کے لیے تو زیادہ سکور نہیں کیا تھا۔ میرے بیٹے نے کہا کہ یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن حیران کُن طور پر اُس نے میری توجہ اُس جانب کی کہ آپ کی کچھ گیموں میں باؤلنگ 2 – 180 اور کچھ گیموں میں 2 – 230 کی۔ میں نے کہا ووو مائیک میرا اندازہ ہے کہ تم ٹھیک ہو۔ ہم نے آج اورکیا کیا کیا؟ پھر اُس نے مجھ سے کہا ہم پھر آئے اور ہم نے ڈبے والی ہاکی کھیلی۔ ہم نے دو 2 گیمیں کھلیں۔ پھر میں نے کہا، اور میں نے وہ دونوں جیتیں۔ اور میں اُسے تھوڑا سا ہنسنے کے لیے راضی کر لیا۔ اچھا ہاں، میرا اندازہ ہے کہ ہم نے یہ کیا، میں ہمیشہ تمہیں اُس گیم میں شامل کرتا تھا۔ تاکہ کچھ نیا نہ ہو ہا ہا ہا! میرے بیٹے نے میری طرف ایک ہلکی سی آواز ایک چھوٹی سی بد تمیزی کرتے ہوئے کہا، ابوکیا ہم نہیں؟ ٹھیک ہے ٹھیک ہے  میں نے کہا۔ ہم نے اُس کے بعد کیا کیا؟ اُس نے کہا، ابوآپ تھوڑا سا سوئے ، لیکن آپ ٹھیک دو 2 گھنٹوں تک سوئے‘‘ کیا واقع میں نے سوال کیا۔  تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ ٹھیک دو 2 گھنٹے ہی تھے۔ اُس نے کہا ،’’ کیونکہ میں نے گھڑی دیکھی تھی اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اُسے دوبارہ بھی دیکھا تھا۔ جب امّی رات کے کھانے کے ساتھ واپس گھر آئیں تھیں۔ اِس مرحلے پر چیزیں ٹویلائیٹ زون کی قسط کی طرح شروع ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔ ہم نے صرف ایک دوسرے کو دیکھا اور سوچا کہ آگے کیا ہے؟ میں وہاں پر بیٹھ گیا اور ایک منٹ کے لیے چیزوں کے متعلق سوچا۔ ہم ڈنر کب کریں گے؟ میں نے اپنی بیوی اور بیٹے سے کہا ، امّی آربے کے گائے کے بُھنے ہوئے گوشت کے سینڈوچ لائی ہیں۔ وہ بِک رہے تھے 5 ڈالر کے5 ۔ انہوں نے 2 دو خاص خریدے اور 10 سینڈ وچوں کے ساتھ گھر آئیں۔اور آپ جانتے ہیں کیا؟  میں نے اُن میں سے 2 کھائے اور 2 پیکٹ آربے کی چٹنی استعمال کی۔ ہم سب ہنس پڑے۔ عام طور پر میں اُس طرح کے 3 یا 4 سینڈ وچ کھا لیتا ہوں ، لیکن آج، میں نے صرف دو 2 کھائے۔ وہاں ہم دوبارہ سوچنے لگے۔ ووو ، یہ واقع ہی بہت عجیب تھا۔ میرا سر اُس بچے کی طرح چکرا رہا تھا جو اپنے سالگرہ کے پیسوں کے ساتھ سٹورپر جو اُس نے اپنے دادا دادی سے ملےتھے لے کر  پر گیا۔اور کوئی بھی اُس کی مدد کرنے کےلیے وہاں نہیں تھا کہ وہ کیا خریدے اور کیا نہ خریدے۔ مجھے یاد ہے جب میں بچہ تھا۔ اور میرے پاس چوتھائی ڈالر تھا ، میں کومر سٹور پر گیا اور پینی کینڈی کا ایک پورا تھیلا خریدا۔ تم کینڈی کی بہت ساری مختلف اقسام لے سکتے ہو۔ میں نے اپنا تھیلا بھر لیا اور اپنے دوستوں کو تلاش کرنے نکلا۔ اور ہم دوستوں نے مل کر کینڈی کی دعوت اُڑائی! یہ بڑا پُر لطف تھا۔ میں سوچ رہاتھا۔ کہ میں کس طرح اپنے دوستوں کو یہ پُر لطف کہانی بتاؤں گا۔

اب میں اِس مرحلے پر تھا۔ کہ میں نے حقیقی طور پر کچھ روحوں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ یہاں اور وہاں میں نے صرف یہ جانا کہ  میں کسی مافوق الفطرت قوت کے درمیان تھا۔ میں نے صرف یہ جانا کہ یہ خدا کی طرف سے میرے لیے نشان تھا۔ جو میں نے خُدا سے مانگا تھا۔ میں نے خُدا سے ایک پُر لطف نشان مانگا تھا۔ یہ بڑا خوف زدہ کرنے والا نہیں تھا، لیکن ایسا نشان جس کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے جیسے یہ بے مقصد عمل میں آیا۔ مجھ پر خوشی کے احساسات کے غالب آ جانا محسوس ہونا شروع ہو رہا تھا۔ میں نے اِس پر کچھ مزید سوچا اور میرا بیٹا میری طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر میں نے کہا، یہ نشان لگتا ہے ! کیا ہوگا اگر میں نے اُس پر دھیان نہیں دیا ؟ کیا میں اِسے جان پایا؟ کیا میں اُس کی نشاندہی کر پایا؟ پھر میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ کہ میں اپنے جیبوں کا چیک تو کر لوں۔ ( اب میں نے جانا کہ جب یہ خیال اس طرح سے میرے ذہن میں آئے تو اِس کی کوئی وجہ تھی۔ اور کہ خُدا کا روح القدس کے ذریعے سے میرے ساتھ رابطہ کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ میں انہیں خیالات میں بہتا گیا۔ اور اونچی آواز میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی کو بلایا، اِس وقت میری جیبوں میں کیا ہے؟ میں نے صرف یہ جانا کہ یہاں پر کچھ اور چیزوں کے 2 ہیں۔ انہوں یہ دیکھنے کے لیے بے تابی کے ساتھ انتظار کرتے ہئے مجھے دیکھا۔ کہ اب مجھے کیا ملے گا ؛ میں کرسمس کی صبح کو ایک پُر جوش بچے کی طرح اداکاری کر رہا تھا! میں نے اپنی بائیں طرف کی جیب میں دیکھا اور کچھ بھی نہ پایا۔ میں نے اپنی دائیں طرف والی جیب میں دیکھا ۔( بے شک یہ دوسری جیب تھی جس کو پکڑا) اور 2 کاغذوں کے کوپن نکلے۔ یہ وہ والے کوپن تھے جو مقامی جوئے خانے والوں نے باؤلنگ ٹورنامنٹ کے تعاون کرنے والوں کے طور پر ہر باؤلر کو دیے تھے۔ ہر باؤلر کو ایک کوپن ملا تھا۔ یہ کوپن جوئے خانے کا مفت چوتھائی لینے والا ایک کھلا کتابی کوپن تھا۔ اور کھیلنے کے میز پر یہ ایک میچ کھیلنے والا کوپن تھا۔ وجہ یہ تھی کہ میرے پاس 2 کوپن تھے۔ ایک روچی کا تھا۔ جس کے ساتھ میں نے اُس دن صبح کے وقت باؤلنگ کی تھی جسے میں لینا نہیں چاہتا تھا۔ اُس نے مجھے کہا کہ کیا میں اسے لینا چاہتا ہوں میں نے کہا یقیناً۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میں وہاں جاؤں گا بھی ، لیکن میں نے ماضی میں ایسا کیا ہے، پس میں نے اُسے لے لیا اور اُسے اپنی جیب میں ڈال لیا۔ عام طور پر میں چابیاں، سانس کی سہولت کے لیے پودینہ ، اور جوش خون کے لیے دوسری اشیاء تبدیل کر لیتا ہوں۔ لیکن اب صرف یہ دو 2 کوپن ہی نہیں کیے۔ جیسا کہ ہم سب دوبارہنسے کہ یہ کس طرح عجیب ہو رہا ہے۔ میں سوچ رہا تھا۔  یہ کتنا پُر لطف تھا! کیا یہ ختم ہو گیا؟ کیا یہ مزید ہے؟ یہاں تک کہ میں نےکوپن استعمال بھی نہیں کیا تھا۔

میرا بیٹا باورچی خانہ میں گیا۔ اور جب وہ جا رہا تھا تو اُس نے کہا۔ ابو اب آپ پریشانی سےباہر ہیں اور ہم دوبارہ ہنس دئے۔  کیا تمہیں لگتا ہے کہ اچھا نہیں ہے میں نے اُس سے پوچھا اُس نے ایسے عمل کیا جیسے یہ سب کچھ عجیب ہے۔ میری بیوی بیڈ روم میں تھی جہاں پر وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں نے اِس تمام کہے ہوئے پر محسوس کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ حقیقی طور پر ایک نشان ہے۔ وہ سوچ رہی تھی۔ جی ہاں، صحیح ، ٹھیک ہے۔ جو بھی ہو۔ پھر میں نے اُس سے کہا کہ جلدی سے ٹی وی ریموٹ کنٹرول پکڑیں اور چینل نمبر 2 لگائیں ، اسی وقت۔ میں نے اُسے پُر جوش طریقے سے کہا کہ جیسے کہ اُس پر کچھ نیا آنے والا ہے۔ کہ یقینی طور پر 2 کے ساتھ کچھ ہونے والا ہے۔ اُس نے ریموٹ کنٹرول اُٹھایا اور اُسے ٹی وی کی طرف سیدھا کیا اور بٹن دبا دیا۔ میں بڑے شوق سے ٹی وی دیکھنے لگا۔ اور کچھ بھی نہ دیکھ سکا۔ لیکن پھرنے دیکھا کہ اوپر والے کونے میں 1 اُبھرا ۔ پھر میں نے اپنی بیوی سے کہا، ہنی چینل 1 نہیں بلکہ چینل نمبر 2 لگاؤ اُس سے غلطی ہو گئی تھی۔ کہ جلدی سے چینل تبدیل کرنے کی وجہ سے اُس نے چینل نمبر 1 لگا دیا۔ یہ دیکھ کر کہ چینل نمبر 1 پر کچھ بھی نہیں آ رہا چینل نمبر 1 نہ لگا اور ٹی وی کے خود کار نظام نے دوسرا چینل لگانا شروع کر دیا۔ اُس نے جلدی سے دوبارہ ریموٹ کنٹرول پکڑا اور پھر تیزی کے ساتھ دو دفعہ 1 کو دبا دیا اور چینل نمبر 11 لگ گیا۔ اب اگر وہ شاید آدھا سیکنڈ انتظار کرتی۔ تو پہلا 1 جو اُس نے دبا ہوتا تو وہ لگ جاتا۔ جب تم ریموٹ کنٹرول کا کوئی بٹن دباتے ہو اور تھوڑی دیر تک اگر تم اُس مخصوص وقت میں کوئی دوسرا بٹن نہیں دباتے تو یہ وہی چینل لگا دیتا ہے۔ اب د یکھیں کہ وہ کتنی تیز تھی اور اُس نے کتنی جلدی سے بٹن کودو دفعہ دبایا تھا۔ اسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حادثاتی طور پر ریموٹ کو غلط بٹن 1 کو دو دفعہ یا مسلسل دبا دینا۔

کیا میری بیوی اور میں نے دیکھا کہ ٹی وی ایک مزاحیہ پروگرام ہے جس کے لیے انگریزی میں اس کا نام معلوم نہیں لیکن میں اپ کو یہ بتاؤں گا جتنا  میں بہترین تفصیل سے یاد کرسکتا ہوں. اس اسٹیج پر  اداکاروں کے گروہ نے اس مرحلے پر ایک لیبارٹری کو ظاہر کیا. تمام اداکاروں نے ریسرچ لیب پوشاک ، حفاظتی چشموں اور سیفٹی دستانے پہنے ہوئے تھے۔ اور وہاں ہرطرف گانا بجانا تھا. وہاں پر 2 اداکار جو سب سے آگے تھےاور سکرین کے مرکز میں تھے۔ یہ دونوں اداکار خاص طور پر بڑے نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔ اُن میں سے ہر ایک نے اپنے ہاتھوں میں بڑے ربڑ کے دستانے جو کہ دوسرے تمام اداکاروں نے پہن رکھے تھے کی بجائے 1 بڑا چمکدار رنگین دستانہ پہن رکھا تھا۔  2 دونوں عظیم اداکاروں نے 1 باقاعدہ رنگین دستانہ اور 1 چمکدار رنگین دستانہ پہن رکھا تھا۔ میرا یقین تھا کہ 1 زنانہ اور 1 مردانہ لیکن میں مثبت نہ تھا۔ جیسے کہ وہ پاس پاس کھڑے تھے، وہ اداکار جو بائیں میں کھڑا تھا اُس نے اپنے بائیں ہاتھ میں چمکدار دستانہ پہن رکھا تھا۔ اور جو اداکار دائیں طرف کھڑا تھا اُس نے اپنے دائیں ہاتھ میں چمکدار رنگین پہنا ہوا تھا۔ 2 چمکدار رنگین دستانے ایک دوسرے کے آگے تھے لیکن وہ 2 دو مختلف لوگوں کے ہاتھوں میں تھے۔ ایک اداکار کا دستانہ چمکدار سبز تھا اور دوسرے کا دستانہ چمکدار نارنجی تھا۔ ہم نے دیکھا کہ تمام اداکار بڑے اتفاق سے ناچ رہے تھے۔ اور تمام اداکاروں نے اپنے ہاتھ اوپر اُٹھائے ہوئے تھے۔ اور اپنا ایک ہاتھ سکرین کی آگے کو بڑھاتے تھے اور پھر واپس کر لیتے تھے۔ پھر جبکہ ایک بازو ہاتھ کو پیچھے کھینچ لیتا ہے جبکہ دوسرا بازو ہاتھ کو آگے سکرین کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ پس تمہارے ہاتھ آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں۔ اور دایاں، بایاں، دایاں، بایاں اور پھر اسی طرح ہوتا رہتا ہے۔ اُن کے ہاتھ 2 کا یا اسی طرح کا نشان بناتے ہیں۔ جب تم اپنی نشاندہی کرنے والی اور درمیانی انگلی سے امن کا نشان بناتے ہو۔ تمام اداکار یہ کر رہے تھے اور 2 کا نشان مجھے اور میری بیوی کو بار بارتحریک دے رہا تھا۔ اور سکرین کے بالکل درمیان میں 2 غالب چمکدار دستانے بلا کم و کاست سکرین کے درمیان میں تھے۔ اور وہ ایک دوسرے کے درمیان میں تھے۔ 2 چمکدار رنگین دستانے اکٹھے حرکت کر رہے تھے۔ ایک اداکار کا ہاتھ دوسرے کے دستانے میں تھا اور وہ اکٹھے کامل حرکت کرتے ہوئے سکرین کی طرف آ رہے تھے۔ میں نے  ایک لفظ نہیں سُنا۔ کہ وہ گا رہے ہیں۔ میری بیوی اور میں نے صرف ایک اونچی آواز باہر نکالی۔ ووہ! اگر یہ 2 کا یہ واضح نشان نہیں تھا۔ جس کا میں اُس دِن گواہ تھا، میں یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اُس صحیح وقت مجھے پر واضح ہو سکا۔ خدا کا شکر ہو!

ٹھیک ہے اب میں کیا کروں؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ واضح طور پر ایک نشان ہے میں نے سوچا۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے۔ لیکن اِس طرح کی ایک علامت ہے۔ جو اتفاقات کے تمام دِنوں پر مشتمل تھا۔ جن کو اب میں چھوٹے معجزات کا نام دیتا ہوں۔ جن کا بڑاعظیم مطلب ہے میں نے سوچا۔  یہ تھا۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اس طرح کے واقعات کے بارے میں نہیں سُنا میں نے دوبارہ سوچا اور باورچی خانے میں چلا گیا۔ جہاں سے میں اخباروں میں سے ایک اخبار لیا۔ میں نے پہلی چیز سے متعلق سوچا۔ میں نے تمام 2 کے بارے میں توجہ دی۔ جو اُس دن ہوئے پہلی چیز جس نے میرے لیے  رکاوٹ پیدا کی۔ اور جس نے 2 اخباروں پر روشنی کر دی۔ پس میں نے سوچا کہ شاید یہاں اخبار میں کچھ ہے۔ جس کو میں نے دیکھا اور پڑھا۔  میرے بیٹےاور میں نے صفحے دیکھنے اور اُن کی خاص سرخیاں دیکھنی شروع کیں۔ اور کسی بھی خبر نے ہمیں متاثر نہ کیا۔ میں نے دوسرے حصّے کو دیکھا اور کسی خبر نے متاثر نہ کیا۔ میں نے ہر حصّے کے دوسرے صفحے کو دیکھا۔ اور کوئی بات میرے ذہن کو نہ ہلا سکی۔ ہمممممم میں نے دوبارہ سوچا۔ اور میں نے مخصوص حصّے کو دیکھا۔ اور میں نے  اشتہار اور اسامیاں دیکھیں۔ میں نے ایک نوکری دیکھی جس کےلیے میں موزوں تھا۔ اور میں نے کمپنی کو ای میل کیا۔ وہاں اخبار کا آخر بھی تھا۔ اس کا کیا مطلب تھا؟ خدا نے 2 کا نمبر کیوں استعمال کر رہا تھا؟

میں دوسرے دِن کام کے لیے گیا۔ اور روب اور سٹیوو جن کے ساتھ میں کام کرتا تھا۔ کو بتایا۔ کہ کیاہوا ہے۔ اور اُن سے پوچھا۔ کہ اِس کا کیا مطلب ممکن ہو سکتا ہے؟ اُنہیں کچھ اندازہ نہیں تھا۔ سٹیوو کا خیال تھا،’’ہو سکتا ہے یہ دوسرا موقع ہو‘‘ میں نہیں جانتا تھا۔ اور پھر تقریباً 2 ہفتے بعد بہت زیادہ سوچا۔ میں اختتام کی طرف آیا۔ جو کہ ضرور 2 دوسرا نشان ہونا چاہیے۔ اور2 دوسرا نشان اور میرا نشان تھا ۔ یہ 2 دوسرا نشان تھا جو میں نے حاصل کیا۔ اور یہ مجھے ایسٹر کے بعد 2 دوسرے اتوار کو ملا۔ اور اِس کے تھوڑے عرصہ کے بعد میں نے سوچا کہ صرف میرا نشان ہے۔ جو میں نے مانگا تھا۔ اور میں اس وضاحت سے مطئمن تھا۔ جب میں نے دعا کی اور آن لان پڑھنے کے دوران میں خدا اور یسوع مسیح کے متعلق زیادہ پڑھا اور سیکھا۔ میرا خدا اور یسوع مسیح پر ایمان بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ اُس وقت میرے پاس بائیبل بھی نہیں تھی۔ میں نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ میں ایک حاصل کر لوں گا۔ خُدا مجھے کِسی نہ کِسی ذریعے سے دے ہی دے گا، پس اِس کے بارے میں مجھے فکر نہیں ہے۔

اس کے تقریباً ڈیڑھ مہینے بعد جب میں اور میرا خاندان میرے سالے جم کی شادی میں شریک ہونےکے لیے چھٹیوں پر کیلیفورینیا جا رہاتھا۔ ہمارے روانہ ہونے سے پہلے میں نے اپنے ساتھ کام کرنے والوں کےساتھ اپنے گھر کی دیکھ بھال کے لیے انتظامات کیے۔ اور میری 2 پالتو بلیاں لکی(کیونکہ میرا خیال ہے کہ ہم نے اُنہیں کوڑے کرکٹ کے پاس سے اُٹھایا تھا۔) اور سی سی ( کرس کارٹر کے نام سے جو مینوسٹا وکنگ کی فٹ بال ٹیم میں کھیلتا ہے اور اور یہاں پر کرس کارٹر کے متعلق بڑی دلچسپ بات جو میں آپ کے ساتھ شیئرکروں گا۔ 18 دسمبر 1994 کو کرس کارٹر کو جب سینٹ پال سیوک سنٹر کے سینٹ پال  اندرونِ شہر ہاکی کے میچ ہوا تھا۔ وہ وہاں پر اپنے خاندان کے ساتھ تھا۔ اور میں اپنے خاندان کے ساتھ وہاں تھا۔ ہوا یہ کہ میں نے مینوسٹا وکنگ کی شرٹ پہن رکھی تھی۔ اور میرا خیا ل ہے یہ بہت نفیس تھی اور میں نے کرس کارٹر سے دستخط کروانے کے لیے حاصل کی تھی۔ میں کالا مارکر ڈھونڈنے گیا اور وہ مجھےدوستوں جیسا پولیس افسر مل گیا۔ میں نیچے گیا جہاں پر میرے سامنے 6 قطاروں کے فاصلے پر کرس کارٹر بیٹھا ہوا تھا۔ اور میں نے اُسے دستخط کرنے کے لیے کہا۔ اور اُس نے بڑی خوشی سے قبول کیا۔ میں نے بُرا بھی محسوس کیا کیونکہ بہت سے لوگوں کی توجہ اُس پر ہو گئی۔ اور بہت سے لوگوں اُسے آٹو گراف کے لیے کہنے لگے۔ اتنا کہ وہ خود ہاکی کا میچ نہ دیکھ سکا جس کے لیے وہ آیا تھا۔ اُس کے ختم کرنے سے پہلے کھیل ختم ہو چکا تھا۔ 6 دِن بعد کرس کارٹر نے نے سنگل سیزن میں زیادہ سے زیادہ کیچ پکڑنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اُس نے سال کا اختتام 122 کیچوں کے ساتھ کیا۔ یہاں پر کچھ مستی ہے۔ 1995 میں بھی اُس نے 122 کیچ کیے تھے۔ لگا تار 2 دو سالوں اُس نے یکے بعد دیگرےسیزن میں244 کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کیچ لینے کے ریکارڈ قائم کے۔ اور وہ دوسرا کھلاڑی تھا جس نے لگا تار دوسرے سال میں 100 سے زیادہ کیچ پکڑے۔ جب کرس کارٹر نے ٹچ ڈاؤن لکیر پر کیچ پکڑے ، تو وہ خُدا کی طرف اشارہ کرتا اور خُدا کا شکریہ ادا کرتا۔ اے خُدا اِن یادوں کو زندہ رکھنے کا شکریہ اور شکریہ کہ اُس کا آٹو گراف تو نے ٹھیک دوسرے سیزن سے 6 دن پہلے جس میں اس نے ریکارڈ بنایا مجھے دلایا۔ کرس کارٹر وہ وصول کرنے والا تھا جس نے جیری رائیس کے بعد دوسرا ریکارڈ ہولڈر ہے جس نے اپنے کھیل کے عرصے کے دوران ٹچ ڈاؤن ریکارڈ بنایا۔ کرس کارٹرنے جیک ریڈ کے ساتھ مل کر این ای ایل کی تاریخ میں ریکارڈ قائم کیا جن میں ہر ایک نے چوتھے سیدھے این ای ایل سیزن میں 1,000  گز کی دوڑجیتی۔ دوسری کوئی بھی جوڑی یہ حاصل نہ کر سکی۔ اُس میں اور بھی جوڑیاں تھیں لیکن وہ لگا تار دو ہی سیزن میں کامیابی حاصل کر سکے۔ کرس اور جیک نے دوسرے دونوں بہترین سے دوہری کامیابی حاصل کی۔

اب آئیں دوبارہ کیلی فورینیا کے ٹرپ کی طرف آئیں۔ اس سے پہلے کہ میں بھول جاؤں آئیں دعا کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ سادہ سی دعا ہے، پس میں نے سوچا۔ جہاں تک میری مبالغہ آرائی اور اُس کے پھیلاؤ کا تعلق ہے۔ ایک سادہ دعا ایک اچھی سیریز کی چیزوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔ میں ہمیشہ اس کا گواہ رہوں گا۔ وہ دعا یہ تھی اے میرے خُدا تو میرے باروچی خانے کی کھڑکی سے باہر پرندے کو کھانا مہیا کرتا ہے۔ اور اُسے برکت دیتا ہے۔ تاکہ جب میرے دوست میرے گھر آئیں اور میری بلیوں کو دیکھیں تو اُن کو پاس ٹھنڈے پوپ کارن کا موقع ہو۔ اور وہ باورچی خانے کی میز پر بیٹھیں جہاں سےلطف اندوز ہونے کے لیے بہت سے پرندے دیکھنے کو ملیں گے۔ میں پرندوں کو دیکھنا پسند کرتا ہوں خاص طور پر گانے والے پرندے۔ وہ میرے پسندیدہ پرندے ہیں۔

پھر ہم نے کیلی فورینیا کو چھوڑا اور میرے خیال ہے کہ دعا میں اور کچھ خاص نہیں تھا جو میں نے کی۔ کیلی فورینیا میں ہماری چھٹیا ں بہت اچھی گزریں۔ اور جم کی نئی بیوی جینی بہت پیاری اور صحت مند تھی۔ اوراُس نے ہمارے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھا۔ اورہم اُس کے بہت سے رشتہ داروں سے اُدھر ملے۔ شادی بہت ہی شاندار شادیوں میں ایک تھی۔ جس میں میں آج تک شریک ہوا۔ وہ ایک پرانا تاریخی شراب بنانے والا تھا۔

جس دوران میں جم اور جینی کے گھر میں تھا۔ تو وہاں پر نیلے رنگ کا ایک بہت ہی خوبصورت پرندہ تھا۔ وہ ہمیشہ وہاں آتا اور اُن کے پچھلے صحن میں لٹکتا۔ اور وہ صحن میں بے فکراورخوف سے باہر ہوتا۔ میں روزانہ اُسے بار ہا وہاں دیکھتا۔ اِس کا ذکر کرنے کی وجہ یہ تھی۔ کہ اگلے دن جب ہم  کیلی فورینیا سے واپس آئے۔ توٹھیک اُس سے اگلے دن جب میں اور میری بیوی ہم باورچی خانے کے میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ہم نے دیکھا کہ ہماری کھڑکی کے چھجے پر ایک چہچہانے والی چڑیا بیٹھی ہوئی تھی ۔ وہ اس چھجے پر چونچ سے ٹھونکیں ماررہی، چہچہا رہی اور ناچ رہی تھی اس سے پہلے میں نے کسی پرندے کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ اُس نے چہچہانا اور چونچیں مارناجاری رکھا۔ پھر وہ برڈ فیڈر کے لیے وہاں سے اُڑ کر تھوڑی دور چلی گئی۔ ہماری گھر کی کھڑکی کا چھجا زیادہ بڑا نہیں تھا۔ وہ تھوڑا چھوٹا تھا۔ حقیقت میں میں اُسے چھجا کہنا بھی نہیں چاہتا وہ آدھی انچ کی پلاسٹک کی چپ تھی وہ کھڑکی کو بالکل بند کرتی تھی جب موسم خراب ہوتا تھا ۔ وہ کافی چھوٹا تھا پس اُسے چھجا تو برائے نام ہی کہا جا سکتا تھا۔ وہ چڑیا یہی کچھ کر رہی تھی۔ کیا آپ نے اس سے پہلے کسی پرندے کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اگر آپ اپنے اندر اس منظر کو محسوس کر سکتے ہو۔ کہ اگر وہ پرندہ آپ کی کھڑکی پر ٹھہرا ہو اور ایسا کر رہا ہو تو آپ کو یہ کتنا اچھا لگ رہا ہو۔ اور ہو سکتا ہو یہ ایک منٹ ، دو منٹ اوردس منٹ تک جاری رہے؟ اور یہ اس سے بھی لمبا ہوسکتا ہے۔ اگر یہ پورے دن پر چلا  جائےتو اُس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ میری بیوی اور میں اُسے کافی دیر تک دیکھتے رہے جب ہم باورچی خانے میں کھانے کے میز پر بیٹھے ہوئےتھے۔ اور یہ ہم سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر تھا۔ یہ واقع ہی ایک خوبصورت پرندہ تھا۔ جب میں اُس کو دیکھ رہا تھا تو اس چیز نے مجھے حیران کر دیاکہ خدا کیسا بھلا ہے کہ وہ چیزوں کو اتنی خوبصورتی سے بناتا ہے۔ میں نے خُدا کی طرف سے مجھے ایک اور نشان ملا۔ جو کہ اُس کی طرف سے میرے لیےایک تحفے کی طرح تھا۔ ہم اپنے روزانہ کے کاروبار کے سلسلے میں گئے اور ہم اکثر کھڑکی کی طرف دیکھتے اور ہم اُسے بار بار دیکھتے۔ ایک دفعہ میں نے سوچا کہ شاید یہ پرندہ حقیقی طور پر ہمارے گھر آناچاہتا ہو۔ میں نے جلدی سے رائے دیتے ہوئے کندھے اُچکائے۔ کہ اگر کوئی پرندہ اپنے آپ کو ایک گھر میں قید میں پکڑا ہوا پائے تو وہ خوف زدہ ہوجائے اور دیواروں کی طرف اوپر اُڑ جائے گا۔ میں نے اُسے ایک بچے کے طور پر دیکھا۔ یہ پرندے کے لیے واقع ہی بہت دباؤ کاباعث اور اُس کے لیے مضر ہوتا. لیکن میرے ذہن میں پھر ایک خیال آیا۔ تو میں کھڑکی کی طرف گیا۔ اور اُسے ایک فٹ تک اوپر کھولا۔ اور چہچہانے والی چڑیا اُڑ کرپندرہ فٹ دور چھوٹےانناس کےدرخت کی طرف چلی گئی۔ جب کبھی چڑیا اُڑ کر دور چلی جاتی تو وہ ایک یا دو منٹ کے بعد اُڑ کر کھڑکی کے چھجے کی طرف واپس آ جاتی اورمیں اُس کا انتظار کرتا رہتا۔ اِس بار میں نے اُس کا 5 منٹ تک انتظار کیا لیکن وہ چھجے پرواپس نہ آئی۔ میں نے کھڑکی بند کر دی اور وہ چڑیا ایک منٹ کے بعد واپس آ گئی۔ اچھا تو یہ اِس بات کا پیغام ہے کہ وہ اندر آنا چاہتی اور ہمارے گھر کا وزٹ کرنا چاہتی ہے۔ اصل میں آسانی کیا تھی۔ میں نہیں جانتا تھا۔ کہ جب وہ اندرآئے تواس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔اور مجھے میری دو2 بلیوں کے ہوتے ہوئے اس کی حفاظت کا بھی فکر تھا۔ میرا خیال تھا کہ آخر کار یہ دوپہر تک گھر سے باہر چلی جائے گی۔ ہم تھوڑی دیر کے لیے سٹور پر گئے اور جب ہم شام ہونے پر واپس گھر آئے۔ تو وہ جا چکی تھی۔ اگلے صبح کو کام پر جانے سے پہلے میں نے دوبارہ دیکھا لیکن چڑیا وہاں پر نہیں تھی۔ میری خواہش تھی میں سارا دن وہاں بیٹھا رہوں اور اسے دیکھتا رہوں۔ وہ سارا عمل جب وہ چھجے کی طرف آتی پھر وہ اُڑ جاتی ، کھاتی اور کافی دفعہ واپس آتی۔ وہ انناس کے درخت کی طرف اُڑ کر جاتی اور کئی دفعہ واپس آتی۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب کچھ عجیب اور انوکھا تھا۔ حقیقت میں وہ جو یہ سارا دن کرتی وہ ایک معجزہ ہی تھا۔

میں اُس دن کام پر گیا۔ یہ بہت اچھا دن تھا۔ میں نے اپنی چھٹیوں کے بارے میں اور اپنے چھجے پر بیٹھنے والے اُس عجیب و غریب پرندے کے متعلق بات کی۔ اُس دن سب سے زیادہ  دلچسپ بات تھی جو کہ میرے کام پر ہوئی۔ لیکن کیا ہوا جب میں بریک ہونے پر اپنے گھر گیا۔ میں نے ایک اور پرندہ دیکھا۔ میں نے اپنے آپ کو راستے میں کیا۔ میں نےاپنے لان میں نظر ڈالی اور میں نے ایک پکے خاکستری رنگ کے پرندے کودیکھا۔ وہ پتلا اور لمبا تھا۔ تقریباً 9 یا 10 انچ لمبا۔ اور اُس پر کوئی خاص نشان نہیں تھے۔ وہ کبوتر کی طرح یا فاختہ کی طرح کا نہیں تھا وہ بہت ہی زیادہ پتلاتھا۔ اورتھوڑا گہرا خاکستری تھا۔ میں نے اِس طرح کا پرندہ اپنے صحن میں نہیں دیکھا تھا۔ اور ابھی تک نہیں جانتاتھا کہ وہ کِس قسم کا پرندہ تھا۔ لیکن اِس پرندے کے ساتھ جوعجیب بات تھی وہ یہ تھی۔ کہ نہ یہ مجھ سے اور نہ ہی میرے بڑے ٹرک سے ڈرتا تھا۔ جو میں چلاتا تھا۔ جب میں نے اُسے راستے پر چلایا۔ تو مجھے یقین تھا کہ یقیناً وہ اُڑ جاتا۔ لیکن وہ میرے ٹرک سے صرف 10فٹ کے فاصلے پر گھاس پر بیٹھا رہا۔ میں نے اُسے صرف تھوڑی دیر تک دیکھا۔ پھر میں نے سوچا کہ جب میں ٹرک کو باہر نکالوں گا اور دروازہ کو زور سے پٹخوں گا۔ میرا تو یہ یقین تھا کہ وہ اُڑ جائے گا۔ لیکن وہ تو بیٹھا رہا ۔ اور میرا خیال غلط ثابت ہوا۔ اورایسا کرنا  کِسی بھی پرندے کے لیے عام بات تو نہیں تھی۔ میں اپنے ٹرک کے آگے کھڑا ہو گیا۔ اور پھر اُسے تھوڑی دیرکے لیے دیکھا۔ اور پھر میں اپنے گھر کے اندر چلا گیا۔ اور اپنی بیوی کو اُس کے متعلق بتایا۔ اُس نے کہا کہ وہ باہر نہیں جا سکی اوراُسے نہیں دیکھ سکی۔ کیونکہ اُس نے اپنے کونٹیکٹ لینز نہیں پہنے ہوئے تھے۔ اور اپنی نظر کی عینک بھی نہیں پہنی ہوئی تھی۔ میں نے کہا،اور ہاں، تم نے توپھر اِس نظارے کو کھو دیا۔

میں نے باورچی خانے کے کاؤنٹر کو دیکھا۔ اور میری بیوی کے میل بکس میں کچھ ڈاک ڈالی گئی تھی۔ میں نے ڈاک باہر نکالی اور دوبارہ سے اُس پرندے کو دیکھنے لگا۔ وہ صحن میں نہیں تھا۔ جہاں میں نے اُس کو آخری باردیکھا تھا۔لیکن جب میں نے قریبی درخت پر نظر ڈالی تو میں نے اُسے درخت کی ایک شاخ پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اور اُس نے مجھے دیکھا۔ میں نیچے گیا۔ اور میل بکس کی طرف چلا گیا، پرندہ درخت سے دوبارہ اُڑا اور دوبارہ گھاس والے حصّے می بیٹھ گیا۔ جہاں وہ پہلے بیٹھا ہوا تھا۔ میں دوبارہ ٹرک کے طرف جانے لگا جو میں نے پرندے سے کوئی 10 فٹ کے فاصلے پر کھڑا کیا ہوا تھا۔ اور رُک گیا۔ ہم نے ایک دوسرے کو دوبارہ دیکھا۔ میں نے دوبارہ میل بکس کی طرف جانا شروع کیا۔ تو پرندے نے مجھے حیران کیا اور میری طرف اُڑا اور مجھ سے 10 فٹ کے پر جا کر بیٹھ گیا۔ ہم نے دوبارہ ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور میں نے پرندے کے ساتھ دینے جیسا تحفہ پر خُداکا شکر ادا کیا۔ لیکن کام سے آنے کاوقفہ میرے پاس زیادہ نہیں اور مجھے کام پر جاناتھا۔ پس میں میل بکس کے قریب جانے لگا۔ اور جب میں میل بکس سے 15فٹ کے فاصلے پر تھا۔ تو پرندہ اُڑا اور سیدھا میل بکس پر جا کر بیٹھ گیا۔ اور وہ کیا ہی خوبصورت منظر تھا۔ میرا خیال ہے کہ ناقابلِ یقین۔ یہ ایک سادہ سی بات تھی۔ لیکن میرے لیے اس میں بہت معنی تھے۔ میں حیرانگی سےوہاں بُت بنا کھڑا تھا۔ میں نے میل بکس کی طرف آہستہ آہستہ جانا شروع کیا۔ جو میں اُس سے صرف 10 فٹ کے فاصلے پر تھا۔ تو پرندہ گلی کی طرف اُڑ گیا۔ اور کسی دوسرے کے صحن میں جا بیٹھا۔ اور اُس نے وہاں سے مجھے ڈاک ڈالتے ہوئے دیکھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ 10 فٹ کے فاصلے پر وہ آرام دہ حالت میں ہوتا ہے۔ میں گھر میں واپس چلا گیا۔ اور اپنی بیوی کو اِس خوبصورت چیز کی متعلق بتایا۔ جو کہ اُس پرندے کے ساتھ ابھی ابھی ہوئی تھی۔ میں نے اپنے کام والے ساتھیوں کے ساتھ بھی یہ کہانی شیئر کی۔ یہ وہ واحد بات تھی جس کا کوئی گواہ نہیں تھا۔ اکیلا ہونا میرے لیے ایک تحفہ تھا۔

تین دِن بعد میں اپنے انکل جارج سے ملنے گیا۔ اور جب میں وہاں تھا تو میں نے اُنہیں اور اُن کی بیوی رونی کو اِس کہانی کے متعلق بتایا۔ کہ میں اس پرندے اور 2 کے معجزے کا گواہ ہوں۔ مختصراً جب ہم نے اپنا دیر رات کا کھانا کھا لیا۔ تو باہر کوئی بہت بڑی ہلچل تھی۔ کالے رنگ کے پرندوں کا ایک بہت بڑا جھنڈ اونچی آواز میں شور کر رہاتھا۔ کالے پرندے اور زیادہ آتے جا رہے تھے۔ یہ بڑا منظر تھا۔ جہاں میں اپنے انکل کے راستے پر اپنا ٹرک کھڑا کیا ہوا تھا وہاں سے یہ منظر بڑی آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ میں نے گھومنے کے لیے اپنے انکل کا کتا ساتھ لیا۔ میں نے اور کتے نے پرندوں کودیکھا۔ جب پورے بلاک کے گرد چہل قدمی کر رہے تھے۔ میں نے سوچا۔ یہ سب کیا گڑ بڑ ہےاس طرح ایک بڑا ہنگامہ کیوں؟ اے پرندوں تمہیں خاموش رہنا چاہیے۔ جب ہم اُس بلاک کی مخالف سمت میں چل رہے تھے تو ایک لڑکی اپنے گھر سے نکلی اور پرندوں کو دیکھتے ہوئے مجھے دیکھا۔  اُس نے مجھے دیکھا میں جانتی ہوں کہ وہ پرندےایسا کیوں کر رہے تھے۔ وہ یہ سب کچھ اِس لیے کر رہے تھے کہ کِسی بڑے پرندے نے اُن کے بچوں میں سے ایک کو اُٹھا لیا تھا۔ اوہ میں نے اُسے کہا اور اُس کا مجھے بتانے کا شکریہ ادا کیا۔ اب میں نے اندازہ لگایا کہ اُن کے شور شرابے کی موزوں وجہ یہی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے بہت بُرا لگا۔ کہ اُنہیں چپ ہو جانا چاہیے۔ کہ اُن کے شور شرابے کی اب کوئی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن میرے پاس تمام حقائق نہیں تھے۔ جونہی میں کتے کو پھرا کر واپس لایا۔ میں گھر کے اندر گیا۔ اوراپنے انکل سے کہا۔ کہ کیا وہ جانتا ہے کہ اُن پرندوں کے ساتھ کیا ہوا ہے؟اُس نے کہا کہ یہاں پر ایک بہت بڑے الو نے اِن کالے پرندوں کے گھونسلے پر حملہ کیا تھا۔ میں نے الو کو کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے جو کچھ بھی سُنا اور دیکھا وہ کوئی 50 کالے پرندے اُڑ رہےتھے جنہوں نے اس طرح کا شور مچا رکھا تھا۔ میں نے پڑوسیوں سے پوچھا جو یہ نظارہ دیکھ رہے تھے کہ کیا انہوں نے اِن پرندوں کو ایسا کرتے پہلے کبھی سنا یا دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں، کبھی نہیں‘‘ جبکہ میں انہیں اپنےٹرک کے تختوں  سے دیکھ رہا تھا۔ تو رونی روڈ کے دوسری طرف آئی وہ پڑوسیوں سے شوروغل کے متعلق بات کر رہی تھی۔ اُس نے مجھے دیکھا اور کہا مائیک جب تم جاؤ تو یہ شورو غل بھی اپنے ساتھ ہی لیتے جانا۔ اُس نے یہ بڑے مزاحیہ انداز میں کہا تھا۔  جیسا کہ اُس نے سوچا تھا۔ کیونکہ میں نے اُسے اُن چیزوں کے متعلق بتایاتھا۔ جو میرے ساتھ حال ہی میں ہوئی تھیں۔ کہ مجھے اُس کے ساتھ کیا کرنا پڑا۔ ’’اوہ نہیں، میں نے اُن کے ساتھ کچھ بھی نہیں کیا اور حقیقیت یہ ہے۔ کہ میرا یہاں ہونا اور تماشائیوں کو دیکھنا ہو سکتا ہے کہ یہ خُدا نے کیا ہو۔ لیکن یقیناً میں نے اُن کے ساتھ کچھ نہیں کیا میں تو صرف یہ تماشا دیکھ رہاتھا۔

اگلے ہفتے جب میں جیل میں کام کر رہا تھا۔ تو میں وقفے میں گھر جا رہا تھا۔ اگر باہر موسم اچھا ہوتا۔ تو میں عام طور پر باہر کا راستہ ہی لیتا۔ ورزش گاہ کو چھوڑتا ہوا اور جیل کے کنٹرول سنٹر سے ہوتا ہوا میں گزرتا۔ میں نے نیچے والے علاقہ کی طرف چلنا شروع کیا۔ جس کے ایک سائیڈ پریونٹ کا ایک حصّہ تھا جو کہ چار منزلہ بلند تھا۔اور وہ عمارت اینٹوں کی بنی ہوئی تھی۔ اور اس راستہ کے دوسری طرف بہت اونچی باڑ تھی۔ اورباڑ کے اوپر کانٹوں والی تار تھی۔ یہ خاص طور پر 200 فٹ لمبا وہ حصّہ تھا۔ جہاں میں کام کرتا تھا۔ جب میں اُس علاقہ سے گزر رہاتھا۔ تو میں نے ایک چمکدارفنچ دیکھی۔ وہاں وہ تقریباً 8 تھیں۔ جیسے میں چل رہا تھا وہ میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ وہ میری دائیں طرف اینٹوں سے بنی ہوئی عمارت کے طرف چل رہی تھیں۔ وہ اپنے پاؤں کے پنجوں کے بل عمارت کی ایک سائیڈ پر اینٹوں سے عجیب انداز سے چمٹی ہوئی تھیں۔ وہ کھڑکی سے کچھ فٹ اوپر بھی استعمال کر سکتی تھیں۔ لیکن انہوں نے ایسانہ کیا۔ وہ تقریباً 10 فٹ اوپر اُڑ رہی تھیں۔ وہ توازن برقرار رکھنے کے لیے عمارت کی اینٹوں کی کھردری سائیڈ کو پکڑے ہوئی تھیں۔ اور میری بائیں چلنے والی فنچیں کانٹوں والی تار کی باڑکے ساتھ اُڑ رہی تھیں۔ اورباڑ والےحصّے کے اندرونی ہیرے کی طرح کے علاقے میں وہ ہر 10 فٹ پر وہ بیٹھتی تھیں۔ پس تصور کریں اگر تم کر سکتے ہو۔ جیسا کہ میں باہر چہل قدمی کر رہا تھا۔ تو میرے دائیں اور بائیں طرف والی فنچیں ہر 10 فٹ کے فاصلے پر اُڑتی اور بیٹھتی ، اُڑتی اور بیٹھتی اورمیں چلتا ہوا باہر چلا گیا۔ ایسے لگ رہا تھا. وہ کسی محافظ کی طرح تھا۔ یہ منظر دیکھنے کے قابل تھا۔ اِس وقت میں واقع ہی اکیلا تھا۔ اے باپ تیرا شکریہ۔

کچھ دنوں کے بعد ، ہیرئیٹ نے مجھے کام پر نشاندہی کی۔ کہ اُس کے دفتر میں پرندوں نے ائیر کنڈیشنر کے باہر بہت زیادہ شوروغل مچایا ہوا تھا۔ اُس نے اُس کو سنا اور وہ چاہتی تھی کہ میں بھی باہر جا کر ان کو چیک کروں اور دیکھوں کہ وہاں پر کیا ہونے والا ہے۔ تقریباً 4 فٹ اوپرکھڑکی کے چھجے کے ساتھ ائیر کنڈیشنر کے پاس روبن کاگھونسلہ تھا۔ اوراُس سے آگے روبن کے 2 انڈے تھے۔ 1 تواُسی وقت سییا جا رہا تھا۔ ووو میں نے سوچا کہ وہ کتنا خوبصورت تھا۔ جو کہ اُن کونیچے دیکھنے کے قابل تھا اتنا کہ بالکل زمین پر۔ میں نے اُن لوگوں کو بتایا جو میرے ساتھ کام کر رہے تھے۔ پس اُن سب سے میں اُس زندگی کے معجزے کے متعلق شئیر کر سکا۔ میرے ساتھ کام کرنے والےوہ پرندے جو ابھی سییے جا رہے تھے اُن کو دیکھنے جا رہےتھے۔ لیکن اُن کے نئے پرندےدیکھنے کے دوسرے دن بدقسمتی سے ایک بُرا واقعہ ہو گیا۔ وہاں ایک دوسرا گھونسلہ بھی تھا۔ میں مکمل طور پر دوسرے گھونسلے سے لاعلم رہا وہ یونٹ نمبر 1 کے پچھلے دروازے کے پیچھے تھا جہاں میں کام کرتاتھا۔ پچھلے دروازے کے باہر کی طرف ایک لٹکی ہوئی چھت تھی۔ اُس لٹکی ہوئی چھت کے آگے کو نکلےہوئے حصے پر ایک سویلو کا گھونسلہ تھا۔ وہ گھونسلہ مٹی سے بنا ہواتھا۔ جو اُس اینٹوں والی عمارت کے باہراُکھڑے ہوئے حصّے کے نیچے وہ گھونسلہ تھا۔ اور آگے نکلے ہوئے حصّے پر اِسے بنانے کی وجہ وہ بارش سے بچے رہتے۔ حقیقی طور پرمیں سویلو کے گھونسلے کے نیچے آنے کی وجہ سے بہت بُرا محسوس کر رہا تھا۔ میرا خیال ہے کہ میں نے بہت سے لوگوں کو روبن کے متعلق بتایا تھا۔ اور بار بار دروازے کے کھلنے اوربند ہونے کی وجہ سےشاید وہ اینٹوں پر ڈھیلا ہو گیا اور وہ نیچے گِر گیا۔ سویلو کے چار بچے اُس دِن مر گئے۔ اُس کودیکھ کر مجھے بہت دُکھ ہوا۔

تقریباً اِس کے ایک ہفتے بعد سویلو واپس آئے اور انہوں نے اپنا گھر دوبارہ بنایا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے اپنا گھونسلہ دوبارہ سے بنایا ۔ بلکہ سویلو کے ایک اور خاندان نے آگے بڑھے ہوئے حصّے کے ایک طرف دوسرا  گھونسلہ بنایا۔ اس دفعہ یہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ میں اکثر باہر جاتا اور ماں باپ سویلوکواپنے چھوٹے بچوں کو خوراک دیتے ہوئے دیکھتا۔ میں نے کِسی بھی شخص کو سویلو کے دو نئے گھونسلوں متعلق نہیں بتایا۔ میں نے اچھی طرح اکیلے نے یہ سوچا۔ میں پچھلے ناخوشگوار واقعےکو دوبارہ نہیں دہرانا چاہتا تھا۔ میں نے اچھا کام کیا۔ تمام چھوٹے بچے بڑے ہوئے اور اُڑ گئے۔ اور 2 انڈے جو سیئے گئے امید ہے اُن میں سے بچے نکلے اور وہ بھی اُڑ گئے۔ اور ایک دِن میں بھی چلا گیا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ نئے بننے والے سویلو کے گھونسلوں میں کتنے سویلو رہتے تھے۔ شاید 7 یا زیادہ سے زیادہ 10۔

چند ہفتے گزرنے کے بعد میں نے اپنی 2’s دو کی اور پرندوں کی کہانی اپنے ساتھ کام کرنے والوں اور کچھ مجرموں کے ساتھ شروع کی۔ لیکن میں نےاُسے پرندوں کے ساتھ ایک منفرد بات دیکھتے ہوئے روک دیا۔ مجھے یاد ہے ایک دن جہاں میں کام کرتا تھا۔ وہاں پر میں بہت بے چین تھا۔ وہاں پر کچھ چیزیں اورگھر پر اُس طرح سےنہیں ہو رہی تھیں جیسے عموماً ہوتی تھیں۔ اُس دِن میں وقفے میں گھر گیا۔ یہ بہت عمدہ بات ہوئی کہ میں تھوڑی دیر کے لیے وہاں سے ہٹا ۔ میں پارک لاٹ میں چلا گیا۔ میں اندر ہی اندر غمزدہ تھا کہ میں نے اور کچھ دیر سے کوئی پرندہ نہیں دیکھا۔ اور آج کتنا فالتو سا دن تھا۔ لیکن ٹھیک اُسی وقت ایک چڑیا اپنی چونچ میں پَر پکڑے اُڑی اور میرے ٹرک کے ہُڈ پر بیٹھ گئی میں نے  بڑی شیلڈ سے اُسے اُس کے بالکل مرکز میں غڑاپ کیا۔ میں نے اُسے اور اُس نے مجھے دیکھا۔ میں نے سوچا کہ اُس کی چونچ میں جما ہوا پَر بہت ہی پیارا لگ رہا تھا۔ یہ کتنی عجیب بات تھی کہ اُس پرندے نے میرے ٹرک پر بیٹھنا پسند کیا۔ اور اِس پَر کے ساتھ اُڑتے ہوئے اُس نے میرے ٹرک پر رُکنا پسند کیا۔ شاید اُس نے اُسے گھونسلہ بنانےمیں استعمال کرنا ہے۔ میں نے اُس کی سمت دیکھی جدھرسے وہ آیا تھا۔ اور تقریباً 1ایک منٹ بعد پرندہ مغرب کی طرف اُڑ گیا۔ جس سمت سے آ کر وہ میرے ٹرک پر بیٹھا تھا وہ اُس سے مخالف راستے پر گیا۔ میں نے وہ راستہ دیکھا جدھر سے وہ آیا اور جدھر کو وہ گیا۔ یہ کوئی 50 قدم میرے ٹرک سے دور کاراستہ تھا۔ وہ وہاں پر پارک کی گئی گاڑیوں میں سے کِسی پر بھی بیٹھ سکتا تھا۔ لیکن اُس نے میرے ٹرک پر بیٹھنا پسند کیا یہ خداوند کی طرف سے نشان تھا کہ وہ ابھی تک میرے ساتھ تھا۔ میں کام پر واپس گیا۔ اور اُس دن میرا رویّہ اچھا ہو گیااُس کی نسبت جب میں نے چھوڑا۔ یہ پرندے کا آخری نشان تھا۔ جو میں نے بالکل عجیب دیکھا۔ لیکن میں با لکل ٹھیک تھا۔ میں اب ٹھیک اورپُر سکون تھا۔ میں پرندوں کے اشاروں پر اب اپنی آنکھیں لگائے رکھوں گا۔

8 جولائی، 2003

میں نے اپنے دِل میں محسوس کیا کہ کچھ بہت ہی عظیم ہونے والا ہے۔ میں نے وہ کیا جو روب نے جو مسیح میں میرا بھائی ہے نے کہا ، دعویٰ کرو اور ایمان میں چھلانگ لگاؤ اور یسوع مسیح کے نام میں ایک نئی منسڑی قائم کرو۔ روب ہمیشہ کہتا کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ اُس کی بلاہٹ ہے۔ اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اُسے میری مدد کی ضرورت ہے۔ پس میں نے اُسے بتایا کہ وہ مجھے خط لکھے اور ڈاک کا ایک نشان لے تاکہ تمہارے کچھ دستاویزات ہوں کہ تم نے اُسے کب شروع کیا۔ اور تمہاری منسٹری کِس نام سے کہلاتی ہے۔ روب نے اس تاریخ کو مجھےایک خط بھیجا۔ جسے میں نےبعد میں ڈاک سے وصول کیا۔ وہ خط آج تک میرے پاس ہے۔ وہ ابھی تک مہر بند ہے اور میں نے ابھی تک نہیں کھولا۔اس پر میرا ایڈریس تھا اور یہ اُس کے گھر سے بھیجا گیا تھا۔ جو کہ سول ہارویسٹ منسٹری کا نیا دفتر ہے۔ اور اِس طرح اِس منسٹری کا آغاز ہوا۔ خداکا شکر۔ اور خُدا سول ہارویسٹ منسڑی کو برکت دے۔ اور تمام تر برکتوں میں اُسے رہنمائی دے۔ اورکچھ بھی پیچھے نہ رکھے اور اپنی بے پناہ اورعظیم برکتیں اُسےدے۔ اور تمام شان و شوکت خدا کو اور اُس کے بیٹے خداوند یسوع مسیح کو ملے آمین! 2 کے آنے کے بعد اور 2003 کے ایسٹر کے دوسرے اتوار کے بعد جب یہ بند ہوا۔ حقیقی طور پر میں نے اُسے مزید نہیں دیکھا۔ جیسے کہ تم دیکھ سکتے ہو۔ کہ پرندوں کے ساتھ صرف 2 کے چند نشان ہیں۔ میں صرف اُن کو دیکھ رہا تھا اور پرندوں سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ اور میں نے 2اور2 کو اکٹھے نہیں کیا۔ جیسا کہ پرانی کہاوتوں میں ایسا ہوا ہے۔ لیکن یہاں پر چیزیں کچھ مزید دلچسپ ہو رہی ہیں۔

ہر سال آج اور پچھلے 5 سال سے، میں اپنے ابواور اپنے دوستوں کے ساتھ مینوسٹا ، والکر مین ایک موسیقی کے پروگرام میں گیا ۔ یہ ایک موسیقی کا پروگرام تھا جس کا نام مون ڈانس جیم تھا۔ وہاں پر 1980کی دہائی کے کچھ روک بینڈ آئے اور انہوں نے وہاں پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ وہاں پر کچھ بلیو بینڈ اور کچھ زیڈیکو بینڈ بھی تھے۔ میرے پاس ایک موقع تھا۔ کہ میں چار دن کے لیے اپنے آپ کو تھوڑا آزاد کر لوں۔  وہاں پر میرا تمام وقت بہت اچھا گزرا۔ لیکن یہ سال تھوڑا مختلف تھا۔ یہ اُس سے بہتر تھا۔ جتنا کہ میں معمولی طریقے سے تصورکر سکتا تھا۔ میں پریشان تھا اور نہ ہی اِس سال میں سکون میں تھا۔ مجھے اِس بات کا بالکل یقین نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ اور میں اُس آزمائش کے متعلق جانتا تھا جو میرے ساتھ ہوتی جب میں وہاں تھا۔ یہ ہر جگہ دیکھا جاسکتا ہے وہاں پر کم کپڑوں والی عورتیں تھیں جنہوں نے چار دِن کی پارٹی میں خوب اچھاوقت گزارا۔ اور پارٹی صبح 4 بجے تک چلی۔   یہ تو ایسے تھا جیسے میں ہائی سکول میں واپس چلا گیا ہوں۔ اور مجھے کِسی بھی چیز کا فکر نہیں ہے۔ اور صرف بے پناہ مستی ہے۔ میں اب پیچھے دیکھتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں۔ میں اُن چیزوں کے بارے میں کوئی فخر نہیں کرتا جو میں وہاں کیا کرتا تھا۔ میں تمام پارٹیوں کی تصویریں لیا کرتا تھا۔ اور میری زیادہ تو تصویریں ایسی خوبصورت لڑکیوں کی ہوتی تھیں جو جسم کے ساتھ چپکے ہوئے لباس اور نہانے کے لباس میں ہوتی تھیں۔ میرا اندازہ ہے کہ کچھ خاص حقیقتیں مجھ سے غائیب ہی ہو گئیں۔ یہ بہت زیادہ پینے کے دِن تھے۔اور جب یہ ختم ہوا، تو یہ حقیقت کی طرف واپس آ گیا۔ اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے اُن میں سے کوئی بھی چیز زیادہ عرصہ تک نہیں کی۔ اور جو اب ہیں وہ بھی میں کبھی کبھی کرتا۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ میں اسے زیادہ مس کیا۔ مجھ میں آج بھی بہت سی مستی ہے۔ میں اُس وقت اِسے مکمل طور پر مختلف طریقے سے کیا کرتا تھا۔ لیکن گزری ہوئی کچھ چیزوں کے بارے میں کچھ پریشان تھا۔ عموماً جسطرح میں کیا کرتا تھا اُس طرح کا میں تھا نہیں۔ میں جانتا تھا کہ وہاں پر کچھ میرے لیے آزمائشیں تھیں۔ اور میں اُن کے ساتھ کیسے نبرد آزما ہوتا یہ میرے لیے ایک امتحان ہوا کرتا تھا۔ ٹھیک ،میں مکمل نہیں تھا میں ایسا نہیں ہو پاؤں گا۔ لیکن میں نے اِس سال وہ چیزیں کیں جو میں نے پچھلے سال نہیں کی تھیں۔ اور یہاں تک اِس سے پہلے اُن کو کرنے کے متعلق میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ میں نے اُن لوگوں سے بات کی جن کے ساتھ میں نے کبھی بات نہیں کی تھی۔ میں نے مدد کی پیشکش کی جب میں کر سکا۔ میں نے لوگوں کو اچھے اور حوصلہ افزا طریقے سے بتانے کی کوشش کی میں نے اُن کو ایسے طریقے تک برقرار رکھا جو نفرت انگیز نہیں تھا۔ اور نہ ہی بولنے میں انتہا تک گیا۔ کچھ گئے، کچھ نہیں گئے، لیکن میں نے اُن کو جاننے کی کوشش کی۔ کہ اُن میں زیادہ مستی ہے۔ اور وہ پہلی ہی بار بدمستی میں ہوجاتے۔کیونکہ جیم کے متعلق بہت سی چییزیں تھیں جو اچھی تھیں۔ وہ یہ کہ جب تم اپنے دوستوں میں گِھرے ہوتے تھے جب شو ختم ہو جاتا تھا اورتم کیمپ فائر کے ارد گرد بیٹھ رہے ہوتے تھے۔ اور باتیں کرتے اور ایک دوسرے کے متعلق جانتے تھے۔ ہر چیز کو ایک رکھتے ہوئے میں واقعی اُن چیزوں اور اُس حصے کو پسند کرتا تھا۔

مجھے اُس وقت تک کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اِس سال چیزیں میرے لیے یاد گار ہونے جا رہی ہیں، مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اِس دفعہ خدا وہاں ہو گا۔ نہ صرف یہ کہ وہ وہاں ہو گا۔ اُس نے مجھے کچھ چیزوں کے متعلق جاننے کا موقع بھی دیا۔ اور اُس نے مجھے پر کچھ چیزیں منکشف بھی کیں۔ جو  ہمیشہ میرے پاس ایک خزانے کی طرح رہیںگی۔ کیونکہ 2’s دو میرے پاس دوبارہ آئےاور وہ حیرانگی سے بھرے ہوئے تھے۔ میں یہ جان سکا کہ خدا نے بہت سی چیزیں ثابت کی ہیں۔ جو میں نے کیں یا جن کو کرنے کی میں نے کوشش کی۔ میں نے یہ بھی جانا کہ میں نے غلطیاں کیں۔ میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا، خدا ہمیں معاف فرمائے ۔ خُدا کی تعریف ہو۔

10 جولائی ،2003 مون ڈانس 12 کا 2 دوسرا دِن

اُس دن کے متعلق مجھے بتانے کی ضرورت کیوں ہے۔ کہ یہ وہ دِن تھا۔ کہ جس دِن اصل میں میں نے اِس کتاب کو لکھنا شروع کیا۔ پچھلے 3 مہینے جیسا کہ تم نے پڑھا ہے۔ 2 کے نشانات میرے طرف آئے۔ اور پھر میں نے سوچا، کہ وہ ختم ہوگئے۔ میں نے سوچا کہ 2 کے نشان صرف ایک دفعہ کا ہی واقع ہے۔ لیکن جب میں مون ڈانس جیم میں تھا۔ وہ دوبار آئے۔ اب اِس بات کو ذہن میں رکھیں۔ جب پہلی دفعہ 2 کے نشانات میری طرف آئے تو اُس وقت سے میں ان کے بارے میں بڑا آگاہ رہا۔ مثال کے طور پر پرندوں کے بارے میں۔ میں جانتا تھا کہ خدا پر ایمان رکھنے کے تعلق سے میں بالکل نیا ہوں۔  اور میرا اندازہ تھا کہ خدامیرے بارے میں کیا سوچتا ہے اِس بارے میں میں فکر مند تھا۔ اور یہ کہ میں کیسے عمل کرتا ہوں اور کیسا رویّہ رکھتا ہوں۔ لیکن 2 کے نشانات واپس آئے۔ اور یہی وہ چیز تھی جس نے حقیقی طور پر مجھے اِس کتاب کو لکھنے کے لیے اور اُن کے متعلق زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بتانے کے سلسلے میں متاثر کیا۔ اب مجھے ایم این والکر میں مون ڈانس جیم کے متعلق آپ کو بتانے دیں۔ جب دوسری دفعہ 2 کے نشانات واپس آئے۔ نشانات اُس وقت بڑے عظیم طریقے اور ہلادینے والے طریقے سے آئے۔ جو حقیقی طور پر معجزاتی اور قابلِ دید تھے۔ میں نے اپنے ابو اورانکل کو اپنی تمام کہانی بتائی۔ پھر وہ 2’s دو کے اور پرندوں کے متعلق جانے ۔ اور جب میں جیم میں تھا۔ تو میں نے وہاں پر اپنے تمام دوستوں کو بھی اپنی کہانی بتائی اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح میں نے یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ قبول کیا۔اُن میں سے کسی نے بھی مجھے منفی انداز میں کچھ بھی نہیں کہا۔ میرا خیال ہے کہ وہ بہت زیادہ متجسس تھے۔ جیسا کہ وہ پچھلے جیم کے وقت سے جس میں حاضر ہوا مجھے جانتے تھے۔ اب اُن کی نظریں ذرا مختلف انداز کی تھیں۔ مجھے کچھ دوسرے خیالات کی توقع تھی۔ ’’ او لڑکے، ہم وعظ و نصیحت حاصل کرنے جا رہے ہیں کہ ہم کتنے ذمہ دار اور پارٹیوں میں جانے والے ہیں۔ لیکن اِس خیال پر میں نے کوئی توجہ نہ دی۔ یا یہ مجھ تک اونچی آواز میں نہیں آیا۔ میں نے اِس طریقے سے منادی کبھی نہیں کی تھی۔ لیکن میں نےاِس حقیقت پر زور دیا۔ کہ اُن کو پارٹیوں کے لیے دوسری جگہوں پر نہیں جاناچاہیے۔ تاکہ وہ یاد رکھ سکیں کہ سب کچھ کیا ہوا۔ اور تاکہ وہ اس قابل ہو سکیں کہ دیر رات تک کیمپ فائر کے لیے کیسے اچھی بات چیت، گٹار موسیقی کی جاتی ہے۔ اور کیا جو جانتا ہے۔ ہا ہا ہا! ہمیشہ اگلی صبح کے لیے اچھی گفتگو ہوتی ہے۔

جیسا کہ ہم نے کیمپ لگایا اور جیم میں دوستوں سے ملاقات کی۔ میں نے 2 دو کے متعلق اتفاقات کے بارے میں اپنے ابو اور انکل سے بات شروع کی۔ پھر میرے باپ نے اُس پر غور کرنا شروع کیا کہ میں کیابات کر رہا ہوں۔ یہاں تک کہ اُس نے اِس بات پر توجہ دینی شروع کی۔ پس جیم کے دوسرے دِن، جب انہوں نے پھر سے ہونا شروع کیا، میرے باپ نے کہا، تمہیں یہ چیزیں اپنے روزنامچے میں لکھنا شروع کر دینا چاہیے پھر اِس نے مجھے ضرب لگائی، یا اِس سےبہتر یہ کہ خُدا کے روح نے مجھے بتایا، لیکن میں نے اُس وقت جانا کی مجھے ان باتوں کو لکھنا شروع کرنا ہے۔ میں نے اپنے والد کو بتایا۔ کہ وہ 2 دوسرا شخص ہے جس نے مجھے اِس بارے میں کہا۔ پہلا شخص جس نے مجھے روزنامچہ لکھنے کے بارے میں کہا وہ ایک مسیحی بھائی ڈین تھا۔ وہ جہاں میں رہتا تھا اُس کے نزدیک کمپیوٹر پر کام کرتا تھا۔ جب میں ایم این ڈولتھ میں ایک مہینہ پہلے چرچ گیا تو میں نے اُسے اپنی گواہی بتائی۔ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ صرف اِس لیےایک بغیر استعمال کیا ہوا روزنامچہ اُن کی ویگن میں پڑا ہوا ہے۔ جسے میں استعمال کر سکتا ہوں۔ انہوں نے یہ میرے لیے لیا اور پچھلے دِن اور اگلے تین دِن تک جو کچھ جیم میں ہوا اُس کولکھا۔

پس آپ آگے کیا پڑھیں گے۔ اور حقیقت میں پہلے کیا لکھا ہوا ہے۔ اور اب اُن واقعات کو ترتیب وار لکھتا ہوں جتنا کہ میں کر سکا کہ جیسے جیسے وہ ہوا۔ آج حقیقت میں 24 دسمبر ہے ۔ لیکن یہ ڈھائی مہینے پہلے لکھا گیا۔ ہم مون ڈانس جیم بارہواں کے 4 دنوں میں وہاں گئے۔

میری دستاویز اس طرح سے شروع ہوتی ہے۔

مون ڈانس جیم کے دوسرے دن میرے باپ نے یہ دستاویز مجھے دی۔ یہ 10 جولائی 2003 تھا۔ مجھے حالیہ منظر بیان کرنے دیں۔ ہم میں سے چھ کنوپی کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ تاکہ اپنے آپ کو بارش سے محفوظ اور خشک رکھ سکیں۔ بلوط کی لکڑی سے آگ جل رہی تھی۔ جو ایک ناقابل حرکت دائرے میں بڑھک رہی تھی۔ ہم شکر گزار ہیں اور ہم کچھ پُرامن بات چیت کرتے ہیں۔ دو 2 الگ الگ بات چیت ابھی ہونے والی تھیں۔ جبکہ میں یہ لکھ رہا ہوں یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ تقریبا پچھلے 3 ماہ یعنی ایسٹر کے بعد دوسرے اتوار میں 2 کا نشان حاصل کیا اور اُسے بہتر ترتیب دیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ خُدا کی طرف سے تھا۔( میں نے اپنی دستاویز کا اوپر دیا گیا پہلا پیراگراف لکھا۔اور میں نے اسے اپنے انکل کو پڑھنے کے لیے دیا؟ تمام لوگ میرے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ کہ میں کتاب لکھنا شروع کی دی ہے۔ وہ بہت متجسس تھے۔ میرے انکل نے خود وہ پیراگراف پڑھا۔ اور مجھے بتانے لگے ۔ کیا تم جانتے ہو؟ کہ آج بھی دو 2 ہے۔ میں نے اُن سے سوال کیا کہ انہیں یہ کیسے معلوم ہوا۔ اور انہوں نے میرا ایک بزنس کارڈ لیا اور اس کے پیچھے لکھا۔ جب وہ لکھ رہے تھے تو کہنے لگے۔  آج جولائی کی 10 تاریخ ہے۔ یہ 7 واں مہینہ ہےاور یہ اس مہینے کا 10 واں دن ہےان دونوں کو جمع کریں تو 17 آتا ہے۔اب اس میں 2003 کا 3 جمع کریں چونکہ یہ 3 تیسرا سال ہے۔ اور پھر مجموعہ 20 ہو جاتا ہے اب اسے جمع کریں2  2+0 =  تو 2 آتا ہے۔ میں نے سوچا یہ کتنا دلچسپ ہے ۔ میں اسے لکھ لوں گا۔ میں کسی ایسے ہندسوں کے علم پر یقین نہیں رکھتا۔ لیکن یہ دلچسپ ہے۔  پس میں نے وہ دستاویز اُن سے واپس لے لی۔  اور جو کچھ انہوں نے آج کی تاریخ کے بارے میں کہا تھا جو کہ 2 بنتی تھی سب کچھ ٹھیک ٹھیک لکھ لیا۔ کیونکہ یہ وہ کچھ تھا جس پر یہ کتاب مبنی ہے۔ اور 2003 کی دوسری تاریخیں جو کم ہو کر 2 بنتی ہیں وہ یہ ہیں۔ 16 جنوری، 15 فروری، 14 مارچ، 13  اپریل، 12 مئی،  11 جون،  9 اگست،  8 ستمبر، 7 اکتوبر، 6  نومبر، 5  دسمبر  اور 2004 میں یعنی اگلے سال ۔ ان مہینوں کی دی گئی تاریخوں میں 1 تفریق کریں۔ یہ تو عجیب ہے کہ ایک کتاب 2 لکھنا اور 2 کو اس طرح سے کم کر کے اس طریقے سے ثابت کرنا جو کہ صرف 365 دنوں میں 12 مرتبہ ہے۔

2 جس طریقے سے آج میرے پاس آیا ہے یہ تو بالکل احمقانہ ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ تسلسل کے ساتھ ہو رہا ہے۔ میرے ابو اور انکل اُن 6 میں سے 2 ہیں۔ جو اپنے دوستوں ایمی، میلیزہ اور ہولی کی بہن کے ساتھ یہاں بیٹھے تھے۔ کیونکہ اُس کا نام اِس وقت مجھے یاد نہیں آ رہا۔ میں نے اُسے پہلے متعارف کروایا ہے مجھے یاد ہے کہ اس کے شوہر لکڑی کاٹنے کا کام کرتے ہیں اور اُس نے بھی یہی کہا تھا۔ کہ وہ ہولی کی چھوٹی بہن ہے لیکن مجھے اُس کا نام یاد نہیں ہے۔ میں نےاندازہ کیا۔ کہ مجھے دو تعارف یاد کرنے ہوں گے۔ مجھے ہولی سے پوچھنا پڑے گا۔ کہ اُس کی بہن کا نام کیا ہے؟

آج جیم کا دوسرا دن تھا اور لگاتار دوسرے دِن بارش ہو رہی تھی۔ یہ دوسرا جیم تھا۔ کہ ہمارے انکل ہمارے پاس آئے۔ یہ بھی دوسرا جیم تھا۔ کہ ہماری دوست میلیزہ کی امی بھی آئیں ہوئیں تھیں میلیزہ کی امی کا نام جوڈی ہے۔ ایمی اُن کے ساتھ کیمپنگ کر رہی ہے۔ ایمی نے میلیزہ کے باپ کے ساتھ شادی کی ہوئی ہے۔ اِس طرح وہ اُن کی سوتیلی ماں ہوئی۔ پس اُس کے باپ کی دونوں بیویاں یہاں ہیں ۔ جن میں سے ایک میلیزہ ہے۔

کرٹ ، جوئے اور شان ہمارے ساتھ کنوپی کے نیچے ہیں۔ یہاں پر خشک رہنے والوں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ جیسے ہی نیلا آسمان ظاہر ہو تو اچانک اُن سب نے خوشی سے چیخ ماری ۔ اِس کے تھوڑی دیر کے بعد ایمی اور میلیزہ کیمپ کی طرف سے واپس آئیں۔ وہ بہت خوش تھیں۔ میں نے کوری سٹیونز کے پروگرام کی آواز سُنی۔ اور میرا دوست رچررڈ جس نے جیم کی تصاویر لیں تھیں اُس نے مجھے میٹ اینڈ گریٹ کے اسٹیج کے قریب کے دو پاس دیئے۔ وہ دونوں اسٹیج کے قریب چلے گئے۔ اور انہوں نے کوری اسٹیونز سے آٹو گراف لیے۔ بہت زبردست ۔ میں اور میرا انکل ابھی ابھی شاندار تھنڈر برڈ دیکھ کر واپس آئے تھے۔ یہ یقینی طور پر بہت اچھا پروگرام تھا۔ ہم نے مین اسٹیج سے 20 قطاریں پیچھے سے یہ پروگرام دیکھنا شروع کیا ۔اسٹیج کے سامنے ایک طرف کھڑے ہونے کی جگہ ہے اگر تم صبر اور آہستہ سے پروگرام کے شروع ہونے کا انتظار کرتے ہو۔ تو تم اسٹیج کی طرف آگے بڑھ سکتے ہو۔ بعض اوقات آپ اوپر، آگے اور بالکل قریب ہو سکتے ہو۔ لیکن بعض اوقات یہ سب نہیں ہو سکتا۔ یہ تو اُس بینڈ پر منحصر ہوتا ہے۔ جو فن کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔ اور یہ کہ کتنے لوگ ہیں۔ جو قریب سے نظارہ کرنے کے خواہش مند ہیں۔ کئی دفعہ وہ وقت آ جاتا ہے۔ جب کچھ لوگ آپ کو دھکے دے رہے ہوتے ہیں۔اور آگے جانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو یہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتاہے اُن میں کوئی مروّت نہیں ہوتی۔  یہ سب کچھ اُن پر ہوتا ہے۔ لیکن اکثر یہ نہیں ہوتا ۔ بس چند لوگ ہی ہوتے ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔ میں صرف انتظار کرنا پسند کرتا ہوں۔ کہ جلد ہی کوئی جگہ خالی کرے گا۔اورتم آگے حرکت کر سکو گے۔ میں اور میرا انکل ایک قطار سے دوسری قطار ہوتے ہوئے آگے ہوتے رہے۔ اور شو کے قریب ہوتے گئے۔ کچھ رنگین گیند ہجوم کی طرف پھینکے گئے۔ لوگوں کے ہجوم کے اندر اُن کا ادھر اُدھر اُچھلنا مجھے بہت ہی اچھا لگا۔ اُن کے لیے یہ پُر لطف نظارہ دیکھنے کے قابل تھا۔ وہاں پر بیک وقت اُن میں سے 3 تھے۔ جیسا کہ اب میں چوتھی 4 لائین میں تھا۔ ایک بہت بڑا رنگین ہوا سے بھرا ہوا گیند جس کا ڈایا میٹر 4 فٹ تھا۔ جومیرے سر پر اُچھلا میں نے بینڈ کی طرف دیکھا۔ انہوں نے اُس وقت گیند پر کوئی توجہ نہ دی تھی۔ جب پچھلی لائین میں سے کچھ لوگوں نے انہیں آگے دھکیلا تم حقیقی طور پر انہیں آتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ اور کوئی گیند جیسی چیز جو تمہارے سر زور سے لگے یہ زخمی نہیں کرتی۔ لیکن یہ بال بہت ہلکے ہوتے ہیں۔ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ارد گرد بہت سے لوگ ہوتے ہیں۔ جو رنگین بال کو اوپر ہوا میں ہٹ لگاتے ہیں۔ جو اپنے بازوؤں کو ہوا میں پھیلاتے ہوئے بال کو ہٹ لگاتے ہیں۔ اُس رنگین گیند کو سر سے کبھی نیچے نہیں ہونے دیتے۔ یہاں تک کہ وہ اُسے ضرب لگاتے ہوئے پنڈال سے باہر نکال دیتے ہیں۔ وہاں پر جو لوگ کھڑے ہوئے ہوتے ہیں حد یہ کہ وہ بھی اسے نیچے گرنے نہیں دیتے۔اُس کے کچھ منٹ بعد ہم حرکت کر کے آگے 3 تیسری لائین میں آ گئے۔ جب ہم نے یہ کیا۔ تو میں نے رنگین   گیند کا اسٹیج کی طرف سایہ دیکھا۔ جو میری پچھلی طرف اوپر اچھل رہا تھا۔ میں نے کچھ عجیب و غریب وجوہات کی بناء پر یہ جانا۔ اور خلافِ قیاس ایسا لگا جیسے وہ بال ایک بار پھر میرے سر سے ٹکرانے والا ہے۔ میں نے بال کے سایہ کو غور سے دیکھا۔ کسی نے اسے زور سے ضرب لگائی۔ کہ پیچھے کی طرف چلا گیا۔ اور میں نے دیکھا کہ اُس کا سایہ نیچے چلا گیا۔ میں نے اپنی آنکھوں بند کرلیں ۔ میں ادھر اُدھر نہیں مُڑا۔ اور وہ میرے سر سے زور سے اچھلا۔ میرے انکل نے مجھے کہا، کیا تم نے اسے ضرب لگائی میں نے کھسیانی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہا ہاں یہ 2 دوسری بار تھا۔ اوراُس نے کہا تم نے یقیناً اسے درست راستے پر رکھا۔ میں صرف مُسکرایا اور فیبیولیس تھنڈر برڈ کو سننا جاری رکھا۔

میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا کہ ایک لڑکا بڑا عجیب سا ہیٹ پہنے ہوئے ہے۔ وہ باڑ کی طرف آگے کو جھکا ہوا تھا۔ جتنا کہ تم سر کی طرف آگے کو ہو سکتے ہو۔ اُس کے ہیٹ نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ وہ سرخ ، سفید اور نیلا امریکی جھنڈے کے رنگ والا ہیٹ تھا۔ جو کہ ہاتھ کی شکل کا تھا۔ ہاتھ کی شکل والا ہیٹ ایسی مشابہت رکھتا تھا۔ جیسے کہ وہ اشارہ کرنے والی اور درمیانی انگلی سے امن کا نشان بنا رہا ہو۔ یا اُس نے اپنی انگلیاں اُٹھائی ہوں اور 2 کا نشان بنایا ہوا ہو۔ میں نے آہستہ آہستہ اُس کی طرف جانا شروع کیا۔ کسی وجہ سے میں اُس سے بات کرنے پر مجبور ہو گیا۔ آہستہ آہستہ میں اُس کے قریب چلا گیا۔ میرا انکل میرے پیچھے پیچھے تھا۔ اس طرح تقریباً 5منٹ تک آہستہ آہستہ حرکت کرتا ہوا میں اُسکے بالکل پیچھے 2 دوسری لائین میں تھا۔ میں نے اُس کا کندھا تھپتھپایا اورکہا بہت عمدہ ہیٹ ہے. اُس نے کہا شکریہ میں نے اُسے کہا میرا نام مائیک ہے۔ تمہارا نام کیا ہے۔ اُس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا میرا نام بھی مائیک ہے۔ کیا تم شو سے لطف اندوز ہورہے ہو. میں نے کہا او ہاں ! بہت اچھا وقت گزر رہا ہے۔ وہ آج پورے دِن سے یہاں کھڑا ہے۔ تاکہ اس عمدہ جگہ کو اپنے لیے برقرار رکھ سکے۔ ہمارے اوپر ابھی ابھی بارش ختم ہوئی تھی۔ اب وہ مشرق کی طرف اسٹیج کے پیچھے بہت دور ہے۔ اب قوس قزح نکل آئی ہے۔اور اُس کی قوس کے رنگ مشرق کی طرف اسٹیج سے پیچھے کافی دور ہیں۔ یہ کوئی عام قوس قزح نہیں ہے یہ دوہری قوس قزح ہے۔ جس میں دو قوسیں ہیں۔ اور یہ کبھی کبھار ہوتا ہے۔ میرے لیے یہ سوچنا تھوڑا مشکل تھا۔ کہ کیسے تیزی سے 2 کے نشانات ظاہر ہو رہے تھے۔ جب سے میں نے اس مائیک کو دیکھا ہے۔ جو یقیناْ بہت زبردست ہے سب سے پہلی چیز یہ تھی کہ میں نے اُس نئے مسیحی کے لیے دُعا کی کہ دنیا میں اس کے لیے امن ہو۔

دوسری قوس قزح یقیناً عمدہ تھی۔ میرے ابو نے ہمارے دوست ٹام کے ساتھ اس پس منظر میں تصویر بنوائی ۔ اُس نے یہ تصویر اس دفعہ جیم میں اپنی لمبی داڑھی کے ساتھ دکھائی۔ میں نے اُس پر تبصرہ کیا کہ وہ موسٰی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

پس یہ تصویر جو میرے باپ نے لی ایسے لگ رہی تھی جیسے موسٰی کے اوپر دو 2 قوس قزح ہیں۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو یہ ایک زبردست تصویر تھی۔ فیبولس تھنڈر برڈز شو کے دوران میں نے دیکھا کہ دو 2 گٹار بجانے والے ایک ہی وقت میں ایک ہی گٹار بجا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ گٹار بجانے والوں کے لیڈر نے دو 2 رنگین گیندوں کو اسٹیج سے ضرب لگائی۔ بعض اوقات وہ ادھر اُدھر ضربیں لگاتے ہیں۔ اور عام طور پر بینڈ کے دوسرے ارکان اُس کے ساتھ مل کر بجاتے ہیں۔ ( کیا اس کے دو مطالب ہیں مثال کے طور پر کہ کیا گٹار بجانے والے گٹار بجاتے ہیں۔ اور رنگین گیند کو ضربیں لگاتے ہیں؟ شاید نہیں۔ میں نے تمام درستگیاں دیکھیں۔ کیونکہ میں نے بعد میں نہیں دیکھا۔ کہ کچھ اس میں اضافہ کیا گیا یا نہیں۔) فیبولس تھنڈر برڈز شو کے ختم ہونے کے بعد انہوں نے کہا۔ کہ وہ ایجنٹ کے ٹینٹ پر اپنے آٹو گراف لکھنے والے ہیں۔ پس میرا انکل اور میں وہاں آگے گئے۔ اور میں اُس ٹینٹ کی طرف گیا۔ اور دیکھا کہ وہاں10  8 x کی تصویریں ہیں ۔ جو آپ خرید سکتے ہیں۔ اور بینڈ کے ارکان نے اُس پر اپنے دستخط کیے۔ میں اپنے ساتھ جیم کے لیے صرف 12 ڈالر لایا تھا۔ میں نے تصویر خریدنے کے لیے 10 ڈالر دئیے چونکہ اُس کے پاس 5 ڈالر کا بل لینے کے بعد واپس  کرنے  5  ڈالر نہیں تھے ۔  پس میرے انکل نے میرے لیے اُسے  5 ڈالر دیے میرے پاس تصویر پر بینڈ کے پانچ ارکان کے دستخط ہونے تھے۔ لیکن ٹینٹ میں صرف 4 ارکان تھے۔ جب میں نے تصویر پر 5 ارکان کے دستخط کی جگہ دیکھی تو میں بینڈ کے پانچویں رکن  کو انتظار کرنے لگا۔ کہ اگر وہ آ جاتا تو تمام ارکان کے ساتھ میری تصویر مکمل ہو جاتی ۔

میرے انکل نے پھر مجھے کہا کیا آپ کو پتہ ہے تمہیں اِن تمام ارکان سے اپنی مون ڈانس جیم کی جین کی جیکٹ پر دستخط کروانے چاہیں. میں نے سوچا یہ ایک زبردست خیال ہے۔ پس اُن سے دستخط کروانے کے لیے جیکٹ میرے پاس تھی۔ یہ میری کڑھائی والی جیکٹ تھی۔ یہ میں نے اُس وقت خریدی تھی۔ جب میں فرسٹ جیم پر تھا۔ جیم کے اجتماع میں یہ میرا شاندار انعام تھا۔ جین کی جیکٹ پر دستخط کرنے کے دوران بینڈ کے ممبران میں سے ایک چلا گیا۔ پس اب وہاں پانچ میں سے صرف 3 رہ گئے تھے۔ جو کہ جین کی جیکٹ پر دستخط کر سکتے تھے۔ اور صرف 4 تھے۔ جنہوں نے میری جیکٹ پر دستکط کرنے تھے۔

اُس وقت میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ کہ مجھے اُنہیں دیکھنے کے لیے پچھلے دروازے کی طرف جانا چاہیے۔ اگر مجھے وہ دوسرے ارکان مل گئے تو اس طرح میرا سیٹ مکمل ہو جائے گا۔ (میں نے ماؤنٹین ایش ممبر سے پچھلے دروازے کا پاس حاصل کیا۔ جو بڑے اسٹیج کے شو کے عمل کو چلاتا تھا۔ اور بھی بہت سے کام کرتا تھا۔ لیکن ہمیشہ منظر کے پیچھے رہتا تھا۔ جب شو ہو رہا ہوتا تھا۔ میں نے اُنکی ویب سائیٹ کو بنانے میں اُن کی مدد کی تھی۔انہوں نے مجھے پچھلے دروازے کے ٹکٹ اور پاس دیئے۔ میں اُس کے بینڈ کے بہت سے فوٹو بھی لیے تھے۔ اُس لوکل بینڈ کو ترقی دینے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ جو اس وقت وہاں پر فن کا مظاہرہ کر رہاتھا۔ ) میں پچھلے دروازے کی طرف گیا۔ اور میں وہاں پر اُس لڑکے کودیکھا جس کو میں نےشو میں نہیں دیکھا تھا۔ میں نے اُس لڑکے کو بھی ڈھونڈ نکالا جو شو سے چلا گیا تھا۔ اب میرے پاس آٹو گراف کے دو سیٹ تھے۔ اور جیم میں کوئی بھی اس قابل نہ ہوا ۔ کیونکہ بینڈ کا ایک ممبر تو ٹینٹ میں آیا بھی نہیں تھا۔ باقی تمام جیمز کے پاس صرف 4 کے آٹو گراف تھے۔ جبکہ میرے پاس دو مکمل سیٹ تھے۔ دستخطوں کا ایک سیٹ جین کی جیکٹ پر تھا۔ جبکہ آٹو گراف کا دوسرا سیٹ تصویر پر تھا۔ یہاں تک کہ میرے پاس پچھلے دروازے کا پاس بھی تھا۔ اور میں اس قابل تھا کہ میری رسائی سائیڈ اسٹیج علاقہ تک بھی تھی۔ لیکن شو کے افتتاحیہ کے دوران برے فنکاروں کی وجہ سے سیکیورٹی تھوڑی زیادہ سخت ہو گئی تھی۔ جب میں نے ادھر ادھردیکھا کہ مجھے ایک فوٹو گرافر دوست رچررڈ نظر آیا۔ جو جیم میں فوٹو اُتارتا تھا۔ یہ وہ تھا۔ جس نے میلیزہ اور ایمی کو میٹ اینڈ گریٹ کے پاس دیئے تھے۔ اور میں نے اُس کی توجہ حاصل کرنے کے لے ہاتھ ہلایا۔ اور ہائے کہا۔ اُس نے بھی اپنا ہاتھ ہلایا۔ اور امن کا نشان بنایا اُس نے یہ انداز کیوں اپنایا۔ جب کہ وہ اِس کے بغیر صرف ہاتھ ہی ہلا سکتا تھا۔

میں کیمپ سائیٹ کی طرف واپس گیا۔ اور میں نے وہ ہر کسی کو دکھائے۔ راز رُک گیا۔ وہ ہمیشہ اپنے نام راز(Razz  ) پر زور دیتا تھا۔ جس میں دو زیڈ آتے ہوں۔ ہا ہا ہا۔ وہ ٹی بیگ کے مقامی مینوسٹا بینڈ میں گٹار بجاتا تھا۔ وہ بہت اچھے گیت لکھتا اور گاتا بھی تھا۔ مون ڈانس جیم کے لیے جو مون ڈانس اِن کہلاتا تھا۔ اِس گیت میں اُس نے اُس ویب سائیٹ کا بھی ذکر کیا تھا۔ اِن کی آخری آیت یہ تھی۔ ہم اب مینوسٹا بینڈ میں کچھ لطف کرنے جا رہے ہیں۔ راز نے حال ہی میں ہمیں بتایا کہ ٹی بیگ جیری کے بینڈ ممبران میں سے ایک نے مجھے بتایا ہے کہ اُس نے بینڈ کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کہ وہ اب اس بینڈ میں مزید کام نہیں کرے گا۔ پس ٹی بیگ بینڈ اس دفعہ جیم میں فن کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ اِس بارے میں وہ بڑا پُر جوش تھا۔ اُس نے کہا وہ ایک نئے بینڈ میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ جس کا نام ہے مینوسٹا وسکی پگز دوبارہ پھر زیڈ آگئے۔ ہا ہا ہا ۔ میں نے اپنی نیک تمناؤں کو اظہار کیا کہ میں اگلے برس اُس  کے بینڈ کو سنوں گا۔ جہاں ہمارا کیمپ تھا وہاں سے ہم سب کو رات کے آسمان پر روشن ستارہ لگا۔ خدا نے آسمان کے شمالی افق پر شمالی روشنی رکھ دی۔ یہ دیکھنے میں بہت خوبصورت تھی جو کہ ماحول میں غائب ہونے والی گیسوں کا ڈانس تھا۔ یہ اکثر نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ کبھی کبھار سردیوں کے درمیان میں ہوتا ہے۔ یہ گرمیوں کا درمیان تھا ہم نے اُسے کچھ وقت کے لیے دیکھا۔ اور وہ برباد ہوئے اور چلے گئے۔ میرے انکل نے کہا کہ وہ آج تو دوبارہ ظاہر نہیں ہوں گے۔ ہمیں کچھ دیر کے لیے بیٹھ جانا چاہیے میں نے دِل ہی دِل میں سوچا۔ لیکن یہ عام سی رات نہیں ہے۔ اور میرا دِل جانتا تھا کہ ہم اُسے دوبارہ دیکھیں گے۔ اور میں نے اپنے انکل کے ساتھ 2 دوسری دفعہ یہ شمالی روشنی دیکھی۔

اِس کے بعد شام کو اور اب تقریباً 3 بجے صبح۔ اب یہ رات کا وقت تھا۔ جو مجھے پسند ہے۔ جب ہم سب آگ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ اور باتیں کر رہے تھے۔ اُس وقت سے ہر کوئی بھاگ بھاگ کر کام کر رہا تھا۔ اور کچھ نہ کچھ کر رہا تھا۔ اور کام ختم کرتے ہوئے موسیقی سن رہا تھا۔ کافی دیر ہو چکی تھی۔ چیڈ اور جیسیکا نے سب کو روکا اور ہمیں زبردست کھانا دیا۔ چیڈ نے گٹاربجایا اورآگ کے گرد گانا گایا۔ جہاں تک میرا تعلق تھا۔ میرا ذہن مون ڈانس جیم کے حقیقی مزے کی طرف تھا۔ کہ یہ کب ہو گا۔ لوگ کیمپ کی آگ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ جو پڑوسی کمپیر تھے وہ آگے ہوئے اور آگ کے گرد دائرہ بنا لیا۔ اور ہم نے اپنے دوستوں کے ساتھ میوزک کا پروگرام بنا لیا۔ اور ایک دوسرے کو سننے لگے۔ یہ دوسرا موقع تھا۔ جب چیڈ کے گیت اور گٹار سے مجھے برکت ملی۔ اُس نے بجانا شروع کیا۔ اور میں نے دیکھا کہ ایک امن و سلامتی کا منظر مجھ پر تھا۔ اُس نے جو دوسرا گیت گایا وہ خدا کا ہمیں معاف کرنے کے متعلق تھا۔ مجھے وہ گیت بہت پسند آیا۔ اُس کا اصل شروع کا مصرع  اس طرح تھا.تم مجھے معاف اور میں تمہیں معاف کروں گا۔ ہم ایک دوسرے کو معاف کریں جب تک کہ گائیں نیلی نہیں ہو جاتیں۔ ہم آسمان میں چلے جائیں گے۔ جب وہ گیت اپنے 2 دوسرے گیت کے طور پر گایا۔ اُس کے متعلق میرا کوئی خیال نہیں تھا۔ کہ اُس نے کون سا گیت گانا ہے۔ اور کس ترتیب میں گانا ہے۔ جونہی اُس نے گایا۔ میں اُڑتے ہوئے محسوس کیا۔ میں نے اپنی کُرسی سے اچھل کر چلاتے ہوئے کہا۔ خدا کی تعریف ہو ہم تمام خوشی سے ہنسنے لگے۔ میرے دائرہ میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ 2 کے متعلق جانتے تھے۔ جن کا میں نے اپنی دستاویز میں ذکر کیا ہے۔ چیڈ کو اُن کے متعلق کوئی پتہ نہ تھا۔

جب چیڈ بجا رہا تھا۔ تو ہم نے ایک اور روشنی کو ظاہر ہوتے ہوئے دیکھا۔ ایک 2 دوسری شمالی روشنی ظاہر ہوئی ۔ یہ بہت بڑی تھی۔ بڑی شاندار اور سارے آسمان پر پھیلی ہوئی تھی۔ اور یہ تقریباً ہمارے بالکل اوپر چمکی۔ چیڈ بجاتا رہا۔ اور ہم نے اُسے کہا کہ کیا وہ کسی ایسے گیت کے متعلق جانتا ہے۔ جس میں صرف 2 کے بارے میں کچھ ہو۔ وہ بیٹھ گیا۔ اور کچھ دیر کے لیے سوچا لیکن اُس کے ذہن میں کچھ نہ آیا۔ پھر اُس نے اتنا ہی کہا۔  ٹھیک ہے میں نہیں جانتا کہ میں یہ گیت اس وقت گانے جا رہا ہوں۔ لیکن اگر کوئی گیت ہے۔ کہ جس میں 2 ہے تو بالکل یہی ہے۔ اُس نے اپنے گٹا ر پر اپنی انگلیاں پھیرنی شروع کر دیں۔ اور اُس کے منہ سے یہ گیت نکلا۔ ’’ گائے گائے ہر کوئی گائے‘‘ اور اِس گیت میں 2 ایک ہی دفعہ نہیں تھا۔ ہا ہا ہا ۔ یہ حقیقی طور ہر ایک نشان تھا۔ خدا کی تعریف ہو آج 2 قوس قزح دکھائی دیں اور 2 دفعہ مشرقی روشنی دیکھی۔ اگلے دِن اب 2:35 ہو رہے تھے۔ ماؤنٹین ایش 25 منٹ میں گانے والے تھے۔

میں نے اُن کو دوسرے جیم کے علاوہ نہیں جانتا تھا۔ میں نے اُن کی ویب بنانے میں اُن کی مدد کی تھی۔ کیون جو کہ اُن کے بینڈ کا رُکن تھا ویب صفحات بنانا جانتا تھا۔ اُس کو اب صرف ایچ ٹی ایم ایل کوڈنگ میں تھوڑی سہ مدد درکار تھی۔ یہ کہ ویب صفحہ پر فائیلیں کیسے لوڈ کی جاتی ہیں۔ سہولت فراہم کرنے والے کے ذریعے سے۔ پھر اُس نے خود اپنے سے بہت سی خوبصورت اور اچھی چیزیں بتائیں۔ اور اب جب ضرورت ہوتی ہے وہ اپ ڈیٹ کر لیتا ہے۔ ماونٹین ایش کے پروگرام کے دوران میں نے مارک سے بات کی۔ اور پوچھا۔ جب وہ اسٹیج پر فن کا مظاہرہ کر رہے ہوں تو مجھے کہاں سے تصویر لینا ہو گی۔ اُس نے کہا تم جہاں مرضی جا کر تصویر لے سکتے ہو۔ بس ذرا اُن کے سامنے نہ آنا۔ ہا ہا ہا ۔ بینڈ کے ممبران روجر، مارک ، گیرے اور کیون تھے۔ جب وہ اسٹیج پر تھے۔ تو میں سیدھی طرف گیا۔ اور تصاویر لیں۔ پھر میں اسٹیج پر سامنے کی طرف نیچے گیا۔ جب میں نے کچھ تصاویر لے لیں۔ تو میں لوگوں میں چلا گیا۔ تاکہ باقی پروگرام سے لطف اندوز ہو سکوں۔ اگرچہ میں اسٹیج کے ایک طرف سیدھے ہاتھ پر کھڑا ہو سکتا تھا۔ یا بالکل سیدھے ہاتھ پر اسٹیج کے نیچے ۔ بہترین نظارہ اور بہترین آواز تماشائیوں میں جا کر ہی محسوس کی جا سکتی ہے۔اور مزید یہ کہ لوگوں میں جا کر اورلوگوں کے ساتھ مل کر ڈانس کر کے ہی لطف اُٹھایا جا سکتا ہے۔ میں اِس وقت لوگوں سے باہر کھڑا تھا۔ اورماؤنٹین ایش کے فن کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ آگے والے لوگ 2 ، 2 کے جوڑوں میں کھڑےہیں۔ یہ بڑا عجیب لگ رہا تھا۔ میں نے جدھر بھی دیکھا میں نے بہت بڑا ہجوم نہ دیکھا۔ سوائےمیرے صرف دودو لوگ کھڑے تھے۔ میں اکیلا کھڑا تھا ۔ باہر میں بالکل اکیلا کھڑا تھا۔ جب میں نے یہ سوچاہی تھا۔ ایک مکمل طور پر اجنبی شخص آیا۔ اور میرے آگے کھڑا ہو گیا۔ کوئی ایسا جس کو میں اپنے ماضی کے متعلق کچھ بھی نہیں بتا سکتا تھا۔ میں نے سوچا یہ کیسا شاندار ہے۔ میں اب مزید یہاں پر اکیلا نہیں ہوں۔ خدایا تیرا شکریہ پھر میں نے سوچا کہ اس کی ضرور کوئی وجہ ہے۔ کہ وہ میرے پاس آیا اور میرے پاس کھڑا ہو گیا۔ پس میں نے اپنا تعارف کروایا۔ اورکہا ہائے۔ میں نے اُس کا نام پوچھا۔ اُس نے جواب دیا۔ ٹونی، ٹونی کے ساتھ بات کرنے میں مجھے کافی دیر لگی۔ میں بیٹھا اور تھوڑی دیر کے لیے سوچا کہ میں جانتا ہوں کہ میں مزید اکیلا نہیں ہو سکتا۔ پھر مجھ پر گہرے جذبات چھا گئے۔ خُدا نے میرے دِل میں اپنا کلام ڈالا۔ اوریہ میری زندگی میں پہلی دفعہ تھا۔ خُدا نے مجھ سے واضح طور پر کلام کیا۔ یہ کوئی آواز نہیں تھی۔ یہ ایک زبردست خیال تھا جو مجھ میں آیا۔ اور میں نے صرف یہ جانا کہ یہ میں نے خود نہیں سوچا۔ اُس نے مجھے 5 الفاظ کہے،’’خُدا کیساتھ امن میں رہو‘‘ یہ روحانی طور پر میرے لیے مقدس تھا۔ میرا جسم اوپر اٹھتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اور خوشی سے بھرا ہوا تھا۔ جب میں نے یہ سوچا کہ اُس نے مجھے کیا کہا اور اِس کا پورا مطلب کیا ہے۔ میں مُڑا اور جہاں ٹونی کھڑا تھا  میں وہاں سے دور چلا گیا۔ میں رویا۔ خوشی کے آنسو میرے گالوں پر تھے۔ میں بہت خوش تھا۔ میں ابھی تک کھڑاتھا اور آنسو میرے چہرے پر بہہ رہے تھے۔ کیا خوبصورت تجربہ تھا۔ میں نے بہت عظیم محسوس کیا۔ ہمیشہ سے میرے ذہن میں تھا۔ کہ خدا میرے متعلق کیا سوچتا تھا۔ اور میں جانتا تھا۔ کہ اُس نے مجھ سے کہا ہے۔ خُدا کیساتھ امن میں رہو پھر میں نے اُسے لکھ لیا۔ اور کوئی چیز میرے پاس آئی اور کہا وہ چاہتا ہے کہ اُسے پیار کرو اور معاف کرو کچھ لوگ خُدا کو معاف نہیں کرتے۔ یا معاف کرنا نہیں چاہتے۔ اُس کے لیے جو ہو چکا ہوتا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں۔ جن کو ہم کبھی سمجھ نہیں سکتے۔ کچھ لوگ کیوں مر جاتے ہیں؟ بہت زیادہ تباہی و بربادی کیوں ہوتی ہے؟ میں نہیں جانتا کہ خُدا نے کبھی کیا ایسا کیا ہو۔ جس کی وجہ سے اُسے معافی کی ضرورت ہو۔ لیکن میں کسی بھی چیز کے لیے اُسے معاف کرتا ہوں۔ اور میں اُس سے محبت کرتا ہوں۔

وہ میرے لیے کتنا معاف ہوا ہے؟ اور پھر میں نے اُسے یہاں لکھا۔ یہ حقیقت میں ایک مکاشفہ ہے۔ یہ ایک جواب کی طرح ہے۔ کیا یہ اختتام تھا؟ کیا 2  کا آنا اب رُک گیا ہے۔اوریہ تمام کچھ ماؤنٹین ایش کے پروگرام کے دوران ہوا۔ 2 کا آنا ابھی رُکا نہیں تھا بلکہ یہ اور بھی ناقابل  یقین طریقے سے آیا۔ میں کیمپ کی طرف واپس آیا۔ اور ہولی اور ٹام کے کیمپ کی طرف انہوں نے مجھے روک لیا۔ ٹام نے مجھے کہا، کیا مجھے نہیں معلوم کہ میں نے اِس سے پہلے جیم میں اس بارے میں بتایا ہو۔ لیکن اس پر ذرا ایک نظر ڈالو اُس نے اپنے ہاتھ پر اپنے انگوٹھے کے پاس ایک داغ دکھایا۔ پھر اُس نے مجھے بتایا کہ اُس کے پیدائشی دو2 انگوٹھے تھے۔ میں اِس کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ میں اُسے دیکھ کر پریشان نہیں ہوا۔ اور اُس کے انگوٹھے کے پاس داغ دیکھنے میں بد نما نہیں دکھتا تھا۔

شام کے 4:20 پر میں نے تمباکو نوشی چھوڑنے کی خواہش کی۔  یہ میرے کمپیوٹر کی گھڑی کے ساتھ ہوا۔ کسی نے اُسے 4:20 پر سیٹ کر دیا۔ اُس میں سیل نہیں تھا۔ میں کل 7:11 پر اُس کا وقت درست کر دیا تھا۔ اور پھر آج صبح اس کو 4:20 پر درست کیا۔ پھر میں نے اُسے دوبارہ 7:11 پر سیٹ کیا۔ برینٹ اور جوئے اُس کو تبدیل کر رہے تھے۔ میں نے یہ ایک مذاق ہی جانا۔ انہوں نے کہا۔ کہ لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4:20 کو ایک سرگوشی کو پکڑنے کے لیے بین الاقوامی نشان کس قسم کا ہونا چاہیے۔ انہیں مذاق اچھا لگا۔ لیکن اُسی لمحے میں سگریٹ پینا چھوڑ دیا۔ جیم میں ایک پورا د ن ۔ 24 دِن اور 20 منٹ بعد میں نے ایک اور سگریٹ کا پیکٹ خریدا ۔ جیم میں ماضی میں گھڑی ہمیشہ 8:10 پر سیٹ ہوتی تھی۔ اور اس سال انہوں نے مجھے کہا،’’میں اتنا گِرا ہوا بھی نہیں ہوں میں گھڑی کی بیٹری خرید لوں گا۔ ہا ہا ہا۔ تب میں نے اُسے کچھ دن یہاں اور کچھ دن  وہاں چھوڑا لیکن میں اُسے مکمل طور پر نہیں چھوڑ سکوں گا۔  میں صرف اُس کے لیے کوشش کرتا رہا۔ اور دُعا کرتا رہا۔ جب میں نے گھڑی کو 7:11 پر سیٹ کیا۔ جو میرے پاس اِس کی کوئی وجہ اور تک بندی نہیں تھی۔ میں نے بس وہ کر دیا۔ میں نے گھڑی کو اوپر سے اُتارا اور چھوٹے پہیے کو گھُمانا شروع کیا اور اُس نے صرف 8:10 یا 4:20 نہیں کیا وہ تمام تھا جس کی میں نے کوشش کی۔ وہاں پر ایک سٹور تھا ۔ جس کا نام 7-11 تھا۔ اور یہ ملتا جلتا بھی تھا۔  پھر میں نے سوچا۔ اِس وجہ سے میں نے اُس وقت اُس کو درست کیا۔ لیکن اُس دِن جس پورے دِن میں نے سگریٹ کوچھوڑے رکھا۔ وہ 11۔ جولائی 2003 تھا۔ (7/11/2003 )۔ جب میں نے اُس تاریخ کےاور وقت کے اکٹھےہونے کا عجیب احساس کیا۔ کہ وہ وقت کے ساتھ دوہری تھی۔ جو میں نے حاصل کی تھی۔ اور وہ وقت گھڑی پر دو دفعہ تبدیل کیا۔ جب یہ وقت میرے ذہن میں ختم ہوا مجھے یہ پسند تھا۔ یہ ایسا تھا۔ جس کی اُس وقت اور وہاں کرنے کی ضرورت تھی ۔ میں نے ہر کسی کو بتایا۔ کہ میں نے صرف سگریٹ چھوڑنے کا ارادہ کیا اور پھر یہ کر لیا۔ اگلے دِن سبھی نے مجھے دوبارہ سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا۔ اور اگرچہ میں نے یہ دوبارہ شروع کر دیا۔ اور یہ صرف ایک دِن کے لیے جب میں جیم میں تھا۔ جب وہ بہت معنی خیز لگ رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں ناکام ہو گیا ہوں۔

لیکن صرف اُس کے بعد جب میں نے ایک دِن کے لیے سگریٹ چھوڑے ۔ 2 عورتیں چہل قدمی کرتے ہوئے ہمارے کیمپ کی طرف  آئیں۔ اور جیم کے آگ والے میدان میں جانے سے پہلے اپنی بوتلوں کو ختم کرنے کے لیے اور آرام کے لیے ٹھہریں۔ انہوں نے مجھے اپنی دستاویز پر لکھتے ہوئے دیکھا۔ اور مجھ سے پوچھا۔ کہ میں کیا لکھ رہا ہوں؟میں نے اُن کو بتایا۔ یہ ایک عمدہ دستاویز ہے جو آج تک تم نے دیکھی ہے۔ اِس نے اُن کی توجہ حاصل کی ۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے کیا وہ اس سے کچھ سننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہاں مہربانی کر کے سنائیں۔ پس میں اپنی دستاویز کے اوراق پیچھے شروع کی طرف پلٹے۔ جب میں نے اُسے پڑھا تو کچھ ناقابلِ یقین ہوا۔ میں نے اُسے اونچی آواز میں پڑھنا شروع کیا۔

مون ڈانس جیم کے دوسرے دِن، میرے باپ نے یہ دستاویز مجھے دی۔ یہ 10 جولائی 2003 تھا۔ مجھے موجودہ منظر بیان کرنے دیں۔ جلتی ہوئی آگ کے ساتھ ہم چھ 6 لوگ کنوپی کے نیچے بارش خشک رہنے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔جب میں نے یہ حصّہ پڑھا تو میرا باپ ، میرا انکل اور  دوسری 2 عورتوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ اور کہنے لگے  اووووووہ جب میں اُن کے لیے اپنی دستاویز پڑھ رہا تھا۔ میں نے سوچا کیا وہ خوفناک تھا۔ جو انہوں نے کیا ۔ بہت اچھا پھر جب وہ مڑا تو ہم دوبارہ 6  تھے ۔ اور بارش ہو رہی تھی۔ اور دوبارہ سے آگ جلائی۔ پھر یہ تھا جس کے لیے انہوں نے اوووووہ  کہا۔ میں مسلسل پڑھتا رہا۔ جب کہ ہر کوئی خاموش تھا۔ میرا باپ اور میرا انکل اُن چھ میں سے 2 تھے۔ اور وہاں میرے اور میرے دوستوں کے ساتھ تھا! جب میں نے یہ حصّہ پڑھا ۔ تو یہ دوبارہ بھی ایسا ہی سچا تھا جیسے میرا باپ اور میرا انکل اُن چھ 6 میں سے تھے۔ اُس گروپ کی طرف سے مزید اوووووز کیے گئے۔ میں پڑھتا رہا۔ ایمی ، میلیزہ اور ہولی کی بہن کے میں اُس وقت تک اونچا پڑھتا رہاتھا۔ اور میں نےکل لکھا کیاتھا۔ کیونکہ گزرے کل تو میں بالکل نہیں جانتا تھا۔ اور ہولی کی بہن کا نام یاد نہیں آ رہا تھا۔ کل میں نے صرف یہ لکھا تھا۔  ہولی کی بہن  اُس دن بعد میں ۔ میں نے اُس کا نام دوبارہ لیا۔ میں نےاُس کا نام پوچھا۔ پھر اب مجھے یاد آیا جیسا کہ میں اوپر لکھا ہے۔ میں نے ویسا ہی کیا ہے۔ جیسامیں نے اوپر لکھا ہے۔ جب میں نے یہ کہا کہ’’ ہولی کی بہن‘‘ تو وہ 2 مکمل اجنبی 2 بے تکی عورتیں جو ابھی ابھی تھوڑی دیر کے لیے بارش کی پھوہار سے بچنے اور اپنی بوتلیں ختم کرنے اور سستانےکے لیے رُکی تھیں۔ وہ بڑی سادگی سے ڈرتے ہوئے ٹکرائیں۔ اور پھر ابو ، انکل ،ایمی اور میں چھ کی بجائے میرے ابو، میرے انکل ،ایمی ، میلیزہ اور ہولی کی بہن کے میرے ساتھ ایک دِن پہلے بیٹھے ہوئے تھے۔ اورجو مکمل طور پر اجنبی تھیں اُن کے نام یہ تھے۔ ہولی اور دبورہ کے’’اووووہ‘‘ دونوں خواتین نے سوچا یہ جنگلی ہے۔ وہ جانے والے تھے اور آگ کے میدان میں چلے گئے۔          میں نے سوچنا شروع کیا۔ کیا میں چیزوں کی دوہرائی دیکھنے جا رہا ہوں جو میرے ساتھ کل واقع ہوئیں۔ بہت اچھا 2 زبردست چیزیں جو کل ہوئیں۔ وہ 2 قوس قزح اور 2 شمالی روشنیوں کا ظاہر ہوناتھا۔ اب تو مکمل روشن دِن تھا۔ اور پوری چمک تھی۔ ہمارے اوپر ایک بہت بڑا بادل تھا۔ اور تھوڑی سی بارش ہوئی جو زیادہ دیر تک جاری نہ رہی ۔ میں نے اُس کے متعلق سوچا اور میں کنوپی سے باہر آ گیا اور آسمان کو دیکھا۔ لیکن میں نے کوئی قوس قزح نہ دیکھی۔ پھرمیں نے اُس کے متعلق مزید سوچا۔ اور قوس قزح کے حساب سے بارش تو ہم سے بہت دور ہونی  تھی۔ کیونکہ قطروں پر روشنی پڑنے سے ہی قوس قزح بنتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم کوئی قوس قزح نہیں دیکھ سکتے کیونکہ وہ ہمارے بالکل اوپر تھی۔ ہر کوئی جو ہم سے ایک میل کے فاصلے پر ہوتا یا ہم سے مغرب میں جسے ہم دیکھنے کے قابل ہوتے ۔ اور مجھے یقین تھا کہ سلسلہ یہی ہے۔ اِس رات چیڈ گٹار بجانے دوبارہ آیا۔ اور ہم نے دیکھا کہ اُس رات بھی یعنی لگاتار دوسری رات بھی شمالی روشنی چمکی۔ اُس رات ابھی تک ہم نے 2 کی بجائے صرف 1 دفعہ روشنی دیکھی تھی۔ میں باہر کے حصّہ کی طرف گیا۔ اور لوگوں کا اندازہ لگایا۔ جس نے واکر کے قصبے سے آج قوس قزح کو دیکھاتھا۔ جو ہم سے تقریباً 3 میل کے فاصلے پر تھی۔ لوگ جیم کے آگ کے میدان کے اوپر صرف ایک قوس کی قوس قزح دیکھ سکتے تھے۔ مائیک نے ہمارے کیمپ کی طرف چہل قدمی کی۔ صرف وہی ایک لڑکا تھا جس نے امن کے نشان والا امریکی ہیٹ پہن رکھا تھا۔ میں نے اُسے برینٹ کے ساتھ متعارف کروایا۔ جو کیمپ سائیٹ میں میرے ساتھ تھا۔ اور اُس کی لڑکی دوست جیلیانہ بھی اُس کے ساتھ تھی مائیک نے کنوپی کی طرف چہل قدمی کی ۔ جس کے نیچے ہم تھے۔ اُس نے اے سی / ڈی سی کی شرٹ پہن رکھی تھی۔ جو کہ (روک اینڈ رول) بینک بیڈ ہے۔ دل چسپ بات یہ تھی کہ پچھلے سال جب میں برینٹ سے کسینو میں ملا تھا۔ میں نے بھی اے سی / ڈی سی والی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ مجھے اے سی/ ڈی سی گانوں کی بیٹ پسند تھی۔ لیکن اب میں ان الفاظ میں اتنی دلچسپی نہیں لیتا۔ کیونکہ یہ تو اب بہت سے گانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ میوزک میں میرا ذائقہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ اِس چیز کا عکاس بھی ہے ۔ کہ میں دوزخ کے راستے پر تھا۔ لیکن اب میں ایک مختلف راستے پر ہوں۔ اگر اِس کا موازنہ ہائی وے سے کیا جاتا۔ تو مجھے کہنا تو پھر اِس کا موازنہ جرمنی میں آڈوبون کی رفتارکی حد سے نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے لگتا کہ میں اِس نئے راستے پر اتنی تیز رفتاری سے نہیں چل سکتا۔ لیکن اُسی وقت میں جانتا ہوں کہ میں اپنی طرف  آنے والی ہر چیز کا مشاہدہ اچھے طریقے سے نہیں کر سکتا۔ میں یسوع مسیح میں بالکل نیا ہوں وہ برداشت جس کی مجھے ضرورت ہے۔ تم ایک شیر خوار بچے کو گوشت، آلو اور گوشت کے قتلے کی خوراک سے شروع نہیں کر سکتے۔ تمہیں اُن کو خالص اُبلی ہوئی خوراک سے شروع کرنا ہو گا۔

جب میں کیمپ میں تھا۔ تو میلیزہ اور اُس کی امّی جوڈی میرے پاس ٹھہری اور مجھے کہا کہ تمہارے پاس کچھ چیونگم ہیں میں نے فوراً تحفہ کے تھیلہ میں سے جو ہم نے کولمن کے کیمپ کی نمائش سے لیا تھا۔ کچھ چیونگم نکا ل کر اُن کو دیں۔ میں نے اُن کے کہنے کے صرف 2 سیکنڈ کے بعد میں مُڑا اور جلدی سے اُن کو یہ دیں۔ پھر اُن غالب خیالات میں سے میرےذہن میں ایک دِن ایک خیال آیا۔ کہ میلیزہ کے مسلسل دو 2 دفعہ کہنے کے بعد میں نے یہ لکھ دیا تھا۔ یہ میں نے پہلی دفعہ کہا۔ کہ اُس کی آواز بہت اچھی تھی۔ پس میں نےیہ دوبارہ اونچی آواز میں کہا، تم حاصل کر لیتے ہو جب تمہیں ضرورت ہوتی ہے۔ جب حقیقی طور پر تمہیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تو ایسے لگتا ہے۔ کہ مجھے یہ سوچنے کے لیے دیا ہے۔ کہ خدا کیسے اپنے لوگوں کے ساتھ اکثر کام کرتا ہے۔ جب میں یہ لکھ رہا تھا۔ میرے ذہن میں بہت انتشار تھا۔ جس کا اندازہ کرنا بہت مشکل تھا۔اور اُن کو کسی مداخلت کے بغیر لکھنے کے قابل تھا۔ اگر میں اُسے تیزی سے نہ لکھتا تو میں جا نتا تھا کہ میں اُسے بھول جاتا۔ تو یہ بڑا اہم لگتا تھا کہ میں اُسے لکھ لیتا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے میں کنوپی کے اندر بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کے تھوڑی دیر بعد میلیزہ اور اُس کی امّی بھی میرے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں کِسی چیز کی طرف متوجہ ہوا۔ کہ میں نے تمام دوسرے جیمز کو پہلے دیکھا ہے۔ بلکہ اب میں نے اُسے محسوس کیا تھا۔ 2 معذور جیمرز نے ہمارے نزدیک کیمپ میں آئے جو کہ چار پہیوں والی گاڑی جو کہ معذوروں والی کُرسی کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔ اور کیمپ کے کیچڑاور مٹی  والے حصّے میں بھی بہت اچھے طریقے سے جا سکتی تھیں۔ ماضی کے جیم میں میں نے اُنہیں معذوروں والی کرسی پر دیکھا تھا۔ لیکن اُن کی نئی نمائشی معذوروں والی کرسیوں نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ میں نہیں جانتا کہ کیوں؟ لیکن کِسی وجہ سے میں نے میلیزہ سے پوچھا کہ کیا وہ اُن لوگوں ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو جانتی ہے؟ اُس نے کہا نہیں کیونکہ وہ اُن کے نام نہیں جانتی تھی۔ میں نے کہا،’’ اچھا اب، میں  شرط لگاتا ہوں کہ یہاں پر اُن 2 جیمرز کے ناموں کے ساتھ 2 معنی خیز انداز میں جُڑا ہوا ہے۔ وہ 2 جیمرز جو معذوروں والی کرسی پر تھے۔ وہ 2 مختلف جگہوں پر تھے۔ اور یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں تھے۔ لیکن وہ ہمیشہ ہماری طرف سے گزرتے اور تقریباً ہمارے علاقے کا ہرشخص جیم جانے کے لیے وہاں سے گزرتا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے بڑے زور کے ساتھ اُن کے پیچھے جانا چاہیے۔ اور اُن سے بات چیت کرنی چاہیے۔اور اپنا تعارف کروانا چاہیے پس میں نے معذوروں کی کرسی پر بیٹھے ہوئے آدمی کا پیچھا کیا وہ دونوں بہت تیز حرکت کرتے تھے۔ پہلے میں نے لڑکے کو جا لیا۔ اورمیں نے جان لیا کہ اُس کے لڑکے کا نام بل ہے۔ ہممممممم میں نے سوچا اِس میں تو کچھ بھی عجیب نہیں ہے۔  پھر میں معذوروں کی کرسی پر بیٹھی ہوئی اُس عورت کے پاس گیا۔ اور اپنا تعارف کروایا۔ اُس کا نام کے تھا۔ ایک اور کے لیکن اُس کے نام کے ہجوں میں آخر میں ای آتا تھا۔ پھر میں نے اُس پر ایک منٹ کے لیے سوچا۔ اور پھر وہ خیال مجھ سے ٹکرایا۔ جیسے ایک ٹن اینٹوں کا وزن ہوتا ہے۔ اور میرے چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ چھا گئی۔ میں کیمپ کی طرف واپس آیا۔ اور میلیزہ نے بڑی پُر جوش آواز میں مجھ سے پوچھا۔ ہاں اُن کے نام کیا ہیں؟ مجھے بتاؤ؟ میں قہقہہ لگایا اور اُسے بتایا۔ اُس نے تلاش کرنے کے لیے کتاب پڑھی ہو گی۔ لیکن یہ بہت دلچسپ تھی۔ تم نے دیکھا کہ وہ 2 لوگ جو مون ڈانس جیم کے مالک ہیں۔ اور اُسے چلاتے ہیں۔ وہ میاں اور بیوی ہیں۔ اور اُن کے نام بل اور کیتھی بائیلو ہیں۔ اگر تم دوسرے نام کیتھی سے دو ہجے نکال لیتے ہو۔ تو نیا نام کے ہو گا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں تم سے ملا۔ اورخوشی ہے کہ تمہیں جاننے کے لیے زور دیا۔اِس سے پہلے سہ پہر کو چیڈ نے بوسٹن کی شرٹ پہننے کے لیے کام روکا۔ جو کہ اُس کا پسندیدہ بینڈ ہے۔ اور کہا کہ وہ نہیں جانتا کہ وہ آج کی رات گٹار بجانے کے قابل بھی ہو گا کہ نہیں۔ اُس نے اپنے ٹوٹے ہوئے انگوٹھے کو کھولا کہ وہ اِس کی مدد سے گٹار نہیں بجا سکے گا۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں نے اُسے تلاش کیا میں جانتا تھا کہ ماؤنٹین ایش کے لڑکے مجھے اسٹیج کے پیچھے پانے کے قابل ہو جائیں گے۔اُس کو یہ بتانے کے تھوڑی دیر بعد ایک بہت بڑا مضبوط خیال میرے ذہن میں آیا کہ اٹھو اور اسٹیج کی پچھلی طرف بھاگو۔ اور اُسے لینے کے لیے تلاش کرو۔ میں نے واقع ہی ایک آواز سُنی  تیزی سے جاؤ. جو مجھ سے کہہ رہی تھی۔ چنانچہ میں نے جیم کے مرکز کی چھوٹی پہاڑی کی طرف بھاگنا شروع کیا۔پھر میں نے مشرق    کی طرف رخ کیا اور میں نے بڑے اسٹیج کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔ جہاں پر میں جانتا تھا کہ میں چیڈ کو وہاں پا لوں گا۔ اگر میں ماؤنٹین ایس کے لڑکوں میں ایک کو پالوں۔ جونہی میں مُڑا اور اُس راستے پر سیدھا ہوا تو ماؤنٹین ایش کا کیون سیدھا میری طرف آ رہا تھا۔ ووو میں نے سوچا ، وہ کیسا موزوں تھا؟ میں نے اُسے صورتِ حال بتائی۔ اور جو گٹار مجھے چاہیے تھا۔ اُسے حاصل کیا۔ اُس نے اپنی جیبوں کی طرف دیکھا۔ جیسے کہ اُسے یقین تھا۔ کہ وہ کچھ مونو گرام بنوانا چاہتے تھے جن پر ماؤنٹین ایش لکھا ہو۔ میں نے سوچا ، او  ووو جو کہ بہت اچھاہونا تھا۔ جو اُن میں سے ایک کے پاس تھا۔ جیسا کہ اُس نے اپنی جیبوں کے متعلق محسوس کیا۔ وہ ایک بھی حاصل نہ کر سکا۔ پھر اُس نے مجھے بتایا کہ اسٹیج کے پیچھے کے علاقہ کی طرف میرے پیچے آؤ ۔ سو وہ مجھ سے ایک حاصل کرسکے۔ اُس نے دو قدم لیے اور پھر رُک گیا۔ اُس نے کہا اووہ ایک منٹ انتظار کریں ! فلپسٹر میرے پاس تمہارے لیے کچھ نیا ہے اُس نے اپنا بٹوہ باہر نکالا اُس نے کونے میں ایک گہرے گڑھے کو گہرائی تک کھودا۔ اور مجھے ایک گٹار بجانے کے لیے انگلی پر چڑھانے کے لیے خود دیا۔ جو کہ اُس نے اسٹیج کے پیچھے سے بوسٹن بینڈ کے ایک رکن سے لیا تھا۔ جس نے رات پہلے ہی مظاہرہ کیا تھا۔ میں نےکیون کو شکریہ ادا کیا۔ اور چیڈ کو تلاش کرنے کے لیے دوبارہ اپنے راستے پر ہو لیا۔ نہ صرف مجھے ،اُسے اور ایک اور خود کو تلاش کرنے کی ضرورت تھی۔ حقیقت میں وہ میرے پاس ایک بہت ہی مکمل خود کے ساتھ آیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ خدا کیسے کام کرتا ہے! کیا میں نے وہ حاصل نہیں کیا۔ جب میں نے خدا کو سُنا۔ اور کیا میں زیادہ تیز نہیں دوڑا۔ جب میں نے اُن کا احساس کیا۔ جو خیالات مجھ پر حاوی تھے۔ میں نے کیون اور موقع کو کھو دیا۔ یہ حیران کُن نشانات کو مجموعہ تھا۔ اُن مواقع کے لحاظ سے کہ جس طرح سے یہ ہوا۔ میں صرف کیون کے لیے دوڑا اور دوسرے کسی رُکن کے لیے نہیں دوڑا تھا۔ کیونکہ کیون ہی وہ واحد شخص تھاجس کے پاس بوسٹن کا خود تھا۔ اگر میں اسٹیج کے پیچھے جاتا بینڈ کے دوسرے ارکان وہاں ہوتے تو میں مختلف خود حاصل کرتا۔ اور مجھے کیون کے پیچھے اُس وقت بھاگنا بھی پڑا جب اُس کے پاس کوئی بھی خود نہیں تھا۔اورکوئی خود اُس کے قریب بھی نہیں تھا۔ جن کو آسانی سے اُن میں سے حاصل کرنے کے قابل ہوتا۔ اُس نے یقینی طور پر سوچا کہ اُس کی جیب میں اُن کا ایک گُھچا ہے، لیکن،اُس کے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا۔ اور میں کہاں اُس کے پیچھے بھاگا ہم اسٹیج سے بہت دور تھے اور اپنے دوسرے خود آسانی سے حاصل نہیں کر سکا۔ پھر اُسے خیال آیا کہ بوسٹن خود اُس کے بٹوے میں ہے۔ ہا ہا ہا، اُس خیال کی طرح جو مجھے آیا کہ اٹھو اور ابھی جاؤ۔ ہی ہی ! خدا بہت ہی اچھا ہے!

چیڈ اپنے کیمپ سائیٹ کی طرف واپس چلا گیا۔ اور میں نے اُسے پا لیا۔ میں جانتا تھا کہ وہ اپنے گٹار بجانے والے خود سے بہت محبت کرتا تھا۔ جیسا کہ میں اُس کے کیمپ سائیٹ میں داخل ہوا تو میں دلیری کے ساتھ تمام جیمرز کو جو چیڈ کے گروہ کے لوگ وہاں ٹھہرے ہوئے تھے کہا کہ چیڈ کے لیے خدا کی طرف سے تحفہ ہے۔ تو اُن تمام لوگوں نے حیرانگی کے ساتھ میری طرف دیکھا لیکن وہ اُسے دیکھنے کے لیے راضی تھے۔ جس کے متعلق میں نے ابھی بات کی تھی۔ چیڈ کیمپ سے باہر آیا اور میں نے اُس کے ہاتھ پر خود رکھ دیا۔اور اُسے کہا یہ خدا کی طرف سے تحفہ تھا۔ اُس نے اُسے دیکھا ۔ اور اُسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا۔ میں نے اُسے یہ کہا کہ تم بہت حیران اور خوشی سے بھر پور ہو۔ اُس نے اصل اور خاص وجہ بتائی۔ کہ وہ جیم اِس سال اِس لیے آیا ہے کہ بوسٹن بینڈ کو سُن سکے۔ اور بوسٹن کی ٹی شرٹ جو پہنی ہوئی تھی۔ اُس پر اُس کے 30 ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ جو یہ چیز بتا رہا تھا کہ وہ کتنا سچا ہے۔ اُس نے خود کو دوبارہ دیکھا اور بوسٹن کا لوگو دیکھا۔ اور کہا کہ وہ اسے گٹار بجانے کے لیے استعمال نہیں کر پائے گا۔ اور وہ اِس خود کو بطور نشانی رکھے گا۔ اُس نے ہمارے کیمپ میں آ کر بہت زبردست فن کا مظاہرہ کیا۔ اور اُس رات اپنے سوجھے ہوئے انگوٹھے سے گٹار بجایا اگر اُس میں بہت درد ہو رہا تھا۔

کیمپ فائر کی آخری رات میرے راستے کی طرف سے دو شرابی آئے۔ میں نے مدد کے لیے اپنے بازو پھیلائے پہلا ایک پرانا امریکی تھا۔ جو ٹام اور ہولی کی کیمپ کے قریب جلائی گئی آگ کے پاس بے ہوش ہو گیا۔ میں نے اُس سے کئی دفعہ بات کی اور اپنی ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ اور اُس رات اُس سے دو دفعہ پوچھا کہ کیا اُسے کسی چیز کی ضرورت ہے۔ اُس نے مجھے بڑے مخلصانہ انداز سے دیکھا۔ وہ آگ کے پاس تھوڑی دیرآرام اور اپنے آپ کو گرم رکھنا چاہتا تھا۔ وہ کمر کے بل بالکل تیر کی طرح سیدھا لیٹ گیا۔ اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دِل پر رکھ لیے۔ میں وہاں گیا اور اُسے دیکھا کہ کیا وہ بالکل ٹھیک ہے۔ اور اُس نے مجھے یقین دلایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے پس میں نے اُسے سکون سے رہنے دیا۔ اور آخر کار وہ اُٹھا اور اپنے راستہ پر چلا گیا۔

دوسرا شرابی آدمی جو شمالی مینوسٹا کا بوڑھا آدمی تھا۔ جیسا کہ اُس نے بتایا کہ وہ ہمارے کیمپ سائیٹ کی طرف چہل قدمی کر رہا تھا۔ جیسا کہ میں اور میرے ابو آخر کار 4 بجے کے قریب جیم کے میدان میں سٹاف کے لیے پارٹی کی طرف جا رہے تھے۔ اُس وقت تقریباً 2:30 اور 3:00 کے درمیان ہوئے تھے۔ جب میں اور میرا باپ گیٹ کی طرف جا رہے تھے۔ ٹھیک اُسی وقت وہ شرابی بھی آیا۔ اور گیٹ کی طرف چلا گیا۔ جیم کا فائر گراؤنڈ اب خالی تھا۔ اور سیکیورٹی عملہ اس بات کو یقینی بنا رہا تھا۔ کہ کوئی رہ تو نہیں گیا۔ ہم تینوں شمالی گیٹ کی طرف آئے ۔وہ ہمیں اندر جانے نہیں دے رہے تھے۔ میں اور میرے باپ نے سیکیورٹی عملے سے بات کی۔ اور پھر بھی انہوں نے اندر جانے کی اجازت نہ دی۔ میں نےجلدی سے اپنے ذہن میں سوچا اور میں جانتا تھا۔ کہ خداکا خاص فضل ہمارے ساتھ تھا اور میں یہ بھی جانتا تھا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔ اور میں جانتا تھا کہ ہم اندر چلے جائیں گے۔ اور میں نے صرف اپنے رویّے کو مثبت رکھا۔ اورمیرا ایمان بھی بہت تھا۔ کہ ایسا ہو گا۔ میرے والد نے اُنہیں بتایا کہ ہم فاؤنٹین ایش بینڈ میں اپنےدوستوں کودیکھنے کے لیے سٹاف پارٹی کی طرف جارہے ہیں۔ اُس نے اُنہیں بتایا۔ کہ وہ اُنہیں اپنے ریڈیو کے ذریعے سے بلائیں ، جانچیں اور دیکھیں ۔ میرے والد صاحب نے یہ بڑے اعتماد سے کہا۔ اور اُس نے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی۔ لیکن اُس نے کہا کہ بوڑھا آدمی تمہارے ساتھ اندر نہیں جا سکتا۔ میں نے سوچا ہمممممممممم ۔ پھر بوڑھے آدمی نے کہا کہ اُسے فیئر گراؤنڈ سے اندر جانے کی ضرورت ہے۔ اور مشرقی گیٹ سے باہر جانے کی۔ سیکیورٹی کے لڑکے نے کہا کہ وہ اِس راستے سے نہیں جا سکتا۔ میں نے پھر اُن سے کہا۔ کہ میں اورمیرے ابو ہم تمام راستے میں اُس کی نگہبانی کریں گے۔ انہوں نے ہمیں سختی کے ساتھ کہا کہ کہ تم تمام راستے میں اُس کی نگہبانی کرو گے۔ تو پھر وہ ہمیں اندر جانے دیں گے۔ پس انہوں نے گیٹ کھولا اور ہمیں اندر جانے دیا۔ ہم مشرقی گیٹ کی طرف گئے۔ لیکن وہ بند تھا۔ پس ہم نے فائر گراؤنڈ کے اندر سے جانا جاری رکھا۔ اور جب ہم گئے تو ہم نے دیکھا کہ اسٹیج تو خالی ہے۔ صرف چند لائٹیں جل رہی تھیں۔  بیٹھنے کی جگہ پر صرف 3 کُرسیاں خالی تھیں۔ ہم تینوں اُن پر بیٹھ گئے۔ اور آپس میں بات چیت شروع کردی۔ میں اپنے والد اور اپنے نئے بوڑھے دوست کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ ہم باتیں کرتے رہے باتیں کرتے رہے۔ جہاں پر ہم بیٹھے ہوئے تھے ایک لائیٹ کی روشنی پڑرہی تھی۔ اور بالکل مرکز میں ایک سٹول ایک لائیٹ کی وجہ سے روشن تھا۔ جب ہم باتیں کر رہے تھے تو بوڑھے آدمی نےکچھ باتیں کہیں۔ جو مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ وہ کچھ اچھی باتیں نہیں تھیں۔ ہم نے اُسے بتایا کہ ہم نے ویب سائیٹ کیسے بنائی۔  اور ہم اِس پروگرام میں ہر سال آتے ہیں۔ اور تصویریں لیتے ہیں۔ اور وہ ایسی ہی تھیں۔ بوڑھے آدمی نے مجھ سے کہا کہ جس ذریعےسے جیم کی آن لائین خبریں شائع ہوتی ہیں وہ اس کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ اور اُس نے یہ بھی بتایا کہ وہ انٹر نیٹ پر فحاشی و عریانی کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ وہ کمپیوٹر کو نہیں سمجھتے۔ اور مجھے یقین ہے کہ چھوٹے شمالی قصبے میں انٹرنیٹ تک رسائی بہت ہی محدود ہے۔ اور اُس کے لیے تو بہت ہی محدود رسائی اچھی بات ہے۔ اور یہ ہے بھی۔ لیکن یہ بوڑھا لڑکا انٹر نیٹ کے بارے میں کچھ چیزیں جاننا چاہ رہا تھا۔ انٹر نیٹ پر اور بھی بہت سے اچھی چیزیں ہیں۔ اور بہت سی بُری چیزیں بھی ہیں۔ پھر ہم اپنی کرسیوں پر سے اُٹھ بیٹھے اور شمالی گیٹ کے طرف چلےجہاں سے موسیقی کی آواز آ رہی تھی۔ ہم نے اُسے بتایا کہ ہم اُسے پارٹی میں لے جا سکتے ہیں اگر وہ ہم سےاچھا رویہ رکھے گا۔ میرے والد نے اُسے یہ کہا۔ یہ ایک مزاحیہ سی بات تھی۔ میں نے سوچا کہ ایک 60 سال کا بوڑھا آدمی ، میرا والد ، دوسرے تقریباً 60 سال کے آدمی کو بتاتا ہے۔ اور بالکل ایک بچے کی طرح بوڑھے آدمی نے کہا وہ بڑا اچھا ہوتا اور لائین سے باہر نہ ہوتا۔ پس ہم اندر گئے اور بینڈ کو سُنا۔ وہاں پر تمام مفت کھانے اور بہت ساری مفت ڈرنکس میز پر رکھی ہوئیں تھیں۔ ہم تمام بیٹھ گئے اور تھوڑی سی مزید باتیں کیں۔ اور ہر ایک نے ڈرنک کیا۔ میں ڈرنکس چھیننے جا رہا تھا۔ میں نے اپنے باپ اور اُس بوڑھے آدمی سے پوچھا۔ کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ میرا باپ شراب لینا چاہتا تھا۔ میں تو مکئی کے پُھلے لینے والا ہوں اور بوڑھے آدمی نے کہا کہ وہ بھی کوک لے گا۔ ہم نے اپنی بوتلیں پیں اور پھر اُٹھ گئے۔ جونہی ہم اُٹھے۔ تو میں نے دیکھنے کی ضرورت محسوس کی کہ بوڑھا آدمی جنوبی گیٹ کی طرف مسلسل جا رہا تھا۔ جیسا کہ ہم نے سیکورٹی سٹاف سے وعدہ کیا تھا۔ جب میں نے اُس پر غور کیا کہ میرے بغیر سیدھے گیٹ کی طرف جا رہے تھے۔ جہاں پر ہم نے کیمپ لگایا تھا۔ میں نے اپنے باپ سے کہا کہ وہ میرے بغیر سیدھے چلتے رہیں۔ میں بوڑھے آدمی کو جنوبی گیٹ کی طرف پیچھا کیا ۔ اُس نے مجھے دیکھا۔ اور تھوڑا پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ اب وہ لڑکھڑا اور شرابی کی طرح چل بھی نہیں رہا تھا۔ وہ بڑی تیزی سے چل رہا تھا۔ میں نے اُسے پکڑ لیا۔ اور ہم دونوں نے راستے میں دو پورٹا پوٹیز استعمال کیں۔ پھر اُس نے مجھے بتایا کہ وہ باقی راستہ میں اُسے بنا سکتا ہے۔ میں نے اُسے الوداع کیا۔ تقریباً ایک گھنٹہ پہلے یہ لڑکا واضح طور پر بغیر لنگڑانے کے چل سکتا تھا۔ اور تقریباً گرنے والا تھا۔ اور اب بالکل سیدھا اور تیز چل رہا ہے۔ اِس میں شرابیوں والا کوئی نشان ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اپنے پرانے ساتھی کے لیے بہت اچھا چلا۔ ہم نے کچھ نہیں کھایاتھا۔ ہم نے صرف بوتلیں پی تھیں۔ اُس آدمی سے ملاقات اور اُس کی مدد اور اُس سے باتیں کرنا سب کچھ انوکھا تھا۔ کیا تم نے یہ کبھی سوچا ہے۔ کہ خدا تمہارے پاس ایک شخص کا بھیس بدل کرآیا۔ میں نے سوچا ۔ جب میں واپس آیا۔ تو میرے باپ نے مجھے کہا۔ کہ تم نے اُس کا پیچھا کیوں کیا۔ میں نے صرف یہ کہا۔ میں صرف یہ یقین کرنا چاہتا تھا۔ کہ کیا وہ جنوبی گیٹ سے باہر چلا گیا۔ اور وہ کونے میں سیدھا مشرق کی طرف جانے کے قابل تھا جیسا کہ وہ چاہتا تھا۔ اورمیں یقینی طور وہ تیزی سے آنے والاخیال بتانے نہیں جا رہا تھا ۔ جو میرے ذہن میں آیا۔ یہ پاگل پن ہوتا یا کیا ہو جائے گا؟ اُس نے بائبل میں کہا ہے۔ کہ جب یسوع مسیح دوسری دفعہ آئے گا۔ تو وہ مشرق کی طرف سے واپس آئے گا۔ یہ صرف ایک خیال تھا۔ جس نے اِس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ مجھے کچھ چیزوں کے بارے میں تھوڑا غور کرنا ہے۔

میں کیمپ سائیٹ میں واپس آیا۔ ۔ اور آسمان ہونا روشن شروع ہو گیا تھا۔ اور جلد ہو سورج نکلنے والا تھا۔ میلیزہ وہاں تھی۔ اور ایمی بھی تھی۔ وہ آگ کے گِرد خاموش بیٹھی ہوئی تھیں اور انہوں نے بتایا۔ کہ میلیزہ کی دو انگوٹھیاں گم ہو گئی تھیں۔ اور وہ کِسی جگہ گِر گئی ہیں۔ اور اُسے وہ نہیں ملیں ایسا لگتا ہے کہ وہ کہیں کھو گئی ہیں۔ میں ادھر اُدھر پھرا اور انہیں تلاش کرنے میں اُن کی مدد کی ۔ مجھے پورا یقین تھا۔ کہ وہ مجھے کہیں نظر آ جائیں گیں۔ لیکن سورج نکل آیا اور میری توجہ اُس کی طرف ہو گئی۔ میں انگوٹھیاں ڈھونڈنے میں اُن کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ لیکن کوئی میرے پاس آ گیا۔ اور مجھے نکلتے سورج کو دیکھنے کی طرف متوجہ کر دیا۔ میں نے انگوٹھیوں کو گھاس میں ڈھونڈا اور پھر آسمان کی طرف دیکھا۔ اور انگوٹھیوں کو مزید ڈھونڈا اور آسمان کی طرف دیکھا۔ اور پھر میں نےنکلتے سورج کو آج کی صبح کے تحفہ کے طور پر دیکھا۔ یہ ایک اتفاق ہو سکتا تھا۔ یا نہیں۔ میں اپنے دِل میں جانتا تھا۔ کہ مجھے نشان دیا گیا ہے۔ جو کہ مون ڈانس میں دوسری مرتبہ آیا تھا۔ اور خُدا کی طرف سے آیاتھا۔ اُس صبح جب کہ سورج نکل رہا تھا۔ اور میلیزہ جس نے اپنی انگوٹھیاں کھو دی تھیں۔ وہ بھی وہاں کھڑی تھیں۔ اپنی انگوٹھیاں کھو جانے کی وجہ سے وہ بہت ناخوش تھی۔ میں جانتا تھا۔ کہ میری زندگی بڑے زبردست طریقی سے تبدیل ہوئی تھی۔

میں اپنے بستر کی طرف چلاگیا۔ میں بہت تھکا ہوا تھا۔اور میں دوپہر تک سویا۔ میں جاگا اورتمام جیمرز جا چُکے تھے۔ میرے والد اور میں نے بڑے آرام کو ساتھ کنوپی کو بند کیا۔ اور اُدھر جو چیزیں بکھری ہوئی تھیں۔ وہ بھی سمیٹیں۔ شمالی کیمپ کے علاقہ میں صرف 2 کیمپرز رہ گئے تھے۔ ہم اور ایک اور۔ جیسا کہ میں اور میرے والد بیٹھے اور سامان سمیٹنے میں تھوڑا وقفہ لیا۔ میں نے اُدھر دیکھا۔ اور 2 لوگ اُن کے کیمپ میں دیکھے۔ وہ ہمیں دیکھ رہے تھے۔ ہم وہاں تھے۔ جیم ختم ہو چکا تھا۔ ہم نے اُسے چھوڑا اور ہمارے بعد ایک رہ گیا۔

2۔اگست 2003

میں اور روب نے یوحنا کے 2 دوسرے خط کے بارے میں بات کی۔ میرے دوست نے آج مجھے بتایا کہ 2 کاروں میں سے ایک کی ونڈ سکرین پر پتھروں سے 2 دراڑیں2 ہفتے پہلے پڑیں۔ (ہوں ! میں ونڈ سکرین پر پتھروں سے پڑنے والی دراڑوں کے متعلق جانتا ہوں) میرے یونٹ کے 2 چوکیداروں میں سے ایک آگے ڈیسک پر آیا۔ جہاں پر میں بیٹھا تھا۔ 5 منٹ کے دوران حادثاتی طور پر2 دونوں کےآئی ٹیگ 2 مختلف واقعات میں زمین پر گِر پڑے۔ آج ایک اوربدعنوان مجرم سٹاف اسٹیشن کے سامنے آیا۔ اور مجھے بتایا کہ اُس کے کمرےمیں ابھی تک چیونٹیاں رینگ رہی ہیں۔ پس میں نے یہ کام کرنے کا دوسرا حکم جاری کیا۔ اور میں نے کیڑے مکوڑوں کے بارے میں رپورٹ لکھی۔ میرے یونٹ پر اِس فارم کے فولڈر کا نمبر2 تھا۔ 10 سالوں میں میں نے صرف 4 لکھے۔ معلوماتی یونٹ نے بدعنوان مجرموں کو آواز دینا شروع کی۔ کہ اُن کے خاندان ملاقات کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ آج ایک کمرے میں اکٹھے رہنے والے بدعنوان مجرموں میں سےمسیحی مجرموں کے لیے آواز آئی۔ جن کے بارے میں مجھے بعد میں پتہ چلا۔ جو میرے ساتھی اسٹیوو کے اوپر سیڑھیوں کی طرف رہا کرتے تھے۔ جب وہ جیل میں نہیں تھا۔ اسٹیوو ویب سائیٹ http://www.2havefun.com پر میرا ساتھی تھا۔ کام کے بعد میں اور روب زمین دیکھنے گئے جو میں نے ایک دِن پہلے دیکھی تھی۔ جو میری2 زمینوں کے درمیان تھی۔ اس میں 2 شاندار عمارتیں اور2 پن چکیاں تھیں۔ جو بجلی پیدا کرتی تھیں۔ مین نے سوچا کہ چرچ بنانے کے لیے یہ بہترین جگہ ہے۔ یہ زمین 2 مختلف زمینوں پر مشتمل تھی۔ لیکن وہ ایک دوسرے سے آگے تھیں۔ لیکن 2 دونوں زمینوں کا رقبہ 200تھا۔ ہمیں یہ زمین خریدنے کے لیے بہت زیادہ برکت کی ضرورت تھی۔ یہ کاؤنٹی روڈ لائین پر کاؤنٹی روڈ نمبر 10 کے ایک طرف واقع تھی۔ جو مینوسٹاکے 2 شہروں پائین اور کارلٹن کوالگ کرتی ہے۔ جو میں اپنی ایک زمین سے دوسری زمین تک جانے کے لیے لی۔ جب یہ بکنے والی تھی۔ تو میں نے یہ ایک نشان کے طور پر لی۔ میرا بیٹا اُس شخص کے بیٹے کے ساتھ ایک کب سکاؤٹ میں تھے ۔ جس کی یہ زمین تھی۔اور موقع ملنے پر وہ وہاں کھیلا کرتے تھے۔ میں نے اپنی آنکھیں اُس پر لگائی ہوئی تھیں۔ یہ بالکل اُسی جگہ پر تھی جہاں پر میری ونڈ سکرین سے ٹکرانے والے پتھر کا پہلا نشان واقع ہوا تھا۔ یہ اُسی زمین پر تھا۔ جو ہماری زمین سے چند میل کے فاصلے پرتھا۔

6۔ اگست 2003

جیل نمبر 1 کا ایک قیدی میرے پاس آیا۔ وہ یہ جاننا چاہتا تھا۔ کہ کیا میں وہ کتاب دیکھنا پسند کروں گا۔ جس کا ابھی اُس نے حکم دیا اور پڑھی۔ میں یقینی طور پر بہت مصروف تھا ۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں پہلے ہی جانتا ہوں کہ یہ کتاب کس کے متعلق ہے۔ یہ کتاب دہ یکی کے متعلق ہے۔ میں مصروف تھا۔ اور مجھے اُس وقت اُسے دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بعد میں وہ میرے پاس آیا۔ اُس نے وہ میرے حوالے کی۔ پس میں نے شروع والے چند صفحات جلدی جلدی پڑھے۔ یہ حیران کُن طور پر بہت اچھی تھی۔ میں نے وہ بطور نشان لی۔ اور میں نے پھر اُسے پڑھا اُس نے مجھے جو ترجمہ دیا وہ اِس کی 2 دوسری اشاعت تھی۔

اُس دِن میں گھر گیا اور باہر اپنے صحن میں آبشار کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اور میں نے اُس کتاب کو یاد کیا۔ جو اُس بدعنوانی کے مرتکب مجرم نے مجھے دی۔ کتاب کا نام با برکت زندگی جس کے مصنف رابرٹ مورس ہیں وہ کتاب مجھےدکھائی تھی۔ پس میں جلدی سے گھر کے اندر گیا۔ اور کمپیوٹر کو آن کیا۔پھر نیٹ چلایا۔ اور ebay.com کھولی۔ ایک ایسی بہت بڑی ویب سائیٹ جہاں سے آپ ہر چیز خرید سکتے ہیں۔ میں نے تلاش خانے میں با برکت زندگی کے الفاظ لکھے۔اور وہاں پر بکنے کے لیے ایک کتاب تھی۔ صرف اور صرف ایک کتاب۔ جس بات نے مجھے حیران کیا ۔ کہ ٹھیک 2 دِن 22 گھنٹے رہ گئے تھے۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے جانا کہ میں اِس پوری کتاب کو پڑھنے جا رہا تھا۔ اور بولی میں شامل ہو گیا۔ اور یہ نیلامی 8/9/03 کو 2 بجے ختم ہوئی۔

8,9 اور 10 اگست 2003

میں مینیسوٹا کے شہر ڈیویلتھ میں ایک موسیقی کے پروگرام میں حاظر ہوا جو بےفرنٹ بلیوز فیسٹی ول کہلاتا تھا۔ یہ موسیقی کا 2 دوسرا پروگرام تھا۔ جو اِس سال میں ہوا۔ اِس سے پہلے ہونے والے دو سالوں کے پروگراموں کی میں نے ڈیجیٹل تصاویر کھینچیں۔ میں نے اِس پروگرام کے انتظامی دفتر سے دو ٹکٹیں لیں تاکہ میں اِس پروگرام کی زیادہ سے زیادہ قریبی تصاویر لے سکوں۔ میرے پاس ایک پاس میڈیا پاس تھا اور دوسرا پاس فوٹو پاس تھا۔ جو پاس مجھے جاری کیا گیا۔ اُس کا نمبر 2 تھا۔ میں نے دوسرا پاس رچرڈ کا دیا۔ اُس کے پاس کا نمبر 011 تھا۔ وہ بھی مون ڈانس میوزک فیسٹی ول کی تصاویر لیتا ہے۔ انہوں نے مجھے پاس بہت دیر سے بھیجے اور یہ بڑی عجیب بات تھی کہ میں نے 2 نمبر حاصل کیا۔ میں تے دوسری تصاویر دیکھیں اور اُن کا زیادہ سے زیادہ نمبر 33 تھا۔

19,20 اگست 2003

        میں نے دو کتابیں حاصل کیں۔ میں نے ebay  پر نیلامی میں یہ جیتیں بابرکت زندگیجو رابرٹ مورس نے لکھی ۔ پہلی رات میں 50 صفحات پڑھے ۔ یہ بہت اچھی تھی۔ عام طور پر میں کتابیں نہیں پڑھتا ۔ میں نے سکول کے بعد شاید کوئی دوسری کتاب نہیں پڑھی تھی۔ لیکن اِس کے بعد میں نےبائبل اور دوسری کتابیں اِس کتاب کے لکھنے تک پڑھیں۔اگلے دِن میں نے باقی کتاب پڑھی ۔2 دنوں میں میں نے یہ کتاب پڑھی۔ میرے اندر کیا ہو گیا ہے؟ ہا ہا ہا۔ زیادہ خدایا زیادہ! ۔ ابھی میں نےاِس کتاب کو ختم ہی کیا تھا۔ کہ 40 منٹ گزرنے کے بعد میرے دروازے پر کسی نے دستک دی۔ میں زور سے چلایا  آ جائیں ایک نوجوان عورت ایک ٹین ایجر لڑکے کے ساتھ اندر آئی۔ اور مجھے میوزک شو کا اشتہاری فلائیر دیا۔ ہمارے قریبی پارک میں مفت کھانا اور کھیل کھیلیں۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ اِس شو کے لیے مدد مانگ رہی ہے۔ اُس نے کہا۔ نہیں میں نے دوبارہ فلائیر کو دیکھا اور پڑھا۔ وہ ہمارے گھر سے 7 میل دور ویسٹ سائیڈ چرچ سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے سوچا اس شو میں شرکت ایک فن ہو گا۔ کیونکہ وہ ترویج کر رہے تھے۔ اورمیں 2 نائب کام کرنے والے رے اورجیف کو جانتا ہوں جو اِس چرچ میں حاضرہوئے۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے اُسے کچھ دینا چاہیے۔ لیکن اُس وقت تک اُس نے اس بارے میں کچھ بھی نہ پوچھا۔

میں نہیں جانتا کہ میں کیا دیکھ سکتا تھا۔ پھر میں نے اُن میں ایک خیال حاصل کیا۔ اور خُدا نے مجھ سے کہا۔ کتاب! اُسے کتاب دو. وہ کتاب میرے آگے پڑی ہوئی تھی۔ جو میں نے ابھی پڑھی تھی۔ میں نے اُسے لیا۔ اورمیں نے اُسے کہا۔  فرض کیا میں یہاں یہ آپ کو دیتا ہوں۔ اُس نے اُسے دیکھا اور اُس کا عنوان پڑھا۔ اور کہا شکریہ اور پھر وہ نوجوان کے ساتھ چلی گئی۔

اب اِسے حاصل کریں۔ کچھ دِن یا میرے رابرٹ مورس کی کتاب لینے کے بعد کمپیوٹر پر ایک بہت بڑے وائرس کا حملہ ہوا۔ اُس وقت عموماً ایسے وائیرس کا حملہ ہوا کرتا تھا۔ اور اُس وقت اِن حاسدانہ کوششوں کا کوئی اختتام نظر نہیں آتاتھا۔ یہ یقینی طور پر ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ جب میں مصنف کی کتاب کو انٹر نیٹ پر ڈھونڈ  رہا تھا۔ جو با برکت زندگی میں نے ابھی پڑھی تھی۔ تو میں ڈھونڈنے والی سائیٹ پر گیا۔ جسے گوگل کہتے ہیں۔ میں نے رابرٹ مورس لکھا اور تلاش کرنا شروع کیا۔ میں اُمید کر رہاتھا کہ میں اُسے تلاش کر لوں گا۔ کہ کِس چرچ سے اُس کا تعلق ہے۔ اور پھر میں ای میل کر کے اُس کا شکریہ ادا کروں گا۔ جو میں تلاش کیا وہ بہت ہی عجیب تھا۔ جو رابرٹ مورس مجھے ملا یہ وہ نہیں تھا۔ جس نے کتاب لکھی۔ بلکہ یہ اُس کا ہم نام کوئی اور تھا۔ کیا وہ جس نے وائیرس بنایا تھا وہ کیڑا کہلایا۔ وہ یہ تھا۔ کہ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا تھا۔ ایک کیڑا ! اُس نے کارنل یونیورسٹی میں حاضری دی۔  لیکن وہ ایم آئی ٹی سے فارغ ہوا۔ جو کہ ایک بہت اعلٰی پائے کا کالج جو ایڈوانس ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سےمتعلق تعلیم دیتا ہے۔ پس رابرٹ مورس نے پہلا وائیرس تیار کیا۔ اور دونوں مختلف رابرٹ کی کتابیں پڑھی ہیں۔ اسی اثناء میرا کمپیوٹر جب میں یہ کتاب لکھ رہا تھا۔ مجھے بہت سی آوارہ قسم سی ای میل اضافی ای میل آئیں۔ جس کی وجہ سے میرا کمپیوٹرایک بہت ہی نقصان پہنچانے والے وائیرس سے متاثر ہوا۔ اسے نیٹ ورک فراہم کرنے والی اورعام ای میل میں جاری کیا گیا۔ میں نے کبھی اتنی ای میل حاصل نہیں کیں تھیں۔ یہ تو حقیقی طور پر ایک قہر الہی تھا۔ رابرٹ مورس اب ایم آئی ٹی میں ایک ٹیچر ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے؟ جب 1988 میں اُس نے وائیرس جاری کیا۔ اُس وقت سر رابرٹ ٹی مورس اور اُس کے والد ، اور دوسرے رابرٹ ٹی مورس جو ایک نیشنل سیکیورٹی ایجینسی کے چیف تھے۔ کیا جوان رابرٹ نے اپنے باپ کا سامان لیا۔ ہم ۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔

21 اگست2003

میں معمول کے مطابق کام پر گیا۔ اور واپس آیا۔ تقریباً 5 بجے میں اپنی بیوی اور بیٹے کو ویسٹ وائیڈ کا پروگرام جو مقامی گراؤنڈ میں ہوا۔ جس کے بارے میں ایک دِن پہلے حاصل کیے گئے فلائر میں میں نے پڑھا تھا۔ اصل میں میرا بیٹا موٹر سائیکل پر اورہم کار پر وہاں گئے۔ جبکہ میں جب وہاں تھا تومیں نے تربوز کے بیجوں کو نکالنے کے مقابلہ میں حصّہ لیا۔ میں وہ مقابلہ جیت گیا۔ میں نے اندازہ لگایا۔ کہ ابھی تک کچھ گرم جوشی مجھ میں ہے۔ ہا ہا ہا وہاں پر مفت کھانا بھی تھا جوکہ تقسیم ہونے والا تھا۔ اور مقابلہ کے بعد میں پویلین میں چلا گیا۔ جہاں پر وہ کھانا پک رہا تھا۔ رے اور میں نے باتیں شروع کر دیں۔ اور میں نے بپتسمہ لینے کا عنوان چھیڑ دیا۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں نے محسوس کیا  کہ بپتسمہ لینا چاہیے اور جلدی۔ صرف ایک رات پہلے میں یوحنا کی کتاب پڑھ رہا تھا۔ اور اُس وقت جب میں اُسے پڑھ رہاتھا مجھے عوامی بپتسمہ اُتنی ہی جلدی لینے کی  ضرورت ہے ۔ جتنی جلدی ہو سکے۔ رے نے اپنے دائیں طرف دیکھا۔ جہاں پر اُس کے چرچ کا پاسٹر کھڑا ہوا تھا۔ پھر رے نے اُس سے کہا۔ تم ابھی اِسے بپتسمہ دو گے۔ نوجوان پاسٹر نے مجھے یقین کے ساتھ کہا۔ کیا سچ مُچ! جھیل پر میرے ساتھ چلوہم ہر وقت لوگوں کو وہاں بپتسمہ دیتے ہیں۔ جب بھی تم چاہو وہاں ٹھہر سکتے ہو پھر میں نے اُسے دیکھا اور کہا، انتظار کِس بات کا؟ یہاں پر تقریباً دو میل کے فاصلے پر ایک جھیل ہے اور اُس نے مجھے دوبارہ دیکھا اور کہا، کیا تم چاہتے ہو کہ یہ ابھی ہو میں نے کہا، ہاں ابھی ہو جائے تو بہت اچھا ہواُس نے کہا ، ٹھیک ہے آؤچلیں میں نے اُسے بتایا کہ میں اپنے گھر والوں کو بتا دوں ۔ اور وہ اپنے سینئیر پاسٹر کے پاس گیا۔  جو ویسٹ وائیڈ چرچ سے تعلق رکھتا تھا۔ اور میں اپنی بیوی اور بچے کو بتانے گیا۔ تاکہ وہ میرے بپتسمہ کے گواہ ہوں۔ ہم تمام نیچے جھیل کی طرف گئے۔ دونوں پاسٹر صاحبان نے اپنا تعارف مجھ سے کروایا۔ ہم ٹم اور جم ہیں ہمارا تعلق ویسٹ وائیڈ چرچ سے ہے۔ میں نے سوچا اوہ میں نے اُسے یقیناً یاد کر سکتا ہوں۔ پانی گرم تھا اور20 فٹ جھیل کے اندر گئے اور پاسٹر جم نے مجھےکہا، میں تم کو صرف ایک بات بتا رہا ہوں کہ کیا تم خداوند یسوع مسیح کے اپنے نجات دہندہ ہونے کا یقین رکھتے ہو۔ میں نے بڑے پُر اعتماد لہجے میں کہا ہاں میں یقین رکھتا ہوں۔ اُس نے اُس وقت اور بھی الفاظ کہے تھے۔ جو اِس وقت مجھے یاد نہیں ہیں۔ میں بڑی خوشی کی حالت میں تھا۔ مجھے پورا یقین تھا۔ کہ اُس وقت وہ جو کچھ بھی کہہ رہے تھے وہ بالکل درست تھا۔ پھر میں پیچھے کی طرف جھُکایا گیا۔ اور پانی میں ڈبویا گیا۔ وہ پانی میرے چہرے تک آیا۔ لیکن میرا پورا چہرہ پانی میں نہیں ڈوبا ۔ تقریباً آدھا ڈوبا۔ اور پانی میری ناک کے نیچے تک بہہ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ کچھ مہینے پہلے جب ایک دِن میں گھر میں تھا۔ اور شاور سے نہا رہا تھا۔ تو میں نے خُدا سے کہا کہ مجھے روح القدس دے ۔ میں حیران تھا۔ کہ میں بھی کسی تقریب کے بغیر یہ مانگ رہاتھا۔ میں نے اُس سے دُعا کی کہ روح القدس مجھ میں آئے۔ اگر یہ اِس طریقے سے ہوا جیسا میں نے چاہا کہ صرف تھوڑاروح القدس آئے میں بولوں ۔ کیونکہ میں نے اُسے بتایا کہ میں صرف روح القدس کا بپتسمہ لینا چاہتا ہوں۔ کسی حد تک یہ سب قدرتی پانی میں عام لوگوں کے سامنے ہو۔ جیسا کہ یوحنا عارف نے یسوع مسیح کو دیا۔ اور بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی دیا۔ پھر اس کے بعد پاسٹر ٹم اور جم نے مجھے جھیل کے پانی سے اوپر نکالا۔ جو کہ ایک دریا بھی تھا۔ موس ہیڈ جھیل اصل میں موس ہیڈ دریا کا ہی ایک حصہ ہے۔ میرے ذہن میں ایک خیال آیا، کہ مجھے دوسرے طریقے سے بپتسمہ دیا گیا ہے۔ آدھا بپتسہ  اپنے گھر جاتے ہوئے اور آدھا اب دیا گیا ہے۔ میرا خیال کہ یہ ذہن میں کچھ کہا گیا ہے۔ واوو کیسا شاندار خیال میرے ذہن میں آیا ہے۔ کیا تم آدھے بپتسمہ یافتہ ہوئے ہو؟ شاید نہیں اور شاید ہی کسی کے ساتھ ہوا ہو یا نہیں۔ لیکن میں نے اس بارے میں خُدا سے پوچھا اور جسمانی طور پر اس طریقے سے یقینی طور پر یہ ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ میں قدرتی طریقے سے پانی میں بپتسمہ لینا چاہتا ہوں۔ اوروہ یہ بھی جانتا تھا کہ جب میں نے اُس سے کہا کہ مجھ پر اُتر آ ۔ جب میں گھر میں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ میں سنجیدہ ہوں اُس نے مجھے تحفے سے نوازا روحانی طور پر ایک دفعہ اور جسمانی طور پر دو دفعہ۔

جب میں اپنے گھر میں نہا رہا تھا تو میں نے  خُدا سے پوچھا کہ مجھے روح القدس سے بھر دے۔ تو اُس وقت جو جذبات و احساسات تھے وہ بالکل انوکھے تھے۔ یہ 30 سے 45 سیکنڈ تک جاری ہے۔ میں نےاُڑتے ہوئے محسوس کیا۔ کہ میرے جسم پر ایک بہت ہی ملائم اور ہلکا سا دباؤ تھا۔اور ایک نہ بجھنے والی روشنی۔ مجھے بہت خوشی ہو رہی تھی اور میں جذباتی ہو رہا تھا۔ یہ ایسے تھا کہ جیسے خوشی سے پاگل ہو جانا یا تقریباً ایسے جیسے کسی نے نشہ کیا ہوا ہو۔ لیکن اُس سے مختلف۔ میرا پورا جسم پر جوش تھا۔ یہ بتانا بہت مشکل ہے لیکن قدرتی طور پر یہ بہت اچھے احساسات تھے۔ یہ بالکل اُسی طرح کے احساسات تھے جس طرح کے کہ اکتوبر 2003 میں تھے۔اور یہ کافی دیر تک رہے تھے۔ لیکن یہ اُس وقت ختم جب میں اس کتاب کے اس حصے کو ختم کیا۔ پس اس کے متعلق میری اگلی کتاب میں پڑھ سکتے ہیں۔ یا اسی کتاب کی اضافے میں۔

اُس دِن کے بپتسمے کے بارے میں ایک مزے دار حصہ یہ ہے۔ اِس کے گواہ میرے خاندان کے2 دو ممبران ہیں۔ اور اس کے گواہ میرے 2  دو رفیق کار رے اور جیف بھی ہیں۔ مجھے جن 2 پاسٹر صاحبان نے بپتسمہ دیا ان کے 2 دو ہم نام میرے دوست وہ دونوں بھی سینٹ پال ایم این کے ویسٹ سائیڈ چرچ کے بھائی ہیں۔ تو جب ویسٹ سائیڈ چرچ کے   پاسٹر جم اور پاسٹر ٹم نے اپنا تعارف مجھ سے کروایا۔ ہائے ہم پاسٹر جم اور پاسٹر ٹم ہیں اور ہمارا تعلق ویسٹ سائیڈ سے ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے چرچ کا نام بھی نہیں لیا۔ چرچ اس واقعہ کا حصہ ہے جیسا کہ شاید مجھے دیا گیا۔ لیکن یہ بالکل ایسا ہے جیسا کہ مجھے بتایا گیا تھا۔ جب میں نے کہا،’’میں اسے یاد کر سکتا ہوں‘‘ یہ یاد رکھنا آسان تھا کیونکہ یہ قافیہ ردیف میں تھا۔ جب میں نے اُن سے بپتسمہ حاصل کر لیا۔ تو یہ ایسا تھا جیسے مجھے اینٹوں کی دیوار سے ٹکرا دیا ہو۔ ڈو، ووو۔ جم اورٹم کا تعلق ویسٹ وائیڈ سےاو مائے یہ کیسا عجیب ہے۔ خُدا نے شاید ایک دفعہ اس کا جواب دیا، لیکن میرے پاس یہ بہت پُر لطف تھا۔ میں نے یہ ٹھیک طور پر سُنا نہیں کہ وہ کیسا عجیب تھا۔ ہا ہا ہا۔ میں نے جم اور ٹم کے ساتھ دُعا کی۔ 2 میکسیکن بھائی جن کاتعلق کافی سالوں سے ویسٹ سائیڈ چرچ سے تھا۔ وہ بالکل ہمارے قریب میں رہنے والے پڑوسی تھے۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ مجھے کس چرچ میں جانا چاہیے۔ ویسٹ وائیڈ چرچ جو کہ موس جھیل کے ویسٹ میں ہے۔  مجھے لگتا ہے کہ آپ کو یہ قسمت کی بات لگےگی کہ یہ کیسے ہوا۔ میں نے بہت سے لوگوں کے روح القدس حاصل کرنے کی گواہیاں پڑھی ہیں۔ کہ تم کیا محسوس کرتے ہو جب روح القدس تم میں آتا ہے۔ اور وہ حیران کُن ہیں۔ اور اُن میں کوئی بھی حقیقی طور پر ایک جیسی نہیں ہے۔ لیکن تقریباً ہر ایک شخص کی ایک جیسی ہے۔ پھر بھی بہت سے میری گواہی کے ساتھ ملتی جُلتی ہیں۔ خاص طور پر کوئی بھی اُمید نہیں ہے اگر یہ تم ہو۔ اور پھر بھی ہر چیز پر اُمید ہونی چاہیے۔ اور ہر چیز واقع ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تم اُسے درست طور پر حاصل کر سکو۔  کسی بھی طریقے سے جب روح القدس تم پر اُترے گا۔ تو تم تبدیلی دیکھو گے یہ کئی طریقوں سے ہو سکتا ہے۔ اوراس کے یہ کئی مختلف نتائج اور اثرات دکھا سکتا ہے۔ اور روح القدس کے کئی تحائف بھی ہیں۔ اور تم ان تمام کو دیکھو گے۔ میں تمہیں ترغیب دیتا ہوں کہ اگر دوسرے لوگوں کے پاس کوئی تجربہ ہو یا انہوں نے اس بارے میں سنا ہو تو انہیں کہیں کہ وہ بتائیں۔ تم نے یقینی طور پر دوسرے لوگوں کی لکھی ہوئی ایسی گواہیوں کو پڑھا ہو۔

4 ستمبر 2003

ریڈر ڈائجسٹ میں چھپنے والی کہانیوں کے متعلق بات ختم کرنے والا ہوں جو کچھ میں نے اُس میں پڑھا لکھ رہا ہوں۔ (اگست 2003 ریڈر ڈائجسٹ میں)

صفحہ 122 پرایک مضمون ہے جس کا عنوان ہے زندگی کے بعد After Life اس میں انسانی روح کا معاملہ سانئسی انداز میں بتایا گیا ہے۔ کہ کیسے سا نئسدانوں اور ڈاکٹروں نے اسے واضح کیا ہے۔ لیکن حقیقی طور پر یہ وضاحت نہ کر سکے کہ وہ لوگ جن کے دماغ کا آپریشن کیا جاتا ہے۔ وہ آپریشن کے دوران کیوں مر جاتے ہیں۔ وہ جسم پر تجربے تو کر سکتے ہیں اور اُسے دوبارہ تازہ بھی کر دیتے ہیں۔ جب اُن کوذہن کوئی حرکت نہیں کر رہا ہوتا ہے تو اُن کی زندگی کی لائین بالکل سیدھی ہو جاتی ہے۔ تو اس طرح جسم پر تجربہ تو ہو جاتا ہے۔ اور وہ اُن باتوں کویاد کرتے ہیں جو سرجری کرنے کے دوران واقع ہوئیں۔ یہ انسانی روح کا ثبوت ہے۔ وہ اسے واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن مشاہدات کرنے والوں نے یہ پایا ہے کہ جسم کے بارے میں جو تفصیلات بتائیں گئیں ہیں وہ باکل ٹھیک ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جسم کی کوئی سرگرمی نہیں تھی یہ ناممکن لگتا ہے۔ لیکن یہ ہوا ہے۔ اور اب سرچ کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ ان حقائق کی بنیاد پر احاطہ نہیں کر سکتے کہ جب دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے تو زندگی کا خاتمہ کیوں ہو جاتا ہے۔

ایک عورت نے بتایا کہ کس طرح اُس کے ذہن کی سرجری ہوئی اور غور کیا کہ سرجن اُس کی گروئین کے قریب کچھ کررہے ہیں اوراُس نے سوچا کہ کوئی غلطی بھی ہو سکتی ہے۔ (الف) اُس نے جو کچھ سوچا آخر کار یہ کیسے ہو سکتا تھا۔ جبکہ (ب)جب اُس وقت اُس کا ذہن بالکل سُن یعنی سویا ہواتھا؟ وہ ڈاکڑ جنہوں نے اُس کی کہانی سُنی عمل جراحی کے ریکارڈ کی ٹائم لائین کی طرف واپس گئے۔ کہ اُس نے کیادیکھا کہ ڈاکٹر اُس کی ٹانگ کی شریان کاٹ کر اُس کو سر کی طرف سے استعمال کرنا شروع کیا۔ اور پھر اُس نے جو بتایا وہ بالکل درست تھا۔ اُس شریان کے ہٹائے جانے کی ٹائم لائین کے مطابق تشخیصی طور اُس کا ذہن کچھ وقت کے لیے بالکل بے جان ہو گیا۔ اُس نے دیکھا کہ ایک سفید روشنی یا سرنگ ہے جس کے بارے میں ہم نے دوسری بہت سی گواہیوں میں سنا ہے۔ اور اُس نے کہا کہ اُس نے دیکھا کہ اُس کے خاندان کے افراد نے اُسے سلام کیا۔ اُس کے انکل نے اُسے بتایا کہ وہ واپس آ جائے کہ یہ ابھی اُسکا وقت نہیں ہے۔ پس اُس نے یہ کیا۔ جب وہ اپنے جسم میں واپس آئی تووہ بہت ہی زیادہ ٹھنڈا تھا۔

مجے لگتا ہے یہ بہت ہی زبردست اور دلچسپ مضمون ہے جو میں نے آپ تک پہنچایا ہے۔ خاص طور پر اُس کے مطمئن ہو نے پر۔ اور حقیقت جو صفحہ نمبر 122 پر واقع ہوئی۔ لگتا ہے کہ اُس نے میری توجہ کو جکڑ لیا۔اور اسی مہینے کے ریڈر ڈائجسٹ کی اشاعت میں ایک اور کہانی ایک لڑکے کے متعلق ہے۔ جو ایک ہی دن میں 2 فضائی حادثوں میں محفوظ رہا۔ 1 طیارہ تھا اور 1 ہیلی کاپٹر تھا۔ اور یہ کتنا انوکھا ہے؟ میں اس طرح کے واقعے کا ہونا کبھی بھی پسند نہیں کروں گا۔

11 ستمبر،2003

یہ امریکہ پر حملہ کی دوسری برسی تھی۔ اب اسے حُب الوطنی کا دن مانا جاتا ہے۔ نیو یارک میں ٹوئین ٹاور اُس وقت تباہ ہوئے جب دو طیارے اُڑتے ہوئے اُس میں گُھس گئے ۔ تیسرا طیارہ پینٹا گون میں گُھس گیا ایک پینٹاگون عمارت جو متحدہ امریکہ کے فوجی ہیڈ کوارٹر کی عمارت ہے۔ چوتھا طیارہ راستے میں تباہ ہوا جس کے نشانہ کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ۔ لیکن لوگوں کو یقین ہے کہ اُس کا نشانہ کیا ہو سکتا تھا۔ کچھ لوگوں کو شک ہے کہ اُس کا نشانہ وائیٹ ہاؤس تھا۔ جہاں پر صدر امریکہ رہتے ہیں۔ یا وہ پینٹا گون پر حملہ کرنے والا دوسرا طیارہ ہو سکتا تھا۔ یا اُس کا کوئی دوسرا نشانہ بھی ہو سکتا تھا۔9/11 کے متعلق کچھ مزید معلومات

wحملہ کی تاریخ 9/11 ، 9+1+1=1

11w ستمبر سال کا 254 واں دِن تھا جو کہ 2+5+4=11 بنتا ہے۔

11w ستمبر کے بعد سال کے ختم ہونے میں 111 دِن باقی رہ جاتے ہیں۔

119w ایران کا علاقائی کوڈ نمبر ہے جو کہ 9+1+1= 11  ہے۔

wٹوئین ٹاور اِس طرح سے کھڑے ہیں کہ وہ 11 کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

wنیو یارک کی ریاست 11ویں ریاست ہے جوامریکہ میں شامل ہوئی اور نیو یارک شہر (New York City) کے ہجوں کی تعداد بھی 11ہے۔

wافغانستان (Afghanistan) کے ہجوں کی تعداد بھی 11ہے

wدی پینٹاگون( The Pentagon) کے ہجوں کی تعداد بھی 11ہے ۔

wپرواز 11 ، حملہ کرنے والی پہلے پرواز تھی اوراِس میں 92 مسافرسوار تھے۔ جوکہ 9+2=11 بنتا ہے۔

wاور پرواز 77، میں 65 مسافر سوارتھے۔ جو کہ 6+5=11 بنتا ہے۔

کل میں نے خُدا سے دُعا کی کہ 11ستمبر میں اور کوئی ناگہانی مصیبت نازل نہیں ہوئی میں نہیں چاہتا ۔ کہ میں ایسے کسی حملے کو دوبارہ ہوتے ہوئے دیکھوں جیسا 2 سال پہلے ایک حملہ میں بہت سے معصوم لوگ ہلاک ہوئےتھے۔ لیکن خُدا کا شُکر ہے کہ آج ایسا نہیں ہوا۔ لیکن یہ ایک غمزدہ دن تھا۔ کیونکہ 2 بہت مشہورومعروف جان ہلاک ہوئے۔ ایک بڑا مشہور ملکی سنگر جان کیش تھا جبکہ دوسرا ٹی وی کا مزاحیہ اداکار جان ریٹر تھا۔ وہ بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

14 ستمبر، 2003

میں راب کو مینوسٹا کے سیزن کی 2 دوسری گیم سے لیا۔ جو کہ شکاگو بیئیر کے خلاف اُن کے گھر کا افتتاحیہ تھا۔ ہماری طرف مجھےاورراب کو خُدا کی حمایت کی ضرورت تھی ہمیں دیر ہو چکی تھی۔ اور ضرورت اِس بات کی تھی کہ کہیں کوئی ٹریفک جام نہ ہو جائے اور اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ ہمیں پارکنگ ایریا میں جگہ مل جائے۔ ہم نے بریک لائٹیں آتی ہوئی دیکھیں میں نے کہا، یو ایچ اور ایچ جو ہمیں مائل نہ کر سکا۔ اور تھوڑی دیر کے لیے ساتھ جُڑ گیا۔ راب نے جلدی سے دُعا کی اور ہم رُکے نہیں لیکن آہستہ ہو گئے اور سیدھے چلتے گئے ۔ کچھ میل چلنے کے بعد یہ پھر ہوا۔ بہت سی بریک لائیٹیں آئیں میرے ذہن میں خیال آیا کہ یہ وہی ہے۔ اگر ہم یسوع مسیح سے جو کچھ مانگتے ہیں اُس پر یقین رکھیں تو یہ کبھی ناکام نہیں ہو گا۔ یہاں تک کہ ہمیں دوسرے پر رُکنا نہ پڑا۔ ہم تھوڑا سا آہستہ ہوئے اور آگے بڑھ گئےحقیقیت میں دائیں سائیڈ جہاں پر ہم چل رہے تھے وہ بائیں سائیڈ سے تھوڑی سی تیز تھی۔ جو کہ عام طور پر ایک عام بات تھی۔

اب ہمیں خُدا کی مدد کی ضرورت تھی کہ ہمیں پارکنگ میں جگہ مل جائے کیونکہ اب ہم منی ایپولس میں میٹروڈم کےقریب تھے۔ اگر تم نے وہ علاقہ 3گھنٹے پہلے کر لیا ہوتا تو ہمیں ایک پارکنگ کے لیے ایک اچھی جگہ مل سکتی تھی۔ اور بہت زیادہ جگہ جو کہ تمہاری پسند کی ہو اوروہ تمہارے دوستوں کے پاس بھی ہو۔ یا تم اس قابل بھی ہو سکتے ہو کہ تمہیں سستی پارکنگ مل جائے۔ اور تمہاری کچھ رقم بچ  سکتی ہے۔ فٹ بال میچوں میں پارکنگ فیس 25 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ میٹر چلے گا۔آپ جتنی دیر تک گاڑی کھڑی کریں گے۔ اُتنے ہی پیسے بنیں گے 4 ڈالر سے 6 ڈالر تک۔ وہ اِنہیں لینے میں بہت سخت ہیں۔اکثر میں نے پورا ادا کیا ہے۔ جس لائین میں میں نے گاڑی کھڑی کی وہ بھری ہوئی ہوتی تھی۔ اور دوسری لائین جس میں میری برائے نام پک اپ کھڑی تھی۔ وہ بھی بھری ہوئی تھی ۔ وہاں پر کوئی میٹربھی دستیاب نہیں تھا۔ ٹیل گیٹنگ میں اس دفعہ کچھ زیادہ ہی قلت تھی۔ کیونکہ یہاں پر 2 بہت ہی بڑے منصوبوں کی تعمیر چل رہی تھی۔ 2 بہت ہی بڑی عمارتیں بن رہی تھیں۔ جنہوں نے پرانی پارکنگ کا بہت بڑا حصہ لے لیا تھا۔ لیکن کسی نہ کسی طریقے سے مجھے پتہ چلا تھا۔ کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔ اور میں جانتا تھا کہ خدا میرے ساتھ تھا۔ میں نے مائیک ڈبلیو اور سکاٹ سی کو بلایا جن کے بارے میں میں جانتا تھا کہ وہ دونوں گیم میں ہیں۔ اور ان سے پوچھا کہ انہوں نے کہاں پارک کیا ہے؟ اُن دونوں نے کہا کہ جہاں انہوں نے گاڑیاں کھڑی کی ہیں وہ لائین بھری ہوئی ہے۔ اُن دونوں کی ایک دوسرے سے تقریباً 2 بلاکوں کا فاصلہ تھا۔ میں نےصرف ایک چکر لگایا اور دیکھا اور میں نے یہ بھی سوچا کہ میرے پاس دینے کے لیے 25 ڈالر نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں پارک کرنے کی بہت جلدی تھی تاکہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ میچ کے شروع ہونے سے پہلے مل سکیں۔ پھر ہم نےایک لائین دیکھی جو کہ ابھی خالی تھی۔ اور میں ایک لڑکے سے پوچھا کہ یہاں پارک کرنے کا کیا ادا کرنا پڑے گا؟ اُس نے کہا ، کچھ بھی نہیں میرااندازہ ہےکہ آج یہاں پر کرایہ لینے کے لیےکوئی بھی نہیں ہے۔ جیسا کہ مجھے شک پڑ رہا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ یہ ایک نشان ہے کہ خدا ہماری مدد کر رہا ہے۔ ہم وہاں تھے۔ اب آپ سوچیں اگر آپ پکڑیں جائیں کہ آپ نے وہاں گاڑی پارک کی ہوئی ہے جہاں کھڑی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یا تو آپ کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا یا آپ کی گاڑی کو انتظامیہ اُٹھا لے گی۔ پس یہ ہلکا سا خیال میرے ذہن میں آیا۔ اگر میری کار اُٹھا لی گئی یا جرمانہ ہو گیا توکیا ہو گا؟ پھر میں نے اپنے خیال کو خود ہی جواب دیا اور اپنے آپ سے کہا، ایمان رکھو سب کچھ ٹھیک ہی ہوگا میں نے جلدی سے کہا، اے خدا شکریہ اور پھر میں دوبارہ اِدھر اُدھر نہیں پھرا۔ میچ ختم ہونے کے بعد میرے پاس کوئی ٹکٹ نہیں تھا اور کار بدستور وہاں تھی۔ کیا یہ لائین ہمیشہ مفت ہوتی ہے۔ مجھے اِس بات کا شک تھا۔ میں وہاں آیا میں اگلی دفعہ۔ دوبارہ اسے چیک کروں گا۔ لیکن میں دوبارہ اِسے اُسی صورت میں ہی استعمال کروں گا۔ اگر مجھے دیر ہو جائے گی۔ یا میرے پاس پیسے کم ہوں گے۔ میں اِس سہولت سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتا تھا۔ اور میں جانتا تھا کہ مجھے کس کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

ہم اپنے دوستوں سے دو مختلف جگہوں پر ملے۔ پہلے ہم سکاٹ سی کی طرف دوڑے ( وہ جو دو دن پہلے میرے گھرپر دوہرے شاور پر کام کرنے کے لیے آیا جو اُس نے پچھلی گرمیوں میں میرے لیے بنایا تھا اورمیں نے اُس کے لیے جیل میں کام کیا تھا۔) وہ اپنے دوست کرس کے پاس تھا۔ کرس برائین کا بھائی تھا جس کے ساتھ میں نے جائیداد کی خریدوفروخت کا فارغ وقت میں کام کیا تھا۔ سکاٹ نے مجھے لیبٹ بلو کی ٹھنڈی بوتلیں پیش کیں۔ اُس نے کہا کہ امریکہ میں بکنے والی یہ بیئر نہیں ہے۔ بلکہ یہ کینڈا سے منگوائی گئی ہے۔’’الکوہل کی ترکیب مختلف ہے‘‘ سکاٹ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ میں نے اُسے چکھا اور پسند کیا۔ یہ خستہ اور خالص تھی اور ذائقہ چکھنے کے بعد یہ انہونی نہیں تھی۔ سکاٹ کے ساتھ بیئیر ختم کرنے کے بعد ہم نے اُسے چھوڑا   اور اپنے دوسرے دوست سے ملنے کےلیے گئے جس کا نام مائیک تھا۔ میرا پہلا نام بھی مائیک ہے جو مائیکل کو مختصر شکل ہے۔ میرے 2 بہت اچھے دوست ہیں جن کے نام مائیک اور مائیک ڈبلیو جو ویسٹ وائیڈ سے ہیں اور مائیک ٹی کومو پارک سے ہیں؟ مائیک ڈبلیو کے ساتھ اس کا دوست گریگ تھا۔ میں 9 سال پہلے اُس کے ساتھ اورمائیک کے ساتھ پیا کرتا تھا۔ اوراُس کے بعد میں نےگریگ کو نہیں دیکھا تھا۔ میں مائیک ڈبلیو کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب 9 سال کا تھا اور تیسری جماعت کے سال کے درمیان میں تھا۔ اور یہ اب سے 28 سال پہلے کی بات ہے۔ ہم اپر ویسٹ وائیڈ کے چیریکی ہائیٹس ایلیمینٹری سکول کی مسٹر ٹروجی کی کلاس میں ملے تھے۔ آج مائیک ڈبلیو کی سالگرہ بھی تھی۔ میں نے اُسے سالگرہ مبارک کہا۔ہم چاروں نے تختوں کی لائینوں کے ارد گرد چہل قدمی کی۔ اور ہم نے دیکھا کہ کس طرح تمام پرستار پکا رہے اوربھون رہے تھے۔ اورکس طرح انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے ٹرکوں سجایا ہوا تھا۔ کم سے کم کہنے کے لیے یہ ایک منفرد توجہ ہے۔ اُن ٹرکوں کے تختوں کی پارٹیوں میں بہت سے شرابی تھے۔ میں یہ جانتا تھا کہ میں نے پارٹیوں میں بہت دفعہ شراب پی ہے۔ اب میں وہاں جا سکتا ہوں اور میرے پاس دو بئیر ہیں اور صرف اسی کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا۔ چہل قدمی کے بعد ہم مائیک ڈبلیو کے پاس گئے۔ اوراُس کے دوستوں نےوہاں گاڑیاں کھڑی کی تھیں۔ میں نے اُن سے کہا کہ کیا اُن کے پاس کوئی ٹھنڈی بئیرباقی بچی ہے۔ گریگ جو کہ مائیک ڈبلیو کے ساتھ تھا نے اپنا صندوق کھولا اور مجھے اور روب کا ایک ایک ٹھنڈی لیبٹ بلو کی بوتل دی۔ مائیک کے دوست نے کہا کہ یہ امریکی بئیر نہیں ہے بلکہ یہ کینڈا سے منگوائی گئی ہے۔ جو امریک لیبٹ بلو ہے وہ اتنی اچھی نہیں ہے۔‘‘میں نے روب کو اور روب نے مجھے دیکھا۔ اور کہا ، تم جانتے ہو، میرا خیال ہے کہ یہ بڑی مضحکہ خیز ہے کہ ان دونوں لڑکوں کے ہاتھ میں بئیر ہے۔ ہم نے صرف سکاٹ پر ختم کیا تھا۔  میں روب پر صرف مُسکرایا۔ ہم نے دِن کی اپنی دوسری بئیر ختم کی۔ اورپھر ہم لوگوں کو بھوک لگنا شروع ہو گئی۔ میں پارکنگ کے اُس طرف سے چلایا۔  کیا کسی کے پاس کچھ کھانے کو ہے جو کہ انہوں نے نہ کھانا ہو؟ اورہم سے آگےجو لڑکا بیٹھا ہواتھا۔ اُس نے کہا بالکل ہے۔ اور میں نے اورروب نے پکے ہوئے بڑے مزیدار برگر کھائے۔ اَے خدا تیرا شکریہ۔ میں نے اُن کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ہم کھیلیں دیکھنے کے لیے گئے۔ ہم نے وکنگ کی جیت دیکھی جو انہوں نے 2-0 سے جیتی۔

اب اِس کا کیا موقع تھا؟ میں نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ لیبٹ بلو کی کوشش کی تھی۔ شاید دو دفعہ یا شاید کبھی بھی نہیں۔ میں نے اپنے پچھلے دِنوں میں بئیر کی بہت دفعہ کوشش کی ہے۔ لیکن خاص طور پر لیبٹ بلو کے بارے میں میری پسندیدگی مجھے یاد نہیں ہے۔ جو مجھے بتاتی کہ یہ بڑی انوکھی ہے۔ یا کہ میں نے خود پی ہو یا میں نے اپنے لیے خریدی ہو۔ میں نے کینڈا کی دوسری بہت سی بئیر لی ہیں۔ جنہیں میں پسند کرتا تھا۔ حقیقت یہ ہے۔ کہ مجھے 2 مختلف جگہوں پر 2 مختلف لوگوں کے ذریعے سے 2 ملیں اور اُن میں سے ہر ایک نے مجھے خاص طور پر بتایا۔ کہ انہوں نے یہ کینڈا سے لی ہیں۔ یہ وہاں سے واپس آئی ہے۔ شراب کی یہ قسم امریکہ کی نہیں ہے۔ اور یہ ایک اتفاق تھا۔

بنیادی طورپر یہی کچھ ہے۔ جو میں آپ کو اِس پوری کتاب میں بتانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہ چھوٹے چھوٹے نمبر غیر متوقع طورپر کے اتفاقات محض اتفاقات نہیں ہیں۔ بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے معجزات ہیں۔ جنہیں خُدا ہمیں کچھ بتانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اور اُس نے مجھے “2” کے بارے میں بتایا اور وہ مجھے “2!” کے بارے میں بتاتا رہا ہے۔ آپ فرض کر سکتے ہیں۔ کہ وہ کیوں مجھے یہ بتا رہا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس اِس بارے میں کوئی رائے ہو۔ کیا آپ اِس بارے میں کوئی اندازہ لگا سکتے ہیں؟ وہ جانتا ہے کہ میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں۔ کہ وہ مجھے نشانات اور معجزات دینا جاری رکھتا ہے۔ تاکہ میں اُس کے بارے میں اور بھی لکھتا رہوں۔ ممکن ہے۔ اِس کے بارے میں صرف وہ ہی جانتا ہو۔ لیکن اگرمعاملہ یہ ہے۔ تو خُدا یہ کرنے کے لیے صرف 2 کا ہی استعمال کیوں کرتا ہے۔ وہ کچھ اور کیوں استعمال نہیں کرتا۔ جیسا کہ پرندہ جو میں نے پہلے دیکھا تھا؟ اُس نے انہی کا استعمال کیوں جاری رکھا؟ رنگ، خاص پیغام یا آواز اور پورے لفظ کے بارے میں کیوں نہیں۔ میں اُمید کرتا ہوں۔ تم دیکھ سکتے ہو کہ میں کِس طرف کو جا رہا ہوں۔ جیسا کہ یہ وہ ہے۔ جس کا مجھے یقین ہے۔ میں یسوع مسیح پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں ایمان رکھتا ہوں کہ اُس کی دوسری آمد بہت جلد ہونے والی ہے۔ مجھے کتاب کو ختم کرنے اور شائع کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ خُدا کی راہنمائی کے ساتھ اِس کو درست طریقے سے کرنے کی آگاہی ہے۔ خُدا کے بغیر کچھ بھی ہونا ممکن نہیں ہے۔ مجھے مزید صبروبرداشت کی ضرورت ہے۔ کیا صبروبرداشت ملتی ہے۔ کمائی جاتی ہے یا سیکھی جاتی ہے۔ خُدا کے ساتھ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ تینوں ہی ممکن ہیں۔

18 ستمبر 2003

میں نے خُدا سے پوچھا کہ مجھے اِس سلسلے میں اور راہنمائی دو کہ کِس طرح تم اپنے لیے اِس “2” کو بالکل ٹھیک طور پر استعمال کرو گے۔ یہ میری طرف سے ایک بڑی بہادرانہ درخواست تھی۔ کیونکہ میں اُس کے جلال میں رکاوٹ ڈالنا شروع کر رہا ہوں۔ میری بے صبری ہی مجھے بہتری دے رہی ہے۔ مجھے مزید صبر کی ضرورت ہے۔ میں یہ جانتا ہوں ابھی تک یہ بہت مشکل ہے۔ کرسمس کی شام کو ایک بچے کی طرح وقت سے پہلے ہی اپنے تحفے کو کھولنے کی خواہش رکھنا۔ میں نے خُدا سے پوچھا کہ مہربانی کر کے 2 کے استعمال کی وجہ مجھے پر روشن کر۔ اور مہربانی کر کے 2 دِنوں  میں یہ کر۔ کیا یہ یسوع مسیح کی دوسری آمد سے متعلق ہے؟ یا کہ یہ اِس کتاب کو مکمل کرنے کے لیے مزید معلومات ہیں۔ میں خواہش میں جل رہا تھا۔ اِس کے ساتھ ساتھ میں کھو رہا ہوں۔ پریشان اور خوش ہو رہا ہوں۔ اور حیرانگی سے پھر پور ہوں ۔ مجھے مزید صبروتحمل کی ضرورت ہے۔

خُدا نے اُسی رات مجھ پر ظاہر کیا اُس نے زیادہ دیرانتظار نہیں کروایا۔ 2 یہاں تک کہ ایک دِن بھی نہیں۔ بلکہ بالکل اُسی شام ہی۔

اور میرے سوال کا جواب یہ تھا۔ یہ ایک معجزہ ہے، یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے یہ بالکل اُسی طرح کا جواب تھا جس کی مجھے توقع تھی۔ لیکن یقینی طور پر اچھا تھا!

اَےخُدا تیرا شکریہ

کیا آج کے معاشرہ میں ایک بڑا معجزہ جاری رہے گا۔ میں بائبل کے عالم فاضل لوگوں سے اِس بارے میں سننا چاہوں گا۔ کہ وہ اِس کے ہونے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے۔ خُدا کے پاس اِس طرح کے کام کرنے کے عظیم طریقے ہیں۔ اور اُس سے بھی بڑے ہیں جس طرح کا آپ کا تصور ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے طریقے سے کرتا ہے۔ اور اُس کا طریقہ ہمیشہ جیسا ہم سوچتے ہیں اُس سے مختلف ہوتا ہے۔ جب میں نے اِس کتاب کو لکھنا شروع کیا تو میں نے لکھا۔ کہ خُدا اپنے معجزات کو پُرشکوہ طریقے سے کرتا ہے۔ جیسا کہ وہ کرتا رہا ہے۔ (جیسا کہ میں جانتا ہوں کہ بحر قلزم کو 2 ٹکڑے کرنا۔ اگرچہ اِس کوبہت لمبا عرصہ گزر چُکا ہے خُدا نے یہ معجزہ ایک بہت بڑے پیمانہ پر کیا۔ (جس کے بارے میں میں جانتا ہوں) میں دیکھتا ہوں کہ اب کیا کرتا ہے۔ کہ معجزہ جو اُس نے مجھے “2” کی شکل میں دیا۔ آپ کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے حقیقت میں یہ ایک بہت ہی عظیم تقریب تھی۔

23 ستمبر 2003

سوفٹ بال ٹیم جس میں میں اِس سال کھیلا صرف یہ ہوا انہوں نے اپنے آپ کو چیمپئین شپ کے لیے آج رات کی کھیل کے لیے لیا۔ وہ جیتنے والے بریکٹ میں مزید ہارنے کے لیےکھیلنے۔ اور ہارنے والے بریکٹ میں وہ جیتنے کے لیے کھیلے۔ تقریباً 4 ہفتے پہلے میری ٹانگ کا پٹھا پھٹ گیا۔ جس نے مجھے سو فیصد دوڑنے اور بھاگنے نہ دیا۔ اور مجھے آج یہ دیکھنے کے لیے بلایا گیا۔ کہ کیا میں کھیلنے کے قابل ہوں گا۔ لیکن میں نے یہ چُنا کہ میں نہ کھیلوں۔ کیونکہ میں دوبارہ سے اِس پٹھے کو زخمی کرنا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن میں نے اُن کو بتایا۔ کہ میچ دیکھنے اور اُن کو داد دینے کے لیے وہاں ہوں گا۔ میرا مسیحی دوست روب اور میں اِس سال اکٹھے دو سوفٹ بال ٹیموں میں کھیلےوہ میرے ساتھ میری ٹیم میں کھیلا۔ جس میں میں سال تک کھیلا اور میں اُس کی ٹیم کلوکویٹ، ایم این میں کھیلا۔ دونوں ٹیمیں جن کے لیے ہم کھیلے اُن کے نام عجیب سے ہیں۔ میری ٹیم کا نام روور اِن تھا وہ ڈیکویٹ، ایم این میں مقیم تھی۔ روب کی ٹیم کلوکویٹ، ایم این سے تھی۔ اوراُس کا نام روسٹر تھا۔ پچھلے سال اُس کا نام رچرڈ تھا۔ بار کے نئے مالک نے اِس سال بار کا نام رچرڈ سے روسٹر رکھ دیا۔ ایسا آدمی جس کا نام رچرڈ ہو اُس کا مختصرنام یا لقب کیا ہوتا ہے۔ روسٹر کا مختصر نام یا لقب کیا ہوتا ہے۔ اب گھٹیا آواز میں مردانہ عضو تناسل کے متعلق 2 جنسی اشارے کرنا۔ جب اِس کو مختلف سیاق وسباق میں اورالگ استعمال کیا جائے۔ تو اُن الفاظ کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ لیکن اُن کو اِس سیاق و سباق میں اکٹھا کریں۔ اور یہ بڑا مضحکہ خیز ہے۔ ایسے لڑکے کا ڈک کہنا جس کا نام رچرڈ ہے۔ یہ بالکل ٹھیک ہے۔ روسٹر کو کوک کہنا یہ بھی ٹھیک ہے۔ اُن کی ٹیم کا نعرہ تھا۔ ڈکس سے کوکس کی طرف یہاں تک کہ روب اپنی دلکشی کے لیے کچھ بھی نہ پہن سکا۔ میں نے بھی کچھ نہ پہنا لیکن یقینی طور پر جب میں نے وہ سُنا تو میں بے ساختہ ہنس دیا۔ میرا خیال ہے۔ کہ وہ بہت عجیب تھا۔ اورایک طرح کا اتفاق بھی۔ اِس کو لکھنے کی صرف ایک ہی وجہ ہےوہ یہ کہ 2 ٹیموں او قصبوں کے 2 ناموں کے درمیان 2 کا واضح نشان اُن میں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اور روب ایک ہی ٹیم میں کھیلے۔ اور یہ اُن میں اتفاق تھا۔ اب میں جانتا ہوں کہ تم میں سے کچھ اِس کو پڑھتے ہوئے ہنستے ہوں گے۔ ٹھیک ہے۔ آگے بڑھتے ہیں۔اگر میں کوشش بھی کروں تو اِس طرح کی بڑی غلطی نہیں کر سکتا۔ اِس تمام کے سچا ہونے کی حقیقت یہ ہے۔ کہ یہ اِسے مزید زندہ دِل بنا دیتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ جب خُدا ہنستا ہو گا تو کِس طرح کی آواز آتی ہو گی۔

میرا پہلا میچ جو نے روب کی ٹیم کے ساتھ کھیلا۔ تو میں نے ایک انفرادی ہوم سکور لیا۔ میں عام طور پر ہوم سکور کے لیے ضرب نہیں لگاتا۔ ہم یہ میچ 21-1 سے ہار گئے۔ اور دوسری طرف روب نے ہوم رن باقاعدگی سے بنائے۔ شاید اِس سال کےایک یا دو میچوں کے علاوہ روب نے ہر میچ میں 2  سے 3 ہوم رنز بنائے ہیں۔ اِس طرح کا معیاری ٹریک میں نہیں بنا سکا۔ ہماری ٹیم میں ہم اتنے اچھے نہیں رہے۔ ہمارا یہ سیزن بڑے بُرے طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ لیکن میری ٹیم میں میں نے 2 ہوم رنز بنائے۔ روب کا بیٹا کرسچئین وہاں مجھے دیکھ رہا تھا۔ وہ چار سال کا تھا۔ اور اُس نے یہ میچ شروع ہونے سے پہلے میرے لیے دُعا کی تھی۔ اورمیرا خیال ہے کہ یہ بہت ہی اچھی چیز تھی۔ میں اِس دُعا کے بعد جب بیٹنگ کے لیے گیا۔ تو میں نے 2 بڑے زبردست شاٹس کھیلے ایک درختوں میں گیا اور دوسرے نے باڑ کو توڑ دیا۔ ووو خُدا کا شُکر ہو۔ آخری باقاعدہ سیزن میں میں نے روب کی ٹیم میں بھی ایک ہوم رن لیا تھا۔ اوریہ اِس سیزن کا میرا آخری میچ بھی تھا۔ اور یہ وہی میچ تھا۔ جب میں زخمی ہوا تھا۔ جب میں نے یہ ہوم رن لیا۔ تو ٹیم کے مینجر کورے نے کہا،فلپ تم نے اپنے آخری میچ میں بڑی عزت کمائی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت زبردست ہے۔ اور حقیقت یہ ہے۔ کہ دونوں ٹیموں کے لیے اپنے آخری میچ میں میں نے جو ہوم رن لیا تھا وہ واقع ہی بڑا زبردست تھا۔ کیا اب یہ عجیب لگتا ہے؟ یا اتفاق ہے؟ اب مزید کھلینا تھا۔ اورمیں کھیلنے کے قابل نہیں تھا۔ لیکن ٹیم بہترین کھیلی۔ اُس کے نئے طاقتور اور پُر اعتماد کھلاڑی مائیک الٹرا نےدوسرے بیٹ سے خوب بیٹنگ کی۔ روب کی ٹیم نے ایک بیٹ خریدا تھا لیکن وہ ناکارہ بم ثابت ہوا وہ انہوں نے واپس اندر بھیج دیا اور دوسرا لیا۔ اور اُس مضبوط بیٹ کے ساتھ زیادہ تر سیزن کھیلا۔

چیمپئین شپ کا میچ اُن کےسامنے تھا۔ میں وہاں تھا۔ اور میں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ کہ میں اپنے ٹیم کے سکور بک میں کھیل کے ہٹ، رنز کا اندراج کرتا ہوں۔ اگر وہ جیتتے ہیں تووہ سب کچھ جیتتے ہیں۔ اگر وہ ہارتے ہیں۔ تو دیکھیں کہ کِس طرح دو چیزوں کا اسقاط ہوتا ہے۔ اِس کے بعد اُنہیں فوراً دوبارہ کھیلنا پڑتا۔ کھیل تقریباً 30 منٹ دیر سے شروع ہوا۔ کیونکہ ہارنے والوں کی بریکٹ توقع سے زیادہ لمبی ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ یہ کوشش نہیں تھی۔ دوسری ٹیم نے ہمیں 30-8 پرمارا۔ اور ہمیں 22 رنز سے ہرا دیا۔ میں روب کے پاس گیا۔ اور روب سے کہا، تم ٹھیک 22 رنز سے ہارنا اِس سکور کے متعلق کیا سوچتے ہو۔ میں اور روب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مُسکرائے۔ ہم دونوں ایک لفظ کہے بغیر بھی جانتے تھے۔ کیونکہ یہ حقیقت تھی۔ کہ ٹیم 22 رنزسے ہاری ہے۔ جو ایک اتفاق نہیں تھا۔ اب ہمیں اُن سے دوبارہ کھیلنا پڑا۔ میں سو فیصد مثبت تھا۔ اور روب سے کچھ نہیں پوچھا۔ میں میچ سے پہلے ہی جانتا تھا۔ کہ اُس نے دُعا کی ہے اور میں نے بھی کی۔

دوسری گیم زیادہ شدید تھی۔ میں نے قریب سے شروع کیا۔ ہم ایک سکور سے آگے تھے۔ پہلی اننگز کے بعد سکور3-2 تھا۔ اِس کے بعد دوسری ٹیم نے برتری حاصل کی۔ اور اُس کو برقرار رکھا۔ دوسری ٹیم نے چھ اننگز میں سکورکو بڑھا کر19 تک ترتیب دے دیا۔ اور ساتویں اننگز میں انہوں نے کوئی وکٹ نہ گِرا کر بیس کو لوڈ کیا۔ ہم 2 رنز پیچھے تھے۔ اور ایسا لگ رہا تھا۔ کہ وہ اپنی برتری کو بڑھا لیں گے۔ میرا مطلب ہے کہ بیس لوڈ ہو گئے تھے۔ اور یہ تمام بغیرآؤٹ ہوئے تھا۔ ایسے لگ رہا تھا۔ کہ وہ اپنی اِس صورتِ حال سے فائدہ اُٹھانے کے لیے زبردست حالت میں آ گئے تھے۔ لیکن پھر ایک زبردست چیز ہوئی۔ کہ ایک خراب سا تہرا کھیل ہوا۔ میرا نہیں خیال کہ میں نے کِسی انسان میں اِس طرح پہلے ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ لیکن غلطیوں کے الجھاؤ میں اپنے دفاع کے حصّے کے بارے میں برق رفتار خیالات آئے۔ پہلے بیس کے لیے میرے دوست روب کو گراؤنڈ بال لگا۔ اوراُس نے رن لینے کے لیے گیند کو بھگا دیا۔ پکڑنے والے نے اِس کو تیسرا داغا۔ جو کہ تیسرے کا بہت قریبی کھیل ہوا۔ ایمپائر نے اُسے آؤٹ قرار دے دیا۔ جس نے دوڑنے والے کے لیے پریشانی پیدا کردی۔ ایک طرح سے وہ پہلے اور دوسرے کے درمیان ٹھہر ہی گیا تھا۔ اور حیران تھا۔ کہ یہ کِس طرح کا بلاوا ہے۔ ایک طرح سے ہر کوئی کھڑا تھا۔ تیسرے بیس مین نے دوسرے کی طرف بال پھینکی اور دوسرا لڑکا تیسرے کی طرف بھاگا۔ جو 2 (دوسرے) بیس کی طرف اپنی غلط فہمی کی وجہ سے دیر سے دوڑا تھا۔ یہ ہوم کے پہلے آؤٹ کے علاوہ کوئی اچھی بات نہیں تھی۔ جس نے ایک صاف ستھرا سکور کیا تھا۔ دوسرا تیسرے کے بالکل قریب تھا۔ اور تیسرا آؤٹ اُس دوڑنے والے کی غلطی تھی۔ جو کِسی قسم کی غلط فہمی کا شکار ہو گیا تھا۔ کہ وہ کیا کرے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ تہرا کھیل کیسا عجیب ہو گیا تھا۔ وووو

ہم بیٹنگ میں پورے اُترے اور ہمیں برابر کرنے کے لیے1 اورجیتنے کے لیے 2 سکور کی ضرورت تھی۔ سکور اُن کی حمایت میں 21-20 تھا۔ ہمارے پہلے آدمی نے اپنے مختصر پڑاؤ کی طرف گیند کو ہٹ لگائی۔ اور ایک غلطی کر بیٹھا۔ ہم نے پہلے کی جگہ پر لڑکا بھیجا۔ ہمارے اگلے بیٹر سے بال کو پہلے بیس مین کی طرف اُچھال دیا۔ اِس بات نے پہلے لڑکے کو مشکل میں گرفتار کر دیا۔ وہ دوڑ نہیں سکا۔ کیونکہ اگر پہلے بیس والا لڑکا گیند کو کیچ کر لیتا تو وہ یقینی طور پر آؤٹ ہو جاتا۔ اگر وہ کِسی وجہ سے بھی وہ خطرے سے باہر نہیں تھا۔ پہلے بیس مین نے بال کو پکڑنے کی بجائے، اور بیس کو چھونے کی بجائے یا اُس لڑکے جو آگے کھڑا تھا کی طرف پھینکنے کی بجائے اُسے گرا دیا۔ اُس سے بال نہیں پکڑا گیا۔ اور اُس وقت ہمارے دوڑنے والے نے دوسرے بیس کی طرف دوڑ لگا دی۔ وہ بال کو پکرنے کے لیے دوڑا۔ اور دوسری بار بھی نہیں پکڑ سکا۔ جس نے بیٹر کو حفاظت سے پہنچنے کا موقع دیا۔ اور دوڑنے والا دوسرے بیس کی طرف آگے بڑھا۔ ووو۔ میں نے سوچا یہ تو ناقابلِ یقین ہے۔ میں خوش تھا۔ میں چلایا اور روب کو دیکھ کر مُسکرایا۔

دوسرے آدمی نے صاف ستھری ہٹ لگائی اور بیس کو لوڈ کردیا۔ پھر ہم پہلے آؤٹ کے لیے تیار ہوگئے۔ پھر ایک اور ہٹ نے رَن لینے کی کوشش کروا دی۔ مختصر پڑاؤ کے لیے اگلا گراؤنڈ بال کھیل کی آخری باری تھی۔ اُس نے دوسرے کی طرف پھینکا اور پہلے کی طرف سے بھاگ گیا۔ لیکن دوسرے بیس مین نے ڈبل پلے مکمل نہ کیا۔ اور ہمارا دوڑنے والا کھیل کے دوران تیسرے سکور کے لیے دوڑا۔ اِس طرح اُس نے 22-21 پر کے فائنل سکور پر کھیل کو ختم کیا۔ 22 نمبربڑے با معنی طریقے سے آیا۔ اِس تمام واقعہ نے مجھے واپس 1980 کے سال میں پہنچا دیا۔ کہ کِس طرح امریکہ کی ہاکی ٹیم نے اولمپک گولڈ میڈل لیا تھا۔ اور انہوں نے روس کی فائنل میں پہنچنے والی ٹیم کو ہرایا۔ اعلان کرنے والا مائیکل چلایا اے ون ، کیا تم معجزات پر یقین رکھتے ہو؟!!!!!!!! یہی وہ سب کچھ تھا۔ جس کے متعلق میں سوچ سکا۔ اور میں نے خوشی اور بابرکت آوازکے ساتھ بڑی اونچی آواز میں کہا۔ میں نے روب کی طرف دیکھا اور اُسے کہا، ہاں یقیناً میں یہ کرتا ہوں اور میں نے یہ کیا بھی۔ یہ بہت عظیم اور دلچسپ سوفٹ بال گیم تھی۔ جو میں نے آج تک دیکھی۔

یہ میری کتاب کا بڑا زبردست اختتام نظر آ رہا تھا۔ اگرچہ میرا نہیں خیال تھا۔ کہ 2 کا آنا بند ہو گیا تھا۔ میں حقیقی طور پر اِس حصّے کا دلچسپ اور بہت اچھا اختتام دیکھ رہا تھا۔ مجھے اِس بات کی ضرورت تھی۔ کہ میں یہ کہانی لوگوں کے پڑھنے کے لیے جاری کروں۔ اگر میں لکھنا بند کرتا ہوں تو یقیناً یہ پڑھی نہیں جائے گی۔ میں اِس بات پر حیران تھا۔ کہ کچھ بہت عظیم کام ہونے والا ہے۔ میرے یہ احساسات تھے۔ کہ کچھ بہت ہی پُر شکوہ کام ہونے والا ہے۔ اورجس کا میں گواہ بننے جا رہا تھا۔ اور میں اِسے ایسے لکھنے جا رہا ہوں۔ کہ جیسے یہ کِسی اوپیرا کا بہت بڑا ایکٹ ہو۔ اور پھر میں نے اپنی بائبل لی۔ اور بائبل کی 66 کتابوں میں آخری کتاب جو یوحنا رسول نے لکھی ہے اور جس کا نام مکاشفہ ہے۔ مکاشفہ مقدس بائبل کی آخری کتاب ہے۔ پس اگر تم بائبل کو کھولتے ہو۔ اور دیکھتے ہو کہ بائبل کا اختتام کیسے ہوا؟ تو تم دیکھو گے۔ کہ مکاشفہ میں 22 ابواب ہیں۔ اور 22ویں کی 21 آیات ہیں۔

مکاشفہ   22:21خداوند یسوع کا فضل مقدسوں کے ساتھ رہے۔ آمین

6 اکتوبر 2003

میں نے پچھلی رات دُعا کی۔ کچھ عجیب و غریب واقع ہوا۔ میں ابھی تک سگریٹ نوشی کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔ اور اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔ اور میں جانتا تھا کہ میں خداوند کا اچھا گواہ نہیں بن سکتا۔ اور خُدا کے لیے میری گواہی بھی اچھی نہیں ہو گی۔ اگر میں سگریٹ پینا جاری رکھتا ہوں۔ میں نے دُعا کی اور وہ دُعا کچھ اِس طرح کی تھی۔

اَے باپ میں سگریٹ کا عادی نہیں رہنا چاہتا۔ اِس طرح تو میں اچھا گواہ نہیں بن پاؤں گا۔ میری زندگی میں بہت سی باتیں اچھی ہیں۔ لیکن میں ہر بات میں اچھا نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں۔ کہ یہ سب کچھ لمبا ہو سکتا ہے۔ اور میں کچھ چیزوں میں اچھا بننا چاہتا ہوں اور تم میں بنے رہنے کے لیے اِس کی ضرورت بھی ہے۔ یہ سگریٹ کی عادت ختم ہونی چاہیے۔ اَے باپ اِس کو چھوڑنے میں میری مدد کر۔ مجھ میں ایک بد روح ہے۔ جو مجھے سگریٹ نوشی کی عادت میں قید رکھنا چاہتی ہے۔ اَے بدروح میں تمہیں قید کرتا ہوں۔ میں تمہیں اتھاہ گڑھے میں پھینکتا ہوں۔ جہاں تم روزِ قیامت تک رہو گی۔ یسوع مسیح ناصری کے نام سے میں یہ دُعا مانگتا ہوں آمین!

کل رات تک عام طور پر جب بھی میں نے دُعا کی۔ میں نے یسوع کے نام میں یا یسوع مسیح کے نام میں دُعا کی۔ اِس سے پہلے میں نے کبھی نہیں کہا، یسوع مسیح ناصری کے نام میں. میں نے کچھ پڑھا ہے۔ میں نے ایک مبلغ کے بارے میں پڑھا کہ اُس نے اپنی عبادت میں کچھ بدروحوں کو نکالا۔ اُس کا نام جارج جے آسٹن ہے۔ میں نے اُس کی کتاب پڑھی ہے۔ دی ایوکننگ اینیونٹنگ کتاب نمبر1 http://www.nrn.net/austin/books/1.pdf میں وہ یہ والی دُعا کرتا ہے۔ یسوع ناصری کے نام میں نتائج زبردست ہوتے ہیں۔ اور میں نے یہ بھی پڑھا۔ کہ اُس نے کچھ بدروحوں کو قید کیا اور اُن کو نکالا۔ میں نے کل رات ایمانداری سے، کچھ طاقت سے، فوری ضرورت کے احساس، عاجزی و انکساری اور بہت سارے جذبات کے ساتھ جو مجھ میں سے بہہ رہے تھے کے ساتھ دُعا کی۔ جب میں یہ دُعا کر رہا تھا۔ میں اِس معاملے پر نہیں سوچتا۔ کہ آپ یسوع کا کون سا نام لیتے ہو۔ لیکن اصل بات یہ ہے۔ کہ جب تم دُعا کر رہے ہوتے ہو تو تم یہ کہتے کیسے ہو؟ تمہارے دِل میں اِس کے مطلب کی گہرائی کیا ہے؟ میں نے اندازہ کیا کہ اِس کو پڑھنے سے مجھے حوصلہ ملا اور اِس کا اظہار بھی ہوا۔

آدھی رات کو دُعا کے ختم کرنے کے 30 منٹ بعد روح القدس مجھ میں آیا۔ جو میں نے محسوس کیا وہ 100 تہوں میں بند تھا۔ جو میں نے محسوس کیا کہ اپریل 2003 کو حاصل ہونے والے روح القدس کے متعلق میں نے خُدا سے پوچھا۔

پچھلی رات کو میں بہت اچھی نیند سویا۔ اور میں تقریباً صُبح 9 بجے جاگا۔ اب تقریباً بعد دوپہر کے 1:30 ہو رہے تھے اور میں نے نہ سگریٹ پینے اور نہ رکھنے کی ضرورت محسوس کی۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں اُسے لے آؤں لیکن میں نے اُسے آسانی سے رَد کر دیا۔ میں نے اپنے پھیپھڑوں میں سکون محسوس کیا جہاں سے بلغم آتی تھی۔ بلغم کو نکالا۔ لیکن یہ بالکل صاف ہے۔ عموماً صُبح کے وقت پھیپھڑوں سے آنے والی بلغم سخت اور گہرے بھورے رنگ کی ہوتی ہے۔ اور اب یہ بالکل صاف ہو گئی تھی۔ میں بھورے رنگ کی بلغم والی کوئی کھانسی محسوس نہیں کی۔ اور میں نے سانس لینے میں بہت آسانی محسوس کی۔ اَے خُدا تیرے تعریف ہو!

میں نے سوچا کہ آج کون سا دِن ہے۔ میں نے دیکھا کہ آج جو یہودیوں کے ایک تہوار یومِ کپور(یومِ حساب) کی چُھٹی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اُن بہت اہم اور مقدس چُھٹی ہے۔ میں یہودی نہیں ہوں۔ لیکن یہودی آج کے دِن کیا کرتے ہیں۔ وہ خُدا کو اپنے گناہوں اور کئے گئے وعدوں کے توڑے جانے کی معافی کے متعلق کہتے ہیں۔ پیشتر اِس کے کہ زندگی ختم ہو جائے۔ ایسے لگتا ہے یہ اُن کے لیے خُدا کے ساتھ چیزوں کودرست رکھنے کا ایک راستہ ہے۔ تاکہ وہ اپنے لیے ایک اوراچھا سال ممکن بنا سکیں۔ وہ پورا دِن دُعا اور روزہ میں رہتے ہیں اور ازدواجی تعلقات کو قائم نہیں کرتے اور چمڑے کے جوتے نہیں پہنتے اور خوشبو یا لوشن یا اُبٹن نہیں لگاتے۔ وہ کہتے ہیں۔ کہ وہ یہ فرشتوں کی طرح کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی فردوس میں یہ سب کچھ نہیں کرتے۔ کِسی حد تک، کیا ہم اپنے جسم کو بے حرمت کر کےگناہوں کی معافی کے سلسلے میں مدد کے لیے خُدا کو کہہ سکتے ہیں۔ اور یہ یہودی قوم کے لیے اِس مقدس دِن کو ہوتا ہے۔ میں نے یہ آخری رات آدھی رات سے پہلے دُعا کی تھی۔ لیکن میں وقت کے متعلق زیادہ پُر یقین نہیں ہوں۔ آدھی رات کے بعد صُبح سویرے روحِ خُدا کی جُنبش مجھ پر ہوئی۔

میں نے یہ دُعا5  اکتوبر 2003 کو رات کے 11:30 پر کی۔ اور تقریباً

اِس کے آدھے گھنٹہ بعد میں نے یہ محسوس کیا۔ بعض اوقات وہ مجھ پر آتا ہے اور میرے اندر بھی آتا ہے اور باہر جاتا ہے اور میرا احاطہ کرتا ہے۔ میں جسم کے اندرونی دباؤ کی وجہ سے اُٹھتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ لیکن میرا ذہن صاف اور غیر متاثر تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے احساسات کا سر میں ایک ہجوم ہے۔ لیکن بہت تیز گرمائیش اور دباؤ صرف میرے جسم میں تھا۔ یہ حالت تقریباً 2 یا 4 منٹ تک رہی۔ پھر میں نے اسے اپنے جبڑوں اور دانتوں کے گِرد محسوس کیا۔ میں ایک بار پھر اِسے اپنے جسم میں محسوس کیا۔ لیکن یہ لہر پہلی لہر کی طرح سخت نہیں تھی۔ اور میں نے سانس لینے میں آسانی محسوس کی۔ جب یہ ہو رہا تھا۔ تو میں سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اور جو کچھ میرے جسم کے ساتھ ہو رہا تھا اُس کو میں نے قبول کیا۔ میں نے اپنے سر میں اِس کو بار بارکیا۔ اَے باپ تیرا شکریہ، اَے باپ تیرا شکریہ، اَے باپ تیرا شکریہ

اُس صُبح اور اُس رات میں نے سگریٹ نہیں پکڑی۔ اگلے دِن 7 اکتوبر کی صُبح کو، سگریٹ پینے کی ایک مضبوط لہر نے مجھے اپنے غلبے میں لے لیا۔ اِس بار میں نے اپنے آپ کو کمزور محسوس کیا۔ میں کمزور ہونا نہیں چاہتا تھا۔ جلد ہی میں دُعا کروں گا اور جلد یہ لہریں مجھے چھوڑ جائیں گی۔ میں نے دوبارہ سگریٹ نوشی کی اور میں نے شرمندگی محسوس کی۔ یہ میں نے کیا کر دیا؟ میری مدد کریں مجھے معاف فرما دیں۔ ( آخر کار میں 17 اکتوبر 2007 کو میں نےسگریٹ نوشی چھوڑی۔ اِس عادت سے لمبا عرصہ جنگ کرنے کے بعد، آخر کار میں ٹوٹ گیا اور میں خُدا کے سامنے گِڑگِڑانے لگا اور اُسے کہا۔ کہ میں اپنے طور پر یہ نہیں کر سکتا، کیونکہ میں ایسا کرنے میں مسلسل ناکام ہوا ہوں۔ اور یہ مجھے نیچے ہی نیچے لیتی جا رہی ہے۔ اِس دُعا کے چند منٹ بعد فون کی گھنٹی بجی۔ یہ بلو کراس تھا۔ اور انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ کہ کیا میں سگریٹ چھوڑنا چاہتا ہوں۔ میں نے اُن سے وعدہ کیا کہ میں کچھ تفصیلات لیں۔ اور 8 دِن اُن پر صَرف کیے۔ اور میری 22 سالوں کی سگریٹ نوشی کی عادت چھوٹ گئی۔ خُدا کی تعریف ہو۔)

14 اکتوبر2003

ریاست مینیوسٹا کے 2 مجرموں یا قیدیوں نے بطور کام کرنے والے یا بطور جمعدار میرے یونٹ میں دوبارہ سے کام شروع کیا۔ لیکن اُن 2 مجرموں کا میرے یونٹ تعین ہوا۔ جو ایک عام ذریعے سے ہوا۔ عموماً ایک مجرم ایک نوکری دینے والی کمیٹی کے ذریعے سے بطور یونٹ کے کام کرنے والا مقرر ہوتا ہے۔ یہاں پر کچھ خاص حالات تھے جس کی وجہ سے اِس مجرم کو عام طریقے سے ہٹ کراِس جگہ کام کے لیے متعین کیا گیا۔ میں بھی پہلےاُسے کِسی اور یونٹ میں یونٹ کی نوکری دیتا اور دوبارہ سے اُس کی تقرری کر کے اُسے اپنے یونٹ میں رہنے دیتا۔ اِس طرح کی صورتِ حال سال میں چند مرتبہ ہی ہوتی ہے۔ اور جب یہ ہوتا ہے۔ تو مجھے یونٹ میں اُس شخص کے لیے ایک اور جگہ بنانی پڑتی ہے۔ جب تک کوئی کام کرنے والا نہیں جاتا اور جگہ نہیں بنتی۔ ایک اور راستہ ہے کہ ایک مجرم بطور کام کرنے والے کی تقرری ہوتی ہے۔ جب کوئی انتظامیہ کا کوئی فیصلہ انتطامی ٹیم ، صحت کی سہولت یا جسمانی خدمت میں سہولیات بہم پینچانے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ مجرم یا دونوں میں اِس طرح کی صورتِ حال بہت کم ہوتی ہے۔ اُس دِن بھی بس یہی کچھ ہوا۔ اوپر والے ہر کیس کے لیے میں نے 2 اضافی عہدے پیدا کئے۔ لیکن اِس نے اِن دونوں مجرموں کی نچلے والے تختے میں مزید بہتری اور عمدگی پیدا کی۔ اور جیل کی بیرک کی حد بندی کے اندر رہتے ہوئے نچلے تختے میں بہتری پیدا کرنے کے لیے خاص تقرری تھی۔ یہ واقعہ اُس وقت عمدگی لایا جب آپ نے دوسرے مجرم کے شناختی نمبر کو دیکھا۔ ریاست مینیوسٹا ہر مجرم کو ایک خاص نمبر دیتی ہے جب وہ اُسے سسٹم لاتےہیں۔ واپس 1970 میں جائیں تو پہلے مجرم کو100001 نمبر مِلا۔ پھر اِس کو 100002 تک بڑھا دیا گیا۔ حال ہی میں کِسی کو سسٹم میں آنے سے 212500 کا نمبر ملتا یا اِس سے آگے۔ وہ 2 مجرم جن کے لیے میں نے خاص حالت میں 2 اضافی جگہیں نکالی جو سلسلے وارعجیب طریقے سے شروع ہوتے ہیں۔ ہر نمبر 135*** سے شروع ہوتا ہے۔ جو اُس وقت بِلا تفریق پرانے نمبروں نے اِن دونوں کی نشاندہی کی جو سسٹم میں لمبے عرصہ تک رہے۔ نمبر سلسلہ وار تھے۔ اور حقیقت یہ تھی کہ وہ پرانے نمبر تھے۔ اور نئے سسٹم میں نہیں آئے تھے۔ یہ واقعہ بہت، بہت، بہت، بہت، بہت انوکھا ہے۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ میں نہیں جانتا، ہو سکتا ہے کہ اِس کا بعد میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ بڑی انوکھی اور عجیب حالت تھی۔

3 نومبر2003

میری بیوی کو ایک بہت بُرا حادثہ پیش آیا۔ اور اُس کا ٹرک پھسلنے والی برف سے پھسل گیا۔ ٹرک مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ لیکن وہ اُس میں سے باہر آ گئی۔ اُس کے سر پر ہلکا کو گومڑ بنا اور ہاتھ پر خراش آئی۔ میرا خیال ہے کہ یہ معجزہ تھا۔ کہ وہ بُرے طریقے سے زخمی نہیں ہوئی۔ وہ ریاست مینیوسٹا کے ساتھ الیکشن میں دوبارہ ووٹ کے لیے ہڑتال پر چلی گئی۔ پچھلے ستمبر کے رَد ہونے والے ووٹوں کے بعد ، ایک نیا معاہدہ ہوا۔ جس کے بارے میں ابھی تک لگ رہا تھا کہ یہ کوئی اچھا معاملہ نہیں تھا۔ یونین کے ممبرز دوسری دفعہ دوبارہ ووٹ ڈالیں گے۔ میرے یونٹ کے افسر دوبارہ ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ کیونکہ ہم ایک غیر جانبدار ثالث کے ذریعے سے پہلے ہی ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کر ووٹ ڈال چُکے تھے۔ پس میں نے دوبارہ ووٹ نہیں ڈالا لیکن میری بیوی نے دوبارہ ووٹ ڈالا۔ میری بیوی نے حادثے کی وجہ سے ووٹ نہیں ڈالا تھا۔ جو اُسے پیش آیا تھا۔ جس گاڑی کا حادثہ پیش آیا تھا یہ وہ والی گاڑی تھی جو ہم نے ایک مہینہ پہلے ہی پچھلے حادثے کے وجہ سے خریدی تھی۔

اُسی رات میں پہلی 600 کی لڑی میں اپنی باؤلنگ کی لیگ میں 602 کی باؤلنگ کی۔ پچھلے سال میں لیگ کے ممبران کے ذریعے سے نائب صدر کے لیے چُنا گیا تھا۔ سیزن کے خاتمے پر دعوت کے منصوبے کے لیے میں نے مدد حاصل کی۔

اُس دِن میں نے چوتھے ہفتے کے لیے لگا تار فینٹسی فٹ بال کی دونوں گیمیں جیتیں۔ جس نے مجھے لگا تار 8 جیتیں دینے میں تحریک دی۔ میں وہ پہلا شخص تھا جس نے اپنی تمام لیگ میں 1000 پوائنٹ بنائے تھے۔ اب میرا کُل میزان 1021 ہو گیا تھا۔ میری سالگرہ 10/21 ہے۔ یہاں تک کہ میرے پاس بہت سے پوئنٹ ایسے تھے جو دوسرے تمام سے اوپر تھے۔ میری تقسیم میں میں دوسرے درجے میں تھا۔ اور دوسری ٹیم کے ساتھ منسلک ہو گیا۔ ہا ہا ہا۔  میرے پاس اِس سال وقت نہیں تھا کہ میں کھلاڑیوں کا مطالعہ کر سکتا۔ میں نے پچھلے سال والے کھلاڑیوں میں سے 5 کھلاڑیوں کو چُنا میں نے روب کو ناموزوں سے چناؤ کی فہرست دے دی۔ اور پھر میں نے دُعا کی۔ اور روب کو اپنے لیے ٹیم کے چناؤ کا اختیار دے دیا۔ جیسا کہ میں خود کھلاڑیوں کی لِسٹ چیک نہ کر سکا۔ میرے پاس وقت نہیں تھا۔ میں اُس طرح وقت صرف نہیں کرنا چاہتا تھا جس طرح میں نے پچھلے سال کیا تھا۔ اور میں صرف ایک اچھی ٹیم چاہتا تھا۔ اور میں ایک اچھا اظہار چاہتا تھا۔ اورمجھےاُمید تھی کہ میری خوش قسمتی ساتھ ہو گی۔ ہم نے شروع میں کچھ میچز ہارے لیکن میرا ایمان تھا۔ اور ابھی تک کچھ مستی تھی۔ ہم تقریباً سیزن کے درمیان میں تھے۔ میں نتائج سے لطف اندوز ہوں گا، کوئی مسلہ نہیں کہ اِس کا اختتام کیسا ہو گا۔ لیکن میں ٹیم کو دیکھ کی لطف اندوز ہوا۔ اِس ہفتہ میں نے اپنی لیگ میں تمام ٹیموں سے زیادہ سکور کیا۔ میری ٹیم کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ یہ ہوا۔

23 نومبر2003

میری بیوی میرے ساتھ پہلی دفعہ چرچ میں آئی۔ جو کہ بڑی عمدہ بات تھی۔ میں اپنی بیوی کے ساتھ چرچ میں شامل ہونے کے قابل تھا۔ کیونکہ میں نے پیشکش کی تھی کہ اپنی مشترکہ دوست کیتھ کو اپنی وکنگس فٹ بال ٹکٹیں فروخت کی جا سکیں۔ ہم اُسے ڈک کہتے ہیں۔ اُس نے حادثاتی طور پر 2 ڈالر کا چیک کاٹ کر دیا جواُس کے چہرے کی قدروقیمت سے زیادہ تھی۔

30۔ نومبر2003

میرا بیٹا ، میری بیوی اور میں پہلی دفعہ چرچ گئے۔اَے باپ تیراشکریہ!

خبروں کے سیکشن سے رپورٹ دی جا رہی تھی۔ کہ ایک عورت جو شمالی ڈیکوٹا کے شاپنگ مال سے اغواء ہوئی تھی۔ ابھی تک نہیں مِل سکی۔ وہ 22 نومبر کو اغواء ہوئی تھی۔ اور اُس کی عمر 22 سال تھی۔ میں نے غور کیا کہ 22 کے دو واقعات ہوئے ہیں۔ میں نے کچھ محسوس کیا۔ میں نے دعا کی کہ جو شخص اِس کا ذمہ دار ہے۔ اُس پر روشنی چمکے اوروہ پکڑاجائے۔ اور وہ عورت مِل جائے۔ اور مجھے یقین تھا کہ اور بھی بہت سے لوگوں نے یہی دُعا کی تھی۔ میں نے اُس کے لیے دُعا کیوں کی۔ اور ہو سکتا ہے۔ کہ کچھ نے ایسے نہ کی ہو۔ وہ شخص ضرور شیطان کے ہاتھ میں ہو گا۔ جس نے یہ کیا ہے۔ اور وہ یقیناً اتھاہ گڑھے میں ہو گا۔ جہاں پر وہ قیامت کے دِن تک رہے گا۔

یکم دسمبر2003

باؤلنگ کی ایک بڑی زبردست رات نہ تھی۔ لگا تار دوسرےہفتہ میں میں نے تسلسل کے ساتھ باؤلنگ کی تھی۔ میری پہلی گیم 269 کی تھی۔ اور مسلسل 2 دوسرے ہفتےمیری دوسری گیم 224 کی تھی۔ اور میری تیسری گیم 181 کی تھی۔ اِس طرح میرا ٹوٹل 674 کا ہوا۔ اور 269 میری سب سے اچھی گیم تھی۔ جو میں نے آج تک کھیلی تھی۔ پس اُس رات میں نے 2 دو ریکارڈ قائم کیے۔ جو کہ سب سے پُر لطف بات تھی۔ اُس رات میں نے تاش کی 2 دو گیمز جیتیں۔ اور 269 کا سکور انفرادی طور پر سب سے زیادہ سکور تھا۔ اُس رات کو بھی مسلسل 2 دو ہفتوں میں مجھے مالی برکت مِلی۔

جب میں نے باؤلنگ ختم کی۔ تو میں اپنے جوتے تبدیل کرنے کے لیے جوتوں کی مارکیٹ میں گیا۔ اور میں نے دیکھا کہ کِسی نے میرے ٹینس کے کالے جوتے لے لیے ہیں۔ اور وہاں پر دوسرے کالے جوتے پڑے ہوئے تھے۔ اور میں نے اندازہ لگایا کہ وہ غلطی سے میرے جوتے لے گیا ہے۔ لیکن وہ بڑے عمدہ طریقے مجھے پورے آ گئے۔ اور وہ بڑے آرام دہ بھی تھے۔ ہا ہا ہا ۔ نہ صرف یہ کہ وہ صرف باؤلنگ کے لحاظ سے بہت زبردست رات تھی۔ بلکہ مجھے بہت شاندار قسم کے جوتے بھی مِل گئے۔ جو منافع میں تھے۔ ( میں اُنہیں دوسری رات بھی لے کرآیا۔ کہ شاید میرے والے جوتے بھی واپس آئے ہوں۔ لیکن بڑی مزے کی بات تھی کہ میں کِسی اور کے جوتوں میں پورا ہفتہ چلتا رہا۔ ہا ہا ہا۔ میں حیران تھا کہ وہ کون تھا؟

میں باؤلنگ کے بعد گھر واپس آیا۔ اور میں نے سُنا کہ اُس وقت یہ ٹی وی پر یہ خبر چل رہی تھی۔ وہ عورت جس نے ڈکوٹا کے شاپنگ مال کے علاقہ سے اغواء کیا تھا۔ وہ گرفتار ہو گیا ہے۔ اور اُس پر اغواء کو مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ اُن کو عورت کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلاتھا۔ اب یہ کوئی ناقابلِ فہم بات لگ رہی تھی۔ اِس اغواء کا ذمہ دار 6 مہینے پہلے میرے پاس قید تھا۔ اور یکم مئی کو ہی رہا ہوا تھا۔ نہ صرف یہ کہ وہ وہاں قید میں تھا۔ جہاں میں سیکیورٹی آفیسرتھا۔ بلکہ چند سال پہلے وہ میرے یونٹ نمبر 8 میں تھا۔ جہاں میں کام کرتا تھا۔ میں نے اُس آدمی کی تصویر ٹی وی پر دیکھی تھی۔ اور میں اُس لڑکے کےمتعلق جانتا تھا۔ اووہ یہ بڑی پُر اسرار بات تھی۔ میں نے دوبارہ دُعا کی کہ وہ زندہ ہے۔ اور اچھا ہے کہ وہ زندہ ہے۔ آمین!

23 دسمبر2003

روب، مائیک سی اور میں جمعہ کو پہلی بائبل کے مطالعہ میں مِلے۔اور اِس سے پہلےسوموار کو ملناچاہتے &#